16 اکتوبر 1930 ۔ 12 اکتوبر 1970

مصطفیٰ زیدی
مصطفیٰ زیدی (۱۹۳۰ء تا ۱۹۷۰ء) جدید اردو غزل کے ان چند چنیدہ شعراء میں سے ہیں جن کے ہاں شدتِ جذبات اور جمالیاتی حسیت اپنے عروج پر ملتی ہے۔ وہ ایک بلند پایہ سرکاری افسر بھی تھے، مگر ان کی اصل شناخت ان کی وہ شاعری بنی جس نے اردو غزل کو ایک نیا رومانوی اور احتجاجی رنگ عطا کیا۔
مزید

17 اکتوبر 1884 ۔ 04 فروری 1956

یگانہ چنگیزی
یگانہؔ ایک کلاسیکی غزل گو شاعر تھے۔ حالانکہ انہوں نے قطعات و رباعیات بھی کہی ہیں لیکن ان کی اصل پہچان ان کی غزلیں ہی ہیں۔ گو کہ وجہ شہرت یہی ہے کہ خود کو غالب سے بڑا شاعر سمجھتے تھے۔
مزید

15 اکتوبر 1933 ۔ 22 ستمبر 2010

محسن احسان
محسن احسان (۱۹۳۲ء تا ۲۰۱۰ء) خیبر پختونخوا کی مٹی سے اٹھنے والے اردو ادب کے وہ معتبر شاعر اور مترجم تھے جنہوں نے پشاور کے ادبی منظر نامے کو ایک عالمی پہچان عطا کی۔ وہ ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے جن کے کلام میں سرحدوں کے آخری سرے کی خوشبو اور جدید عہد کی فکری گہرائی یکجا ملتی ہے۔
مزید

14 اکتوبر 1878 ۔ 13 مئی 1951

حسرت موہانی
’’رئیس المتغزلین‘‘ جناب حسرت موہانی بیسویں صدی کے اردو زبان کے مشہور شاعر اور تحریک آزادی ہند کے کارکن تھے۔
مزید

19 اکتوبر 1911 ۔ 05 دسمبر 1955

اسرار الحق مجاز
مجازؔ کی شاعری اردو میں غنائی شاعری کا بیش بہا نمونہ ہے۔ان کے کلام میں عجیب موسیقیت ہے جو ان کو سبھی دوسرے شعراء سے ممتاز کرتی ہے۔ انھوں نے غزلیں بھی کہیں لیکن وہ بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے۔وہ حسن پرست اور عاشق مزاج شاعر تھے
مزید

12 اکتوبر 1938 ۔ 08 فروری 2016

ندا فاضلی
ندا فاضلی (۱۹۳۸ء تا ۲۰۱۶ء) جدید اردو اور ہندی ادب کا ایک ایسا معتبر نام ہیں جنہوں نے لفظوں کو ایک نیا سماجی اور انسانی تناظر عطا کیا۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے پیچیدہ فلسفوں کو روزمرہ کی سادہ زبان میں ڈھال کر عام آدمی کے دل کی دھڑکن بنا دیا۔
مزید

مجھ کو یہ ڈر ہے کہ لائیں نہ یہ طوفاں تجھ بن

مصحفی غلام ہمدانی


ہر دم آتے ہیں بھرے دیدۂِ گریاں تجھ بن
مجھ کو یہ ڈر ہے کہ لائیں نہ یہ طوفاں تجھ بن
لالہ و گل کی طرف کس کی بلا دیکھے ہے
جی کو بھاتی ہی نہیں سیر گلستاں تجھ بن
آ گیا بسکہ خلل مذہب و ملت میں مری
نہ رہا گبر میں پیارے نہ مسلماں تجھ بن
دل گیا دین گیا صبر گیا تاب گئی
یوں ہی اپنے تو ہوئے سیکڑوں نقصاں تجھ بن
نہ کھلے غنچۂِ تصویر کے مانند کبھو
لبِ خاموش مرے اے گلِ خنداں تجھ بن
جب سے اے گل تو گیا بستر عاشق پہ ترے
گل بالیں نہ ہوئے سنبل و ریحاں تجھ بن
سامنے سے مری آنکھوں کے نہ جا مان کہا
کس کو دیکھوں گا میں پھر اے مہِ تاباں تجھ بن
روز دشمن کا بھی اس طرح نہ کٹیو یارب
میں نے جس ظلم سے کاٹی شبِ ہجراں تجھ بن
مہِ نو شام کے ہوتے ہی تصور میں ترے
تھا کھڑا سر پہ لیے خنجر عریاں تجھ بن
اور جو جاتی تھی کبھی خوشۂِ پرویں پہ نگاہ
وہ بھی لگتا تھا صنم دستۂِ پیکاں تجھ بن
مصحفیؔ جا کے گلستاں میں کرے کیا پیارے
کہ گلستاں ہے اسے خانۂِ زنداں تجھ بن
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع