15 فروری 1914 ۔ 22 مارچ 1982

احسان دانش
احسان دانش ایک دبستان علم و ادب کا نام ہے۔ وہ اردو ادب کے ایک درخشاں عہد کی نشانی ہیں۔ اردو ادب کی کوئی بھی صنف ہو، عالمی ادبیات کی کوئی بھی جہت ہو اور معیار ادب کا کوئی بھی اسلوب ہو ہر جگہ اس لافانی ادیب کے افکار کا پرتو دکھائی دیتی ہے۔
مزید

12 نومبر 1923 ۔ 02 ستمبر 2002

احمد راہی
احمد راہی معروف پنجابی شاعر، فلمی کہانی نویس اور نغمہ نگار تھے۔ انہوں نے زیادہ تر پنجابی فلموں میں اپنی خدمات دیں، بطور کہانی نویس ان کی یادگار فلموں میں مرزا جٹ، ہیر رانجھا، ناجو، گُڈو، اُچّا شملہ جٹ دا مشہور ہے کئی فلموں کے گیت لکھے۔
مزید

12 جنوری 1931 ۔ 25 اگست 2008

احمد فراز
خواص اور عوام دونوں میں مقبول، وہ برصغیر کے ان چند شاعروں میں سے ایک تھے جن کی شاعری کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ گایا بھی گیا۔ احمد فراز اپنے عہد کے ان شاعروں میں سے تھے جو ہر بڑے مشاعرے کی مجبوری تھے اوران کے چاہنے والے ان کے اشعار پر بے تحاشہ داد دیا کرتے تھے
مزید

12 نومبر 1915 ۔ 09 مارچ 1996

اختر الایمان
اختر الایمان جدید نظم کے مایہ ناز شاعر ہیں، انہیں 1963ء میں فلم دھرم پوتر میں بہتری مکالمہ کے لیے فلم فیئر اعزاز سے نوازا گیا۔ یہی اعزاز انہیں 1966ء میں فلم ’’وقت‘‘ کے لیے بھی ملا۔ 1962ء میں انہیں اردو میں اپنی خدمات کے لیے ساہتیہ اکیڈمی اعزاز ملا۔ یہ اعزاز ان کا مجموعہ یادیں کے لیے دیا گیا تھا۔
مزید

18 جون 1939 ۔ 18 جون 2012

اختر امام رضوی
خطۂ پوٹھوہار کے خوبصورت شاعر اختر امام رضوی ستر اور اسی کی دہائی میں ادبی حلقوں میں بہت متحرک رہے، تقریباً تمام عمر ریڈیو پاکستان راوالپنڈی سے منسلک رہے اور اپنی خوبصورت آواز کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے نہ صرف ریڈیو بلکہ ٹی وی پر بھی بہت نیا ٹیلیٹ متعارف کروایا
مزید

15 اگست 1932 ۔ 03 جون 1992

اختر حسین جعفری
اختر حسین جعفری (پیدائش: 15 اگست، 1932ء - وفات: 3 جون، 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کی جدید نظم کے ممتاز شاعر تھے۔
مزید

04 مئی 1905 ۔ 09 ستمبر 1948

اختر شیرانی
اختر شیرانی نے صرف 43 برس کی عمر پائی اور اس عمر میں انہوں نے نظم و نثر میں اتنا کچھ لکھا کہ بہت کم لوگ اپنی طویل عمر میں اتنا لکھ پاتے ہیں ۔ اردو تنقید پر اختر شیرانی کا جو قرض ہے وہ اسے ابھی تک پوری طرح ادا نہیں کر پائی ہے۔
مزید

20 اپریل 1918 ۔ 18 مارچ 2007

اختر ہوشیارپوری
نام عبدالسلام اور اختر تخلص ہے۔۲۰؍ اپریل۱۹۱۸ء کو ہوشیار پور، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ بی اے، ایل ایل بی پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ ۱۹۴۷ء میں پاکستان آگئے اور راول پنڈی میں سکونت اختیارکی۔
مزید

22 اگست 1924 ۔ 12 مارچ 2015

ادا جعفری
ادا جعفری ۱۹۲۴ میں پیدا ہوئیں، ان کے شعری مجموعہ شہر درد کو 1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔
مزید

19 اکتوبر 1911 ۔ 05 دسمبر 1955

اسرار الحق مجاز
مجازؔ کی شاعری اردو میں غنائی شاعری کا بیش بہا نمونہ ہے۔ان کے کلام میں عجیب موسیقیت ہے جو ان کو سبھی دوسرے شعراء سے ممتاز کرتی ہے۔ انھوں نے غزلیں بھی کہیں لیکن وہ بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے۔وہ حسن پرست اور عاشق مزاج شاعر تھے
مزید

12 نومبر 1844 ۔ 01 نومبر 1917

اسماعیل میرٹھی
مولوی اسماعیل میرٹھی کا شمار اردو ادب کے ان اہم ترین شعرا میں ہوتا ہے جن میں مولانا الطاف حسین حالی، مولوی محمد حسین آزاد وغیرہ شامل ہیں۔اسماعیل میرٹھی نے بچوں کے لئے بے مثال نظمیں تخلیق کیں
مزید

23 جون 1923 ۔ 15 جنوری 1997

افضل منہاس
نام وزیر احمد اور افضل تخلص تھا۔ضلع چکوال کے ایک گاؤں میں ۲۳؍جون ۱۹۲۳ء کو پیدا ہوئے۔ ساری زندگی راولپنڈی میں گزاری۔ ۱۵؍جنوری ۱۹۹۷ء کو ان کا انتقال ہوا۔
مزید

18 مئی 1932 ۔ 18 مئی 1988

اقبال ساجد
اقبال ساجد پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے دلچسپ لب و لہجے کے شاعر تھے۔اپنا کلام بیچ کر گزارہ کرنے کے حوالے سے ان کو کافی شہرت ملی، ان کے کلام کے خریداروں میں کافی مشہور نام شامل ہیں جو ان الزامات کی تردید کرتے پائے جاتے ہیں
مزید

31 دسمبر 1837 ۔ 31 دسمبر 1914

الطاف حسین حالی
خواجہ الطاف حسین حاؔلی ، ہندوستان میں ’’اردو‘‘ کے نامورشاعر اور نقاد گزرے ہیں۔ حالی کی شاعری زیادہ تر تہہ دار نہیں، اور انہوں نے سیدھے سادے الفاظ میں فلسفہ، تاریخ، معاشرت اور اخلاق کے ایسے پہلو بیان کیے جن کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔
مزید

10 اپریل 1772 ۔ 16 اگست 1838

امام بخش ناسخ
شیخ امام بخش ناسخ کا شمار اردو کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ناسخ جب فیض آباد سے لکھنؤ آئے تو ایک رئیس میر کاظم علی سے منسلک ہو گئے جنھوں نے ناسخ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ان کے انتقال پر اچھی خاصی دولت ناسخ کے ہاتھ آئی۔ انھوں نے لکھنؤ میں بود و باش اختیار کر لی اور فراغت سے بسر کی۔
مزید
امیر مینائی
امیر مینائیؔ: لکھنوی تہذیب کا آخری چراغ اور لغتِ اردو کا معمار
مزید

29 نومبر 1960 ۔ 05 فروری 1986

آنس معین
آنس معین 29 نومبر 1960 میں پیدا ہوئے۔ 1977 میں شعری دنیا میں قدم رکھا۔ 5 فروری 1986ء کو 26 سال کی عمر میں خودکشی کر کے اس دنیا کو خیر باد کہہ دیا۔
مزید

16 دسمبر 1752 ۔ 19 مئی 1817

انشاء اللہ خان انشا
سید انشاء اللہ خان انشا کی ذہانت اور جدت پسندی انہیں اپنے ہم عصروں میں منفرد نہیں بلکہ تاریخ ادب میں بھی ممتاز مقام دلاتی ہے۔ غزل، ریختی، قصیدہ اور بے نقط مثنوی اور اردو میں بے نقط دیوان رانی کیتکی کی کہانی جس میں عربی فارسی کا ایک لفظ نہ آنے دیا۔
مزید

10 اپریل 1935

اکبر حمیدی
اکبر حمیدی کی پچیس سے زائد کتابیں شائع ہوئیں۔ان میں آٹھ شعری مجموعے، انشائیوں کے پانچ مجموعے،خاکوں کے دو مجموعے،تنقیدی مضامین پر مشتمل دو مجموعے،ریڈیو کالموں کا ایک مجموعہ اور ان کی خود نوشت سوانح شامل ہیں۔
مزید

08 اگست 1960 ۔ 06 اپریل 2019

اکبر معصوم
اکبر معصوم اردو غزل کے ایک نمایاں شاعر تھے۔ سن دوہزار کے قریب اْن کاپہلا شعری مجموعہ ’’اور کہاں تک جانا ہے‘‘ شائع ہوا جسے اردو ادب میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔
مزید

20 ستمبر 1905 ۔ 08 جنوری 1972

باقی صدیقی
باقی صدیقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی کے شاعر، ادیب، ڈراما نگار، فیچر رائٹر اور صحافی تھے۔ باقی صدیقی نے بے شمار پوٹھوہاری گیت اور پنجابی فیچر لکھے۔ ان کی پنجابی نظموں میں نہ صرف پوٹھوہاری الفاظ بلکہ پورے پوٹھوہاری معاشرہ کی جھلک ملتی ہے۔
مزید

15 فروری 1935

بشیر بدر
سید محمد بشیر، بشیر بدر کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کی پیدائش 15 فروری 1935 میں، بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں ہوئی۔
مزید

24 اکتوبر 1775 ۔ 07 نومبر 1862

بہادر شاہ ظفر
خاندان مغلیہ کے آخری بادشاہ اور اردو کے ایک بہترین و مایا ناز شاعر اور ابراہیم ذوق کے شاگرد تھے۔ ذوق کی وفات کے بعد مرزا غالب سے شاعری میں رہنمائی حاصل کرتے رہے۔ انگریز کے ہاتھوں جلاوطن ہو جانے کے بعد انہوں نے جو غزلیں لکھیں وہاردو ادب کا اثاثہ ہیں۔
مزید

01 جنوری 1900 ۔ 01 اکتوبر 1974

بہزاد لکھنوی
برصغیر کے ایک معروف شاعر، جن کی پیدائش لکھنؤ میں سن ۱۹۰۰ اور وفات کراچی میں ۱۹۷۴ میں ہوئی۔ قلمی نام بہزاد لکھنوی تھا جبکہ اصل نام سردار حسین خاں اور والد کا نام سجاد حسین خان تھا۔
مزید

01 جنوری 1840 ۔ 01 جنوری 1900

اردو شاعری کے افق پر بیان میرٹھی (۱۸۵۰ء – ۱۹۰۰ء) ایک ایسی قد آور شخصیت ہیں جن کا کلام روایت کی پاسداری اور جدیدیت کی تازگی کا بہترین امتزاج ہے۔ وہ ایک استاد شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین صحافی اور انشا پرداز بھی تھے۔
مزید

