25 مئی 1831 ۔ 17 مارچ 1905

داغ دہلوی
داغ دہلوی اردو غزل کے چند بڑے شعرا میں سے ایک ہیں۔ ان کے شاگردوں کا سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی جیسے معروف شاعر وں کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے جانشین نوح ناروی بھی ایک معروف شاعر ہیں۔
مزید

20 اپریل 1918 ۔ 18 مارچ 2007

اختر ہوشیارپوری
نام عبدالسلام اور اختر تخلص ہے۔۲۰؍ اپریل۱۹۱۸ء کو ہوشیار پور، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ بی اے، ایل ایل بی پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ ۱۹۴۷ء میں پاکستان آگئے اور راول پنڈی میں سکونت اختیارکی۔
مزید

01 جون 1938 ۔ 15 مارچ 2015

ماجد صدیقی
ماجد صدیقی اردو اور پنجابی ادب کا وہ قد آور نام ہیں جن کی تخلیقی صلاحیتوں نے دونوں زبانوں کو مالا مال کیا ہے۔ ایک شاعر، مترجم، اور کمال کے نثر نگار کی حیثیت سے ان کا کام جدید ادب میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
مزید

20 مارچ 1922 ۔ 12 جولائی 1993

سیف الدین سیف
سیف الدین سیفؔ (۱۹۲۲ء تا ۱۹۹۳ء) اردو غزل کے وہ نغمہ گر تھے جن کے لہجے کی مٹھاس اور گداز نے انہیں ہر دل عزیز بنا دیا۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے غزل کی کلاسیکی نفاست کو فلمی نغمہ نگاری کے وسیع کینوس پر اس مہارت سے بکھیرا کہ فلمی گیت بھی ادبِ عالیہ کا حصہ بن گئے۔
مزید

15 فروری 1914 ۔ 22 مارچ 1982

احسان دانش
احسان دانش ایک دبستان علم و ادب کا نام ہے۔ وہ اردو ادب کے ایک درخشاں عہد کی نشانی ہیں۔ اردو ادب کی کوئی بھی صنف ہو، عالمی ادبیات کی کوئی بھی جہت ہو اور معیار ادب کا کوئی بھی اسلوب ہو ہر جگہ اس لافانی ادیب کے افکار کا پرتو دکھائی دیتی ہے۔
مزید

22 اگست 1924 ۔ 12 مارچ 2015

ادا جعفری
ادا جعفری ۱۹۲۴ میں پیدا ہوئیں، ان کے شعری مجموعہ شہر درد کو 1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔
مزید

نغمات میں ڈوبی ہوئی برسات کا عالم

عبدالحمید عدم


وہ عہدِ جوانی وہ خرابات کا عالم
نغمات میں ڈوبی ہوئی برسات کا عالم
اللٰہ رے اس زلف کے جاں بخش اندھیرے
جیسے کہ مہکتے ہوئے ظلمات کا عالم
اے رعشۂ مستی کا سبب پوچھنے والے
دیکھا ہے کبھی پہلی ملاقات کا عالم
نکلے تھے مرے ساتھ وہ جب بزم ازل سے
کچھ صبح کے آثار تھے کچھ رات کا عالم
یوں اس کی جوانی کا کچھ اندازہ تھا جیسے
مے خانے پہ امڈی ہوئی برسات کا عالم
آنکھوں کے تصادم میں حکایات کی دنیا
ہونٹوں کے تصادم میں خرابات کا عالم
آواز میں کلیوں کے چٹکنے کی لطافت
رفتار میں بہتے ہوئے نغمات کا عالم
ہنستی ہوئی آنکھوں سے سوالات کی بارش
جلتے ہوئے ہونٹوں میں جوابات کا عالم
کچھ مجھ کو خبر تھی نہ انہیں ہوش تھا اپنا
اللٰہ رے مدہوشی و جذبات کا عالم
آنکھوں میں شفق جسم میں مے زلف میں ٹھنڈک
عالم بھی وہ عالم کہ خرابات کا عالم
انفاس سے آتی ہوئی اک نرم سی خوشبو
سمٹا ہوا ہونٹوں میں مدارات کا عالم
وہ چیز جسے زندگی کہتے ہیں وہ کیا ہے
ہنستے ہوئے شفاف خیالات کا عالم
بیٹھا ہوں عدمؔ لے کے بڑی دیر سے دل میں
کہتے ہیں جسے حرف و حکایات کا عالم
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف