25 مارچ 1912 ۔ 06 مئی 1972

سراج الدین ظفر
سراج الدین ظفر اردو زبان کے پاکستان سے تعلق رکھنے و الے نامور شاعر اور افسانہ نگار تھے۔ جنہوں نے اردو شاعری میں اپنا بھرپور تاثر قائم کیا۔
مزید

05 مئی 1947 ۔ 15 جنوری 1996

محسن نقوی
محسن نقوی (۱۹۴۷ء تا ۱۹۹۶ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر اور مقبول ترین شعراء میں سے ہیں جنہیں "خوشبوؤں کا شاعر" اور "احساس کا ترجمان" کہا جاتا ہے۔
مزید

04 مئی 1905 ۔ 09 ستمبر 1948

اختر شیرانی
اختر شیرانی نے صرف 43 برس کی عمر پائی اور اس عمر میں انہوں نے نظم و نثر میں اتنا کچھ لکھا کہ بہت کم لوگ اپنی طویل عمر میں اتنا لکھ پاتے ہیں ۔ اردو تنقید پر اختر شیرانی کا جو قرض ہے وہ اسے ابھی تک پوری طرح ادا نہیں کر پائی ہے۔
مزید

14 جنوری 1919 ۔ 10 مئی 2002

کیفی اعظمی
کیفی اعظمی (۱۹۱۸ء تا ۲۰۰۲ء) ترقی پسند تحریک کے ان ستونوں میں سے ہیں جنہوں نے شاعری کو محلوں اور خوابوں سے نکال کر مزدوروں کی بستیوں اور انقلاب کے میدانوں تک پہنچا دیا۔
مزید

29 جون 1914 ۔ 11 مئی 1974

مجید امجد
مجید امجدؔ اردو نظم کا وہ ہمالہ ہیں جس کی بلندی کا اندازہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہو رہا ہے۔ وہ ایک ایسے منفرد تخلیق کار تھے جنہوں نے کائنات کے ذرے ذرے میں زندگی کا سراغ لگایا اور اردو نظم کو وہ وسعت عطا کی جو اس سے پہلے خواب لگتی تھی۔
مزید

10 جولائی 1935 ۔ 11 مئی 1991

عالم تاب تشنہ
نام سید عالم تاب علی اور تخلص تشنہ تھا۔۲۰؍اپریل ۱۹۳۵ء کو میرٹھ میں پید اہوئے۔ میرٹھ سے ایم اے کیا۔ اپریل ۱۹۵۹ء میں پاکستان آگئے۔
مزید

آئے وہ در سے ناگہاں کھولے ہوئے قبا کہ یوں

بیان میرٹھی


صبح قیامت آئے گی کوئی نہ کہہ سکا کہ یوں
آئے وہ در سے ناگہاں کھولے ہوئے قبا کہ یوں
گوہر نابسودہ کو زلف میں مت دکھا کہ یوں
میری کمند شوق میں رات کے وقت آ کہ یوں
کیوں کہ جھکے نسیم سے سوچے تھی نرگس چمن
دیکھ کے چشم ناز کو آنے لگی حیا کہ یوں
چاہتے تھے شہود میں غیب کا رنگ دیکھنا
میری ز خویش رفتگی بن گئی رہنما کہ یوں
سہو تھی وضع خاستن بستر عیش وصل سے
دیکھ کے ان کی شوخیاں فتنہ ہوا بپا کہ یوں
دیدۂ اہل عشق ہے نور نگاہ سے تہی
آئے وہ فرش ناز پر چھوڑ کے کفش پا کہ یوں
میں نے کہا کنار ناز چاہئے اس غمیں سے پر
سن کے رقیب زشت کو پاس بٹھا لیا کہ یوں
شعلۂ رشک غیر سے جل کے اٹھانا جائے تھا
دور چراغ بزم نے اٹھ کے بتا دیا کہ یوں
خون شہید عشق وہ کہتے تھے فاش کیسے ہو
رنگ گل عذار سے سرخ ہوئی ہوا کہ یوں
اس کف پا کے بوسہ کی کب مجھے راہ یاد تھی
بدرقۂ طلب ہوئی جرأت سنگ پا کہ یوں
رزق نہیں ہے بن تلاش کہتی تھی تنگیٔ معاش
گردش سنگ آسیا دینے لگی صدا کہ یوں
اس کے خرام شوق سے پس گئی خلق کس روش
مٹ گئی باد تند سے صورت نقش پا کہ یوں
سعیٔ طریق شوق سے فتنے کو آگہی نہیں
اس کی جلو میں دوڑے سے سایہ برہنہ پا کہ یوں
شب کو نموئے رنگ سے خندۂ گل کا ذکر تھا
نشو و نمائے حسن سے ٹکڑے ہوئی قبا کہ یوں
نرگس مہوشاں سے پوچھ گردش آسماں سے پوچھ
سرمہ ہوئے وفا سرشت کیا کہیں اے خدا کہ یوں
صانع گلشن ارم میں نے کہا کہ ہائے ہائے
در پہ اس انجمن سے دور قتل مجھے کیا کہ یوں
میں نے کہا نسیم سے چٹکے ہے غنچہ کس طرح
کنج دہان تنگ سے بوسہ نے دی صدا کہ یوں
ریختہ رشک فارسی اس سے نہ ہو سکا بیاں
محفل عرس میرؔ میں شعر مرے سنا کہ یوں
مفتَعِلن مفاعِلن مفتَعِلن مفاعِلن
رجز مثمن مطوی مخبون