17 ستمبر 1857 ۔ 10 نومبر 1912

بیخود بدایونی
اردو غزل کی تاریخ میں بیخود بدایونیؔ کا نام ایک ایسے قادر الکلام شاعر کے طور پر ابھرا جس نے داغ دہلوی کے رنگِ تغزل کو اس کی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ آگے بڑھایا۔ وہ زبان کی صفائی، محاورے کے برجستہ استعمال اور بیان کی شگفتگی میں اپنے استاد کے سچے جانشین معلوم ہوتے ہیں۔
مزید

01 جولائی 1887 ۔ 06 جنوری 1966

تلوک چند محروم
تلوک چند محرومؔ (۱۸۸۷ء تا ۱۹۶۶ء) اردو کے ان جلیل القدر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کو فطرت کی عکاسی، حبِ وطنی اور انسانی ہمدردی کے لیے وقف کیا۔وہ ایک بلند پایہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نہایت شفیق استاد بھی تھے، اور ان کا کلام اپنی سادگی اور اثر انگیزی کی بنا پر ہر خاص و عام میں مقبول رہا
مزید

09 نومبر 1949 ۔ 09 ستمبر 1996

ثروت حسین
ثروت حسین (۱۹۴۹ء تا ۱۹۹۶ء) جدید اردو غزل کے ان چند شعراء میں شامل ہیں جنہیں "شاعروں کا شاعر" کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں جو حیرت، معصومیت اور جمالیاتی وفور ملتا ہے، وہ ان کے ہم عصروں میں مفقود ہے۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جنہوں نے خوابوں اور پرندوں کی زبان میں دکھ کی نئی صورت گری کی۔
مزید

08 فروری 1914 ۔ 18 اگست 1976

جاں نثار اختر
جاں نثار اختر: رومان و انقلاب کا سنگم اور نغمہ گو شاعر
مزید

06 اپریل 1890 ۔ 09 دسمبر 1960

جگر مراد آبادی
جگر مراد آبادی بیسویں صدی کے اردو کے مشہور شاعروں میں سے ایک ہیں۔ بلا کے مے نوش تھے مگر بڑھاپے میں تا ئب ہو گئے تھے
مزید

18 نومبر 1862 ۔ 06 جنوری 1946

جلیل مانک پوری
جلیل مانک پوری عربی اور فارسی کے ماہر اور استاد شاعر تھے۔ شاعری کا آغاز مانکپور سے ہوا۔ امیر مینائی کے شاگرد اور جانشین ہوئے جو اس وقت والیِ رامپور کے استاد تھے۔
مزید

15 اپریل 1951 ۔ 10 فروری 1998

جمال احسانی
جمال احسانی ما بعد جدید پاکستانی شاعروں میں سے ایک، اپنے انفرادی شعری تجربے کے لیے معروف ہوئے۔ جمال احسانی روزنامہ ’’حریت‘، روزنامہ’’سویرا‘‘ اور ’’اظہار‘‘ کراچی سے بھی وابستہ رہے جہاں انھوں نے معاون مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اپنا پرچہ ’’رازدار‘‘ بھی نکالتے رہے۔
مزید

05 دسمبر 1898 ۔ 22 فروری 1982

جوش ملیح آبادی
جوش ملیح آبادی (پیدائش: 5 دسمبر 1898ء - وفات: 22 فروری 1983ء) پورا نام شبیر حسین خاں جوش ملیح آبادی اردو ادب کے نامور اور قادر الکلام شاعر تھے۔ آپ آفریدی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ شاعر انقلاب کے لقب سے بھی جانے جاتے ہیں۔
مزید

14 دسمبر 1937 ۔ 08 نومبر 2002

جون ایلیا
جون ایلیا برصغیر میں نمایاں حیثیت رکھنے والے پاکستانی شاعر، فلسفی، سوانح نگار اور عالم تھے۔ وہ اپنے انوکھے انداز تحریر کی وجہ سے سراہے جاتے تھے۔ جون ایلیا کو عربی، انگریزی، فارسی، سنسکرت اور عبرانی میں اعلیٰ مہارت حاصل تھی۔
مزید

14 اکتوبر 1878 ۔ 13 مئی 1951

’’رئیس المتغزلین‘‘ جناب حسرت موہانی بیسویں صدی کے اردو زبان کے مشہور شاعر اور تحریک آزادی ہند کے کارکن تھے۔
مزید

14 جنوری 1900 ۔ 21 دسمبر 1982

ابو الاثر حفیظ جالندھری پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور مقبول رومانی شاعر اور افسانہ نگار تھے جنھوں نے پاکستان کے قومی ترانہ کے خالق کی حیثیت سے شہرتِ دوام پائی۔ ملکہ پکھراج نے ان کی نظم ابھی تو میں جوان ہوں کو گا کر شہرت دی۔
مزید

05 جنوری 1912 ۔ 10 جنوری 1973

حفیظ نے غزل اور نظم دونوں میں طبع آزمائی کی۔ مگر غزل ان کا محبوب موضوع رہا۔ مشہور شاعر ناصر کاظمی انہی کے شاگرد تھے۔ تاریخ گوئی میں خاص ملکہ حاصل تھا۔
مزید

13 جنوری 1778 ۔ 13 جنوری 1847

حیدر علی آتش
آتش دبستان لکھنؤ کے نمائندہ اور اردو غزل کے ممتاز ترین شعراء میں سے ایک ہیں۔
مزید

