28 اگست 1996 ۔ 03 مارچ 1982

فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری (۱۸۹۶ء تا ۱۹۸۲ء) اردو غزل کے وہ قد آور ستون ہیں جنہوں نے اردو شاعری کو ہندوستانی تہذیب کے رس اور انگریزی ادب کی وسعتِ فکر سے ہم آہنگ کیا۔ وہ ایک ایسے عہد ساز شاعر اور نقاد تھے جن کے بغیر اردو غزل کی تاریخ ادھوری ہے۔
مزید

08 دسمبر 1925 ۔ 02 مارچ 1972

ناصر کاظمی
ناصر کاظمی (۱۹۲۵ء تا ۱۹۷۲ء) جدید اردو غزل کے وہ آبرو ہیں جنہوں نے ہجرت کے دکھ اور ماضی کی یادوں کو ایک نئی جمالیاتی زبان عطا کی۔ وہ میر تقی میرؔ کی روایت کے سچے جانشین تھے، مگر ان کا دکھ انفرادی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پوری نسل کا نوحہ بھی تھا۔
مزید

08 مارچ 1913 ۔ 24 جون 1989

قیوم نظر
قیوم نظر (۱۹۱۴ء تا ۱۹۸۹ء) اردو ادب میں جدید نظم کے ان معماروں میں سے ہیں جنہوں نے "حلقہ اربابِ ذوق" کے پلیٹ فارم سے اردو شاعری کو ایک نئی سمت اور نیا مزاج عطا کیا۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جنہوں نے روایتی بندشوں سے آزاد ہو کر انسانی نفسیات اور مظاہرِ فطرت کو ایک انوکھے انداز میں بیان کیا۔
مزید

12 نومبر 1915 ۔ 09 مارچ 1996

اختر الایمان
اختر الایمان جدید نظم کے مایہ ناز شاعر ہیں، انہیں 1963ء میں فلم دھرم پوتر میں بہتری مکالمہ کے لیے فلم فیئر اعزاز سے نوازا گیا۔ یہی اعزاز انہیں 1966ء میں فلم ’’وقت‘‘ کے لیے بھی ملا۔ 1962ء میں انہیں اردو میں اپنی خدمات کے لیے ساہتیہ اکیڈمی اعزاز ملا۔ یہ اعزاز ان کا مجموعہ یادیں کے لیے دیا گیا تھا۔
مزید

10 اپریل 1910 ۔ 10 مارچ 1981

عبدالحمید عدم
عبد الحمید عدم عبد الحمید عدم پاکستان کے نامور شاعر ہیں جو رومانی غزلوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
مزید

11 مارچ 1939 ۔ 15 اپریل 2004

عرفان صدیقی
عرفان صدیقی جدید اردو غزل کے ان چند معتبر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے عصری حسیت کے ساتھ اس طرح جوڑا کہ ان کا لہجہ منفرد اور توانا ہو گیا۔ ان کی شاعری میں کربلا کا استعارہ اور ہجرت کے دکھ ایک نئے رنگ میں ڈھل کر سامنے آئے۔
مزید

نہ جانے میں نے توبہ کی تو مے خانے پہ کیا گزری

سیماب اکبر آبادی


سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری
نہ جانے میں نے توبہ کی تو مے خانے پہ کیا گزری
ملیں تو فائزان منزلِ مقصود سے پوچھوں
گزر گاہِ محبت سے گزر جانے پہ کیا گزری
کسی کو میرے کاشانے سے ہمدردی نہیں شاید
ہر اک یہ پوچھتا ہے میرے کاشانے پہ کیا گزری
نہ ہو جو زندگی انجام وہ وجدان ناقص ہے
حضور شمع بعد وجد پروانے پہ کیا گزری
بتائیں برہمن اور شیخ ان کی خانہ جنگی میں
خدا خانے پہ کیا بیتی صنم خانے پہ کیا گزری
تو اپنے ہی مآل سوزِ غم پر غور کر پہلے
تجھے اس سے نہیں کچھ بحث پروانے پہ کیا گزری
کسی حکمت سے کر دے کوئی گویا مرنے والوں کو
یہ راز اب تک ہے سربستہ کہ مر جانے پہ کیا گزری
تری ہر سو تجلی اور میری ہر طرف نظریں
تجھے تو یاد ہو گا آئینہ خانے پہ کیا گزری
زباں منہ میں ہے عرضِ حال کر تو نے تو دیکھا ہے
کہ خوئے ضبط و خاموشی سے پروانے پہ کیا گزری
وہ کہتا تھا خدا جانے بہار آئے تو کیا گزرے
خدا جانے بہار آئی تو دیوانے پہ کیا گزری
یہ ہے سیمابؔ اک ناگفتہ بہ افسانہ کیا کہیے
وطن سے کنج غربت میں چلے آنے پہ کیا گزری