حکیم مومن خان مومنؔ: تغزل کا امام اور دبستانِ دہلی کا درخشندہ ستارہ
اردو شاعری کی تاریخ میں حکیم مومن خان مومنؔ ایک ایسی منفرد شخصیت ہیں جن کے کلام نے غزل کو ایک نئی نفاست اور رچاؤ عطا کیا۔ وہ ایک صاحبِ علم عالم، ماہرِ طب اور بلند پایہ شاعر تھے جن کی غزلوں میں عشق و محبت کے نازک معاملات کو جس فنکاری سے بیان کیا گیا ہے، وہ ان کا ہی خاصہ ہے۔
پیدائش اور خاندانی پس منظر
مومنؔ 1800ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق کشمیری نژاد ایک معزز علمی گھرانے سے تھا جو مغل دربار سے وابستہ رہا۔ ان کے والد حکیم غلام نبی خان خود بھی ایک ماہر طبیب تھے۔ مومنؔ کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں علم و فضل کی قدر کی جاتی تھی، یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت میں علمی متانت اور نوابی وقار دونوں پائے جاتے تھے۔
ہمہ جہت شخصیت اور علوم
مومنؔ محض ایک شاعر نہیں تھے بلکہ وہ اپنے دور کے مروجہ علوم پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔ وہ ایک نامور طبیب تھے اور ان کا مطب دہلی میں بہت مشہور تھا۔ اس کے علاوہ انہیں ریاضی، نجوم، موسیقی اور شطرنج میں بھی کمال حاصل تھا۔ ان کے کلام میں جگہ جگہ ان علوم کی جھلکیاں ملتی ہیں، جو ان کی وسعتِ مطالعہ کا ثبوت ہیں۔
شعری اسلوب اور تغزل
مومنؔ کی اصل پہچان ان کی غزل گوئی ہے۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- معاملہ بندی: انہوں نے حسن و عشق کے لطیف جذباتی تجربات کو نہایت نفاست اور صفائی سے بیان کیا۔ ان کے ہاں معاملہ بندی میں وہ عریانی نہیں ملتی جو لکھنوی شعراء کے ہاں عام تھی۔
- نازک خیالی: مومنؔ مشکل اور پیچیدہ مضامین کو غزل کے مختصر کینوس پر سمونے کے ماہر تھے۔ ان کی شاعرانہ اڑان غالبؔ کی طرح بلند تھی مگر ان کا رنگِ سخن جدا تھا۔
- ایجاز و اختصار: وہ بہت کم الفاظ میں بہت بڑی بات کہنے کا ہنر جانتے تھے، جس کی وجہ سے ان کے بہت سے اشعار ضرب المثل بن چکے ہیں۔
مذہبی رجحان اور جہاد سے وابستگی
مومنؔ کی زندگی کا ایک رخ نہایت زاہدانہ بھی تھا۔ وہ سید احمد شہید کی تحریکِ مجاہدین سے متاثر تھے اور ان کے کلام میں مذہبی حمیت اور جوشِ جہاد کے پہلو بھی نمایاں ہیں۔ انہوں نے کئی ایسی مثنویاں بھی لکھیں جو ان کے مذہبی جذبات کی عکاسی کرتی ہیں۔
وفات اور ادبی مقام
اردو کا یہ عظیم شاعر 1851ء میں اپنے گھر کی چھت سے گر کر زخمی ہوا اور اسی کے نتیجے میں انتقال کر گیا۔ مومنؔ کی وفات دہلی کے ادبی افق کے لیے ایک بڑا سانحہ تھی۔ مرزا غالبؔ جیسے عظیم شاعر نے مومنؔ کے ایک شعر کے بدلے اپنا پورا دیوان دینے کی خواہش ظاہر کی تھی، جو مومنؔ کی شاعرانہ عظمت کا سب سے بڑا اعتراف ہے۔ ان کی شاعری آج بھی غزل کے طالب علموں کے لیے ایک دبستان کی حیثیت رکھتی ہے۔