شیخ غلام ہمدانی مصحفیؔ: دبستانِ دہلی و لکھنؤ کے سنگم اور عظیم استاد
اردو شاعری کی تاریخ میں شیخ غلام ہمدانی مصحفیؔ ایک ایسی عہد ساز شخصیت ہیں جنہوں نے کلاسیکی غزل کو ایک نیا وقار اور اسلوب عطا کیا۔ وہ ایک ایسے قادر الکلام شاعر تھے جن کا ادبی سفر دہلی کی اجڑی ہوئی بستیوں سے شروع ہو کر لکھنؤ کے پُررونق درباروں تک پھیلا ہوا تھا۔ ان کی شاعری میں میرؔ کا سوز اور سوداؔ کا شکوہ ایک نئے رنگ میں یکجا نظر آتا ہے۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی
مصحفیؔ 1750ء میں یوپی کے قصبے اکبر پور (ضلع امروہہ) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام غلام ہمدانی تھا اور مصحفیؔ ان کا شعری تخلص تھا۔ ان کی پرورش ایک علمی ماحول میں ہوئی اور انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں ہی حاصل کی۔ علم و ادب کی جستجو انہیں پہلے دہلی اور پھر لکھنؤ لے گئی، جہاں انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
دہلی کا قیام اور شعری عروج
مصحفیؔ نے اپنی جوانی کا ایک بڑا حصہ دہلی میں گزارا۔ یہ وہ دور تھا جب دہلی سیاسی طور پر زوال کا شکار تھی مگر ادبی طور پر وہاں میرؔ اور سوداؔ جیسے اساتذہ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ مصحفیؔ نے اس ماحول سے بھرپور استفادہ کیا اور بہت جلد اپنی استادی کا سکہ جما لیا۔ ان کا شمار ان شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے دہلی کی مستند زبان کو اپنی غزلوں کا حصہ بنایا۔
لکھنؤ کی ہجرت اور ادبی معرکے
دہلی کے بگڑتے ہوئے حالات کے باعث مصحفیؔ نے لکھنؤ کا رخ کیا جہاں نوابوں کی سرپرستی میں علم و ادب کی محفلیں سجی ہوئی تھیں۔ لکھنؤ میں ان کا قیام نہایت ہنگامہ خیز رہا۔ وہاں ان کی معاصرت انشاء اللہ خان انشاءؔ سے رہی، اور ان دونوں شعراء کے درمیان ہونے والے ادبی معرکے اردو ادب کی تاریخ کا ایک نہایت دلچسپ اور اہم باب ہیں۔ ان معرکوں نے اگرچہ مصحفیؔ کی زندگی میں تلخیاں پیدا کیں، مگر ان کے فن کو مزید جلا بخشی۔
ادبی خدمات اور فن
مصحفیؔ ایک کثیر التصانیف شاعر تھے۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- جامعیت: ان کے کلام میں دہلی کا سوز و گداز اور لکھنؤ کی رعایتِ لفظی و شگفتگی دونوں کا حسین امتزاج ملتا ہے۔
- تذکرہ نگاری: شاعری کے علاوہ وہ ایک بہترین تذکرہ نگار بھی تھے۔ ان کے لکھے ہوئے تذکرے 'عقدِ ثریا' اور 'تذکرہ ہندی' اردو شعراء کے حالات جاننے کے لیے بنیادی مآخذ تسلیم کیے جاتے ہیں۔
- فنِ استادی: وہ اپنے دور کے سب سے بڑے استاد مانے جاتے تھے اور سینکڑوں شعراء ان سے اپنے کلام پر اصلاح لیتے تھے۔
تصانیف اور مجموعے
مصحفیؔ کا شعری سرمایہ نہایت ضخیم ہے۔ انہوں نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں کلام تخلیق کیا۔ ان کے اردو دیوانوں کی تعداد آٹھ ہے، جو ان کی وسعتِ فکر اور تخلیقی روانی کا بین ثبوت ہیں۔ ان کے مجموعوں میں غزلوں کے علاوہ قصائد، مثنویاں اور دیگر اصنافِ سخن بھی کثرت سے موجود ہیں۔
وفات اور ادبی مقام
اردو کا یہ عظیم استاد 1824ء میں لکھنؤ میں وفات پا گیا۔ مصحفیؔ نے اردو غزل کو جو شائستگی اور لسانی پختگی عطا کی، اس نے آنے والے شعراء کے لیے راستے ہموار کیے۔ وہ ایک ایسے شاعر ہیں جن کا مطالعہ کیے بغیر اردو غزل کے ارتقائی سفر کو سمجھنا ناممکن ہے۔