25 نومبر 1925 ۔ 07 جولائی 2008

خاطر غزنوی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور ہندکو کے ممتاز شاعر، ادیب، نقاد، پشاور یونیورسٹی کے استاد اور اکادمی ادبیات پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل تھے۔ خاطر غزنوی جدید اردو اور ہندکو شاعری اور نثر میں ایک منفرد حیثیت کے حامل تھے۔
مزید

01 جنوری 1721 ۔ 01 جنوری 1785

خواجہ میر درد
خواجہ میر درد اردو کے مشہور شاعر تھے۔ خواجہ میر دردؔ کو اردو میں صوفیانہ شاعری کا امام کہا جاتا ہے۔میر درد کو کلاسیکی اردو شاعری کے دہلی اسکول کے تین عظیم شاعروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے
مزید

25 مئی 1831 ۔ 17 مارچ 1905

داغ دہلوی
داغ دہلوی اردو غزل کے چند بڑے شعرا میں سے ایک ہیں۔ ان کے شاگردوں کا سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی جیسے معروف شاعر وں کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے جانشین نوح ناروی بھی ایک معروف شاعر ہیں۔
مزید

01 جنوری 1926 ۔ 05 اگست 1982

رئیس فروغ: جدید اردو غزل کا ایک دھیما اور گہرا لہجہ
مزید

05 جنوری 1928 ۔ 05 جنوری 2018

رسا چغتائی ایک پاکستانی اردو شاعر تھے جن کے دو مجموعہ کلام زنجیر ہمسائیگی اور تیرے آنے کا انتظار رہا شائع ہوئے۔
مزید
رفاقت حیات
رفاقت حیات کراچی میں مقیم اردو افسانہ نگار اور ناول نگار ہیں۔ وہ اردو فکشن کی دنیا کا ایک بے حد اہم نام ہیں۔
مزید

14 مئی 1936

زہرا نگاہ پاکستان سے تعلق رکھنے و الی اردو زبان کی نامور شاعرہ ہیں۔مشہور ڈراما نویس فاطمہ ثریا بجیا آپ کی بڑی بہن اور مقبول عام ہمہ جہت رائٹر انور مقصود بھائی ہیں۔
مزید

31 اکتوبر 1954 ۔ 04 جنوری 1984

سارہ شگفتہ وہ اردو اور پنجابی میں شاعری کرتی تھیں۔ ان کی شاعری کی مرغوب صنف نثری نظم تھی جو ان کے ایک الگ اسلوب سے مرصع تھی۔
مزید

01 جنوری 1934 ۔ 01 جنوری 2008

سدرشن فاکر: سادگی اور نوٹسٹیلجیا کا لازوال شاعر
مزید

25 مارچ 1912 ۔ 06 مئی 1972

سراج الدین ظفر
سراج الدین ظفر اردو زبان کے پاکستان سے تعلق رکھنے و الے نامور شاعر اور افسانہ نگار تھے۔ جنہوں نے اردو شاعری میں اپنا بھرپور تاثر قائم کیا۔
مزید

01 جولائی 1921 ۔ 19 نومبر 1973

سلام مچھلی شہری (۱۹۲۱ء تا ۱۹۷۳ء) اردو ادب کے وہ نامور اور مقبول شاعر ہیں جنہوں نے نظم، غزل اور گیت نگاری میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔ ان کے ہاں رومانیت اور ترقی پسند فکر کا ایک نہایت متوازن امتزاج ملتا ہے، جو انہیں اپنے ہم عصروں میں نمایاں کرتا ہے۔
مزید

01 جنوری 1916 ۔ 16 مئی 1999

سید ضمیر جعفری
ضمیر جعفری اردو کے ممتاز مزاح نگار اور شاعر ہیں۔ انکا پورا نام سید ضمیر حسین جعفری تھا۔ 1 جنوری 1916ء کو جہلم کے ساتھ ایک گاؤں چک عبدالخالق میں پیدا ہوئے۔ تعلیم جہلم، اٹک اور لاہور سے حاصل کی۔
مزید

27 دسمبر 1905 ۔ 07 نومبر 1976

سید محمد جعفری (۱۹۰۵ء تا ۱۹۷۶ء) اردو مزاحیہ شاعری کا وہ معتبر نام ہیں جنہوں نے طنز و مزاح کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے قومی شعور اور اصلاحِ معاشرہ کا ایک توانا ہتھیار ثابت کیا۔ ان کی شاعری میں الفاظ کی کاٹ ایسی تھی کہ وہ بڑی سے بڑی سماجی برائی کا پردہ نہایت شائستگی سے چاک کر دیتے تھے۔
مزید

20 مارچ 1922 ۔ 12 جولائی 1993

سیف الدین سیفؔ (۱۹۲۲ء تا ۱۹۹۳ء) اردو غزل کے وہ نغمہ گر تھے جن کے لہجے کی مٹھاس اور گداز نے انہیں ہر دل عزیز بنا دیا۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے غزل کی کلاسیکی نفاست کو فلمی نغمہ نگاری کے وسیع کینوس پر اس مہارت سے بکھیرا کہ فلمی گیت بھی ادبِ عالیہ کا حصہ بن گئے۔
مزید

16 نومبر 1846 ۔ 09 ستمبر 1921

سیماب اکبر آبادی اردو کے نامور اور قادرالکلام شاعر تھے۔ ان کے تقریباً ڈھائی ہزار شاگرد تھے سیماب اکبر آبادی کو ’’تاج الشعرا‘‘، ’’ناخدائے سخن‘‘ بھی کہا گیا۔ داغ دہلوی کے داماد سائل دہلوی سیماب کو جانشینِ داغ کہا کرتے تھے۔
مزید

