15 اپریل 1951 ۔ 10 فروری 1998

جمال احسانی
جمال احسانی ما بعد جدید پاکستانی شاعروں میں سے ایک، اپنے انفرادی شعری تجربے کے لیے معروف ہوئے۔ جمال احسانی روزنامہ ’’حریت‘، روزنامہ’’سویرا‘‘ اور ’’اظہار‘‘ کراچی سے بھی وابستہ رہے جہاں انھوں نے معاون مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اپنا پرچہ ’’رازدار‘‘ بھی نکالتے رہے۔
مزید

13 فروری 1911 ۔ 20 نومبر 1984

فیض احمد فیض
اردو کے مشہور شاعراور انجمن ترقی پسند مصنفین تحریک کے فعال رکن اور ایک ممتاز اِشتراکیت سٹالنسٹ فکر کے کمیونسٹ تھے۔
مزید

08 فروری 1914 ۔ 18 اگست 1976

جاں نثار اختر
جاں نثار اختر: رومان و انقلاب کا سنگم اور نغمہ گو شاعر
مزید

14 فروری 1920 ۔ 14 فروری 2015

کلیم عاجز
کلیم عاجز (۱۹۲۶ء تا ۲۰۱۵ء) اردو غزل کے ان آخری درویشوں میں سے تھے جنہوں نے جدید دور میں میر تقی میرؔ کے سوز و گداز اور سادگی کو دوبارہ زندہ کیا۔ وہ ایک ایسی منفرد شخصیت تھے جن کی شاعری میں دل کا لہو اور آنکھوں کے آنسو لفظ بن کر ڈھل گئے تھے
مزید

12 اکتوبر 1938 ۔ 08 فروری 2016

ندا فاضلی
ندا فاضلی (۱۹۳۸ء تا ۲۰۱۶ء) جدید اردو اور ہندی ادب کا ایک ایسا معتبر نام ہیں جنہوں نے لفظوں کو ایک نیا سماجی اور انسانی تناظر عطا کیا۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے پیچیدہ فلسفوں کو روزمرہ کی سادہ زبان میں ڈھال کر عام آدمی کے دل کی دھڑکن بنا دیا۔
مزید

27 دسمبر 1797 ۔ 15 فروری 1869

مرزا غالب
مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ اردو ادب کا وہ آفتاب ہیں جس کی شعاعیں رہتی دنیا تک فکر و فن کو منور کرتی رہیں گی۔ غالبؔ صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک عظیم مفکر تھے جنہوں نے انسان کے داخلی وجود اور کائنات کے سربستہ رازوں کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ان کی شاعری ہر عہد اور ہر طبقے کے لیے نیا مفہوم رکھتی ہے
مزید

مری ٹوٹی ہوئی توبہ کو پیمانے میں رکھ دینا

نوح ناروی


بطور یادگار زہد مے خانے میں رکھ دینا
مری ٹوٹی ہوئی توبہ کو پیمانے میں رکھ دینا
کہا تھا اے دل نافہم و ناداں تجھ سے یہ کس نے
خدا خانے کی حرمت کو صنم خانے میں رکھ دینا
پسند آئے نہ آئے منحصر ہے یہ طبیعت پر
کسی کے سامنے دل ہم کو نذرانے میں رکھ دینا
دو بارا پھر کسی دن میرے کام آئے گی اے ساقی
جو مے پینے سے بچ جائے وہ پیمانے میں رکھ دینا
کہیں آئیں کہیں جائیں کہیں اٹھیں کہیں بیٹھیں
قدم ہر پھر کر اپنا ہم کو بت خانے میں رکھ دینا
چراغِ انجمن اپنی ضیا پھیلانے والا ہے
اٹھا کر شعلۂ الفت کو پروانے میں رکھ دینا
کہاں ہم ڈھونڈتے تجھ کو پھریں گے اس گھڑی ساقی
صبوحی کے لیے تھوڑی سی پیمانے میں رکھ دینا
نظر آتے ہیں کچھ انگور مجھ کو اے مرے ساقی
لہو توبہ کا ان کے ایک اک دانے میں رکھ دینا
خطائے عشقِ پر کیوں نوحؔ اپنی جان کھو بیٹھے
رقم اتنی بڑی اور اس کو جرمانے میں رکھ دینا
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم