25 مئی 1831 ۔ 17 مارچ 1905

داغ دہلوی
داغ دہلوی اردو غزل کے چند بڑے شعرا میں سے ایک ہیں۔ ان کے شاگردوں کا سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی جیسے معروف شاعر وں کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے جانشین نوح ناروی بھی ایک معروف شاعر ہیں۔
مزید

25 مئی 1912 ۔ 03 نومبر 1949

میرا جی
میرا جی (۱۹۱۲ء تا ۱۹۴۹ء) اردو ادب کی ان چند پراسرار اور پیچیدہ شخصیتوں میں سے ہیں جن کے بغیر جدید نظم کی تاریخ ادھوری ہے۔ انہیں اردو کا "باؤلا" شاعر بھی کہا گیا اور جدیدیت کا امام بھی۔
مزید

17 جون 1920 ۔ 24 مئی 2000

مجروح سلطان پوری
مجروح سلطان پوری (۱۹۱۹ء تا ۲۰۰۰ء) اردو غزل اور فلمی دنیا کا وہ درخشندہ ستارہ ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ ایک نظریاتی شاعر اپنی انقلابی فکر کے ساتھ بھی غزل کی نزاکت اور تغزل کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے شعراء میں شامل تھے
مزید

01 جون 1938 ۔ 15 مارچ 2015

ماجد صدیقی
ماجد صدیقی اردو اور پنجابی ادب کا وہ قد آور نام ہیں جن کی تخلیقی صلاحیتوں نے دونوں زبانوں کو مالا مال کیا ہے۔ ایک شاعر، مترجم، اور کمال کے نثر نگار کی حیثیت سے ان کا کام جدید ادب میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
مزید

15 اگست 1932 ۔ 03 جون 1992

اختر حسین جعفری
اختر حسین جعفری (پیدائش: 15 اگست، 1932ء - وفات: 3 جون، 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کی جدید نظم کے ممتاز شاعر تھے۔
مزید

03 جون 1857 ۔ 18 نومبر 1914

شبلی نعمانی
سرسید احمد خان کے ہمدم جناب علامہ شبلی نعمانی اردو کے بہترین شاعر، دانشور اور محقق تھے۔ 1892ء میں روم اور شام کا سفر کیا۔ 1898ء میں ملازمت ترک کرکے اعظم گڑھ آ گئے۔ 1913ء میں دار المصنفین کی بنیاد ڈالی۔ 1914ء میں انتقال ہوا۔
مزید

لے کر قفس کو اڑ گئے رکھا جو پر کھلے

حیدر علی آتش


جوہر نہیں ہمارے ہیں صیاد پر کھلے
لے کر قفس کو اڑ گئے رکھا جو پر کھلے
شیشے شراب کے رہیں آٹھوں پہر کھلے
ایسا گھرے کہ پھر نہ کبھی ابرِ تر کھلے
کچھ تو ہمیں حقیقت شمس و قمر کھلے
کس کج کلہ کے عشق میں پھرتے ہیں سر کھلے
انصاف کو ہیں دیدۂِ اہلِ نظر کھلے
پردہ اٹھا کہ پردۂِ شمس و قمر کھلے
رنگریز کی دکاں میں بھرے ہوں ہزار رنگ
طرہ وہ ہے جو یار کی دستار پر کھلے
کیا چیز ہے عبارت رنگیں میں شرح شوق
خط کی طرح طبیعت بستہ اگر کھلے
جو چاہیں یار سے کہیں اغیار غم نہیں
خواجہ کو ہیں غلام کے عیب و ہنر کھلے
حیواں پر آدمی کو شرف نطق سے ہوا
شکرِ خدا کرے جو زبان بشر کھلے
یوسف کی اک دکاں میں نہ تو نے تلاش کی
بازار کون کون سے اے بے خبر کھلے
شیریں دہن سے تیرے تعجب ہے گفتگو
اعجاز ہے اگر گرہ نیشکر کھلے
کٹ جائے وہ زباں نہ ہو جس سے دعائے خیر
پھوٹے وہ آنکھ جو کہ نہ وقتِ سحر کھلے
کوتہ ہے اس قدر مرے قد پر ردائے عیش
ڈھانکوں جو پاؤں کو تو یقیں ہے کہ سر کھلے
قاتل جزائے خیر ملے تیری تیغ کو
زخموں کے منہ کھلے نہیں جنت کے در کھلے
فصلِ بہار آئی ہے چلتا ہے دورِ جام
مغ کی دکان شام کھلے یا سحر کھلے
پاپوش ہم نے ماری ہے دستار و تاج پر
سودائے زلفِ یار میں رہتے ہیں سر کھلے
کیف شرابِ ناب کا انجام ہو بخیر
شلوار بند ساقی رشکِ قمر کھلے
نا خواندہ شرح شوق جلائے گئے خطوط
باندھے گئے وہ جو کہ مرے نامہ بر کھلے
چاہے صفا تو ساتھ طہارت کے ذکر کر
پرہیز کر تو تجھ کو دوا کا اثر کھلے
ہنس کر دکھائے دانت جو ہم کو تو کیا ہوا
لے لیجیے جو قیمت سلکِ گہر کھلے
کہتا ہوں رازِ عشق مگر ساتھ شرط کے
کانوں ہی تک رہے نہ زباں کو خبر کھلے
مشتاق بندشوں کے ہیں خوابوں کو چاہیے
بندھوائیں شاعروں سے جو ان کی کمر کھلے
رکتی نہ اس سے چوٹ نہ چلتی یہ قاتلا
ہاتھوں سے تیرے جوہرِ تیغ و سپر کھلے
مطلب نہ سر نوشت کا سمجھا تو شکر کر
دیوانہ ہو جو حال قضا و قدر کھلے
چلنا پڑے گا یار کی خدمت میں سر کے بل
سمجھے ہو کیا جو بیٹھے ہو آتشؔ کمر کھلے