08 جنوری 1846 ۔ 07 جنوری 1927

شاد عظیم آبادی اردو کے اک بڑے اور اہم شاعر، دانشور، محقق، تاریخ داں اور اعلیٰ پایہ کے نثر نگار تھے۔
مزید

31 جنوری 1933 ۔ 18 اگست 1985

شاذ تمکنت (۱۹۳۳ء تا ۱۹۸۵ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے حیدرآباد دکن کی کلاسیکی ادبی روایت کو جدید فکری جہتوں کے ساتھ زندہ رکھا۔
مزید

15 دسمبر 1917 ۔ 11 نومبر 2005

شان الحق حقی اردو زبان کے ممتاز ماہر لسانیات، محقق، نقاد، مترجم اور مدیر اور شاعر تھے۔ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کو تمغۂ امتیاز اور تمغۂ قائد اعظم کے اعزازات ملے
مزید

03 جون 1857 ۔ 18 نومبر 1914

سرسید احمد خان کے ہمدم جناب علامہ شبلی نعمانی اردو کے بہترین شاعر، دانشور اور محقق تھے۔ 1892ء میں روم اور شام کا سفر کیا۔ 1898ء میں ملازمت ترک کرکے اعظم گڑھ آ گئے۔ 1913ء میں دار المصنفین کی بنیاد ڈالی۔ 1914ء میں انتقال ہوا۔
مزید

01 اکتوبر 1934 ۔ 12 نومبر 1966

شکیب جلالی
جدید اردو غزل کی آبرو، شکیب جلالی برِّصغیر کے مقبول ترین شاعروں میں سے ایک ہیں۔ اردو ادب کے حلقوں میں پہلے ہی ان کا نام ایک چونکا دینے والے شاعر کے طور پر سامنے آ چکا تھا لیکن جواں سالی میں خودکشی کی وجہ سے ہر خاص و عام کی نظر میں آئے اور اپنی شاندار غزلوں سے لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئے
مزید

03 اگست 1916 ۔ 20 اپریل 1970

شکیل بدایونی مشہور ہندوستانی شاعر جنہوں نے سو سے زائد فلموں کے لیے گیت لکھے۔ جو بہت زیادہ مقبول ہوئے۔ جس میں مغل اعظم کے گیت سر فہرست ہیں۔
مزید

01 اگست 1790 ۔ 01 نومبر 1854

شیخ ابراہیم ذوق
مغلیہ سلطنت کے برائے نام بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے عہد میں، ملک الشعراء کے خطاب سے نوازے جانے والے ذوق اپنے زمانہ کے دوسرے اہم شاعروں غالب اور مومن سے بڑے شاعر مانے جاتے تھے.
مزید

02 فروری 1923 ۔ 14 اگست 2005

ضیا جالندھری: جدید اردو نظم کا معتبر نام اور حلقہ اربابِ ذوق کے ترجمان
مزید

21 اگست 1919 ۔ 12 دسمبر 1994

ظہیر کاشمیری: انقلاب اور رومان کا سنگم
مزید

10 جولائی 1935 ۔ 11 مئی 1991

عالم تاب تشنہ
نام سید عالم تاب علی اور تخلص تشنہ تھا۔۲۰؍اپریل ۱۹۳۵ء کو میرٹھ میں پید اہوئے۔ میرٹھ سے ایم اے کیا۔ اپریل ۱۹۵۹ء میں پاکستان آگئے۔
مزید

10 اپریل 1910 ۔ 10 مارچ 1981

عبدالحمید عدم
عبد الحمید عدم عبد الحمید عدم پاکستان کے نامور شاعر ہیں جو رومانی غزلوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
مزید

12 جون 1939 ۔ 18 مئی 1998

عبید اللہ علیمؔ (۱۹۳۹ء تا ۱۹۹۸ء) جدید اردو غزل کے ان چند چنیدہ شعراء میں سے ہیں جنہوں نے غزل کے روایتی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک نئی معاصر حسیت اور لہجے کا بانکپن عطا کیا۔ انہیں "خوابوں کا شاعر" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے کلام میں ایک خاص طرح کی رومانوی فضا اور جذباتی سچائی ملتی ہے۔
مزید

11 مارچ 1939 ۔ 15 اپریل 2004

عرفان صدیقی
عرفان صدیقی جدید اردو غزل کے ان چند معتبر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے عصری حسیت کے ساتھ اس طرح جوڑا کہ ان کا لہجہ منفرد اور توانا ہو گیا۔ ان کی شاعری میں کربلا کا استعارہ اور ہجرت کے دکھ ایک نئے رنگ میں ڈھل کر سامنے آئے۔
مزید

15 جون 1922 ۔ 23 اپریل 1991

عزیز حامد مدنی (۱۹۲۲ء تا ۱۹۹۱ء) اردو کی جدید غزل کے ان چند معتبر اور توانا لہجوں میں سے ہیں جنہوں نے غزل کے روایتی کینوس میں جدید فکری اور فلسفیانہ رنگ بھرے۔ وہ ایک نہایت زیرک نقاد، ماہرِ لسانیات اور بلند پایہ شاعر تھے
مزید

29 نومبر 1913 ۔ 01 اگست 2000

علی سردار جعفری (۱۹۱۳ء تا ۲۰۰۰ء) ترقی پسند تحریک کے ان جلیل القدر ستونوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی شاعری کو انسانی حقوق، امن اور سماجی انصاف کا ترجمان بنایا۔ وہ ایک انقلابی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک گہرے نقاد، مدبر اور صحافی بھی تھے۔ ان کی زندگی کا مقصد قلم کے ذریعے ایک ایسی دنیا کی تشکیل تھی جہاں
مزید

04 ستمبر 1944 ۔ 20 فروری 1999

غلام محمد قاصرؔ (۱۹۴۴ء تا ۱۹۹۹ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر اور منفرد شعراء میں سے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے روایت اور جدت کے درمیان ایک ایسا پل تعمیر کیا جس پر چل کر نئی نسل کے بہت سے شعراء نے اپنا راستہ تلاش کیا۔ ان کا لہجہ نہایت شائستہ، دھیما اور فکر انگیز تھا
مزید

11 نومبر 1917 ۔ 13 اپریل 1997

فارغ بخاری (۱۹۱۷ء تا ۱۹۹۷ء) پشتو اور اردو دونوں زبانوں کے ایک نہایت معتبر ادیب، شاعر اور محقق تھے۔ انہوں نے پشاور کی ادبی شناخت کو عالمی سطح پر روشناس کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ نہ صرف ایک ترقی پسند شاعر تھے بلکہ ایک بے باک صحافی اور کمال کے خاکہ نگار بھی تھے۔
مزید

13 ستمبر 1879 ۔ 27 اگست 1961

فانی بدایونی (۱۸۷۹ء تا ۱۹۴۱ء) اردو غزل کے وہ منفرد شاعر ہیں جنہیں "یاسیت کا امام" کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری غم اور موت کے فلسفے کے گرد گھومتی ہے، مگر اس غم میں ایک ایسی فنی بلندی اور وقار ہے کہ وہ قاری کو مایوس کرنے کے بجائے انسانی وجود کی حقیقتوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
مزید

28 اگست 1996 ۔ 03 مارچ 1982

فراق گورکھپوری (۱۸۹۶ء تا ۱۹۸۲ء) اردو غزل کے وہ قد آور ستون ہیں جنہوں نے اردو شاعری کو ہندوستانی تہذیب کے رس اور انگریزی ادب کی وسعتِ فکر سے ہم آہنگ کیا۔ وہ ایک ایسے عہد ساز شاعر اور نقاد تھے جن کے بغیر اردو غزل کی تاریخ ادھوری ہے۔
مزید

13 فروری 1911 ۔ 20 نومبر 1984

فیض احمد فیض
اردو کے مشہور شاعراور انجمن ترقی پسند مصنفین تحریک کے فعال رکن اور ایک ممتاز اِشتراکیت سٹالنسٹ فکر کے کمیونسٹ تھے۔
مزید

27 اگست 1931 ۔ 03 اکتوبر 1962

قابل اجمیری (۱۹۳۳ء تا ۱۹۶۲ء) اردو غزل کے ان چند بدنصیب مگر عظیم شعراء میں سے ہیں جنہیں قدرت نے بہت کم وقت دیا، مگر اس قلیل عرصے میں انہوں نے وہ مقام حاصل کر لیا جو صدیوں کی ریاضت سے نصیب ہوتا ہے۔ وہ ایک ایسے نو عمر عبقری تھے جن کے شعور کی پختگی دیکھ کر بڑے بڑے اساتذہ دنگ رہ جاتے تھے۔
مزید

24 دسمبر 1919 ۔ 11 جولائی 2001

قتیل شفائی (۱۹۱۹ء تا ۲۰۰۱ء) اردو غزل اور فلمی نغمہ نگاری کا وہ معتبر نام ہیں جنہوں نے سادگی اور سلاست کو فن کی بلندی عطا کی۔ وہ ایک ایسے عوامی شاعر تھے جن کے کلام کی خوشبو گلی کوچوں سے لے کر بڑے بڑے ایوانوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ ان کی شاعری میں بہت نغمگی اور موسیقیت ہے
مزید

04 اکتوبر 1888 ۔ 04 اکتوبر 1968

قمر جلالوی
قمرجلالوی کلاسیکی اردو غزل کے بہتریں کلاسیکل شاعروں میں شمار کیا جاتا ہے. ان کی غزل شاعری اظہار اور حسیت کے منفرد شاعر ہیں
مزید

08 مارچ 1913 ۔ 24 جون 1989

قیوم نظر (۱۹۱۴ء تا ۱۹۸۹ء) اردو ادب میں جدید نظم کے ان معماروں میں سے ہیں جنہوں نے "حلقہ اربابِ ذوق" کے پلیٹ فارم سے اردو شاعری کو ایک نئی سمت اور نیا مزاج عطا کیا۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جنہوں نے روایتی بندشوں سے آزاد ہو کر انسانی نفسیات اور مظاہرِ فطرت کو ایک انوکھے انداز میں بیان کیا۔
مزید

01 جون 1938 ۔ 15 مارچ 2015

ماجد صدیقی اردو اور پنجابی ادب کا وہ قد آور نام ہیں جن کی تخلیقی صلاحیتوں نے دونوں زبانوں کو مالا مال کیا ہے۔ ایک شاعر، مترجم، اور کمال کے نثر نگار کی حیثیت سے ان کا کام جدید ادب میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
مزید

17 جون 1920 ۔ 24 مئی 2000

مجروح سلطان پوری (۱۹۱۹ء تا ۲۰۰۰ء) اردو غزل اور فلمی دنیا کا وہ درخشندہ ستارہ ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ ایک نظریاتی شاعر اپنی انقلابی فکر کے ساتھ بھی غزل کی نزاکت اور تغزل کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے شعراء میں شامل تھے
مزید

29 جون 1914 ۔ 11 مئی 1974

مجید امجد
مجید امجدؔ اردو نظم کا وہ ہمالہ ہیں جس کی بلندی کا اندازہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہو رہا ہے۔ وہ ایک ایسے منفرد تخلیق کار تھے جنہوں نے کائنات کے ذرے ذرے میں زندگی کا سراغ لگایا اور اردو نظم کو وہ وسعت عطا کی جو اس سے پہلے خواب لگتی تھی۔
مزید

01 جولائی 1930 ۔ 04 دسمبر 2013

محبوب خزاں (۱۹۲۹ء تا ۲۰۱۳ء) اردو غزل کے ان شعراء میں سے ہیں جنہوں نے خاموشی اور درویشی کے ساتھ ادب کی وہ خدمت کی جو بڑے بڑے شور و غوغا کرنے والے نہ کر سکے۔ وہ جدید غزل کے ایک ایسے معتبر اور ثقہ شاعر تھے جن کے ہاں لفظوں کا استعمال ایک خاص سلیقے اور احتیاط کا مرہونِ منت ہوتا تھا۔
مزید

15 اکتوبر 1933 ۔ 22 ستمبر 2010

محسن احسان (۱۹۳۲ء تا ۲۰۱۰ء) خیبر پختونخوا کی مٹی سے اٹھنے والے اردو ادب کے وہ معتبر شاعر اور مترجم تھے جنہوں نے پشاور کے ادبی منظر نامے کو ایک عالمی پہچان عطا کی۔ وہ ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے جن کے کلام میں سرحدوں کے آخری سرے کی خوشبو اور جدید عہد کی فکری گہرائی یکجا ملتی ہے۔
مزید

05 مئی 1947 ۔ 15 جنوری 1996

محسن نقوی (۱۹۴۷ء تا ۱۹۹۶ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر اور مقبول ترین شعراء میں سے ہیں جنہیں "خوشبوؤں کا شاعر" اور "احساس کا ترجمان" کہا جاتا ہے۔
مزید

01 جنوری 1713 ۔ 01 جنوری 1781

مرزا رفیع سودا
مرزا محمد رفیع سودا کو اردو قصیدہ نگاری میں وہی مقام حاصل ہے جو غزل میں میر اور غالب کو حاصل ہے
مزید

27 دسمبر 1797 ۔ 15 فروری 1869

مرزا غالب
مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ اردو ادب کا وہ آفتاب ہیں جس کی شعاعیں رہتی دنیا تک فکر و فن کو منور کرتی رہیں گی۔ غالبؔ صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک عظیم مفکر تھے جنہوں نے انسان کے داخلی وجود اور کائنات کے سربستہ رازوں کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ان کی شاعری ہر عہد اور ہر طبقے کے لیے نیا مفہوم رکھتی ہے
مزید

01 جنوری 1747 ۔ 01 جنوری 1824

مصحفی غلام ہمدانی
شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی (1748۔1824ء) اردو زبان کے کلاسیکی اور عہدِ قدیم کے شاعر ہیں۔ میر تقی میر کے بعد بحیثیتِ مجموعی اردو شاعری کے دورِ قدیم میں مصحفی، مرتبہ میں سب سے بلند ہے۔
مزید

27 دسمبر 1809 ۔ 11 جولائی 1869

مصطفٰی خان شیفتہ
نواب مصطفٰی خان شیفتہ جہانگیر آباد کے جاگیردار، اردو فارسی کے باذوق شاعر اور نقاد تھے۔
مزید

16 اکتوبر 1930 ۔ 12 اکتوبر 1970

مصطفیٰ زیدی (۱۹۳۰ء تا ۱۹۷۰ء) جدید اردو غزل کے ان چند چنیدہ شعراء میں سے ہیں جن کے ہاں شدتِ جذبات اور جمالیاتی حسیت اپنے عروج پر ملتی ہے۔ وہ ایک بلند پایہ سرکاری افسر بھی تھے، مگر ان کی اصل شناخت ان کی وہ شاعری بنی جس نے اردو غزل کو ایک نیا رومانوی اور احتجاجی رنگ عطا کیا۔
مزید

14 مئی 1800 ۔ 14 مئی 1851

مومن خان مومن
حکیم مومن خان مومنؔ (۱۸۰۰ء تا ۱۸۵۱ء) اردو غزل کے ان تین ستونوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے دہلی کی شعری روایت کو بامِ عروج پر پہنچایا۔ جہاں غالبؔ اپنی فکر اور ذوقؔ اپنی زبان دانی کے لیے مشہور تھے، وہاں مومنؔ اپنے مخصوص تغزل، معاملہ بندی اور نازک خیالی کی وجہ سے ممتاز تھے۔
مزید

10 دسمبر 1803 ۔ 10 دسمبر 1874

میر انیس
میر ببر علی انیسؔ (۱۸۰۳ء تا ۱۸۷۴ء) اردو ادب کے وہ آفتاب ہیں جن کے دم سے مرثیہ نگاری کو وہ عروج ملا جس کی مثال پوری عالمی ادبی تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ انہوں نے اردو زبان کو وہ وسعت، الفاظ کا ذخیرہ اور بیانیہ قوت عطا کی کہ انہیں "اردو کا ہومر" اور "اردو کا شیکسپیئر" بھی کہا جاتا ہے۔
مزید

20 ستمبر 1810 ۔ 28 مئی 1723

15 مئی 1833 ۔ 15 مئی 1903

میر مہدی مجروح
میر مہدی مجروحؔ (۱۸۳۳ء تا ۱۹۰۳ء) مرزا غالبؔ کے ان محبوب ترین شاگردوں میں سے تھے جن کا ذکر غالبؔ کے خطوط میں نہایت محبت اور اپنائیت سے ملتا ہے۔ غالبؔ انہیں اکثر "میر مہدی" کہہ کر پکارتے تھے اور ان کی بذلہ سنجی اور ذہانت کے مداح تھے۔
مزید

25 مئی 1912 ۔ 03 نومبر 1949

میرا جی (۱۹۱۲ء تا ۱۹۴۹ء) اردو ادب کی ان چند پراسرار اور پیچیدہ شخصیتوں میں سے ہیں جن کے بغیر جدید نظم کی تاریخ ادھوری ہے۔ انہیں اردو کا "باؤلا" شاعر بھی کہا گیا اور جدیدیت کا امام بھی۔
مزید

01 اکتوبر 1910 ۔ 01 اکتوبر 1975

ن م راشد
ن م راشد حقیقی معنوں میں ایک رحجان ساز شاعر ہیں۔ لیکن ہم پورے وثوق کے ساتھ ن م راشدؔ کو ایسا شاعر قرار د ے سکتے ہیں کیوں کہ انھوں نے نہ صرف اردو میں آزاد نظم کو متعارف کروایا بلکہ اردو شاعری کو جدت بخشی اور نیا مِزاج عطا کیا۔
مزید

08 دسمبر 1925 ۔ 02 مارچ 1972

ناصر کاظمی (۱۹۲۵ء تا ۱۹۷۲ء) جدید اردو غزل کے وہ آبرو ہیں جنہوں نے ہجرت کے دکھ اور ماضی کی یادوں کو ایک نئی جمالیاتی زبان عطا کی۔ وہ میر تقی میرؔ کی روایت کے سچے جانشین تھے، مگر ان کا دکھ انفرادی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پوری نسل کا نوحہ بھی تھا۔
مزید

12 اکتوبر 1938 ۔ 08 فروری 2016

ندا فاضلی (۱۹۳۸ء تا ۲۰۱۶ء) جدید اردو اور ہندی ادب کا ایک ایسا معتبر نام ہیں جنہوں نے لفظوں کو ایک نیا سماجی اور انسانی تناظر عطا کیا۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے پیچیدہ فلسفوں کو روزمرہ کی سادہ زبان میں ڈھال کر عام آدمی کے دل کی دھڑکن بنا دیا۔
مزید

18 ستمبر 1879 ۔ 10 اکتوبر 1962

یاور صاحب، نوحؔ ناروی (۱۸۷۹ء تا ۱۹۶۲ء) اردو غزل کی اس کلاسیکی روایت کے امین تھے جس نے داغؔ دہلوی کے رنگِ سخن کو بیسویں صدی میں زندہ رکھا۔ وہ داغؔ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے اور انہیں "جانشینِ داغ" کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔
مزید

14 فروری 1920 ۔ 14 فروری 2015

کلیم عاجز (۱۹۲۶ء تا ۲۰۱۵ء) اردو غزل کے ان آخری درویشوں میں سے تھے جنہوں نے جدید دور میں میر تقی میرؔ کے سوز و گداز اور سادگی کو دوبارہ زندہ کیا۔ وہ ایک ایسی منفرد شخصیت تھے جن کی شاعری میں دل کا لہو اور آنکھوں کے آنسو لفظ بن کر ڈھل گئے تھے
مزید

24 جولائی 1920 ۔ 24 جولائی 1991

کیف بھوپالی بھوپال کی زرخیز ادبی زمین کا وہ پودا تھے جو مشاعروں کی دنیا میں ایک تناور درخت بن کر ابھرا۔ کیف بھوپالی محض ایک شاعر نہیں تھے بلکہ وہ ایک "محفل" تھے؛ ان کا اندازِ بیان اور سادہ مگر دل میں اتر جانے والے اشعار سامعین پر سحر طاری کر دیتے تھے۔
مزید

14 جنوری 1919 ۔ 10 مئی 2002

کیفی اعظمی
کیفی اعظمی (۱۹۱۸ء تا ۲۰۰۲ء) ترقی پسند تحریک کے ان ستونوں میں سے ہیں جنہوں نے شاعری کو محلوں اور خوابوں سے نکال کر مزدوروں کی بستیوں اور انقلاب کے میدانوں تک پہنچا دیا۔
مزید

18 دسمبر 1971

یاور ماجد
یاور ماجد اپنے اسلوب کے باعث اردو شاعری کی دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں، نظم اور غزل کے علاوہ بچوں کی شاعری میں خصوصی دلچسپی لیتے ہیں۔ بچوں کے لیے کئی طویل اور مختصر نظمیں لکھ چکے ہیں جن میں تھیوڈور سوس گائزل (ڈاکٹر سوس) کی طویل نظموں کے منظوم تراجم بھی شامل ہیں۔ یاور کو گانے سے بھی دلچسپی ہے
مزید

17 اکتوبر 1884 ۔ 04 فروری 1956

یگانہ چنگیزی
یگانہؔ ایک کلاسیکی غزل گو شاعر تھے۔ حالانکہ انہوں نے قطعات و رباعیات بھی کہی ہیں لیکن ان کی اصل پہچان ان کی غزلیں ہی ہیں۔ گو کہ وجہ شہرت یہی ہے کہ خود کو غالب سے بڑا شاعر سمجھتے تھے۔
مزید