25 مارچ 1912 ۔ 06 مئی 1972

سراج الدین ظفر
سراج الدین ظفر اردو زبان کے پاکستان سے تعلق رکھنے و الے نامور شاعر اور افسانہ نگار تھے۔ جنہوں نے اردو شاعری میں اپنا بھرپور تاثر قائم کیا۔
مزید

14 جنوری 1919 ۔ 10 مئی 2002

کیفی اعظمی
کیفی اعظمی (۱۹۱۸ء تا ۲۰۰۲ء) ترقی پسند تحریک کے ان ستونوں میں سے ہیں جنہوں نے شاعری کو محلوں اور خوابوں سے نکال کر مزدوروں کی بستیوں اور انقلاب کے میدانوں تک پہنچا دیا۔
مزید

29 جون 1914 ۔ 11 مئی 1974

مجید امجد
مجید امجدؔ اردو نظم کا وہ ہمالہ ہیں جس کی بلندی کا اندازہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہو رہا ہے۔ وہ ایک ایسے منفرد تخلیق کار تھے جنہوں نے کائنات کے ذرے ذرے میں زندگی کا سراغ لگایا اور اردو نظم کو وہ وسعت عطا کی جو اس سے پہلے خواب لگتی تھی۔
مزید

10 جولائی 1935 ۔ 11 مئی 1991

عالم تاب تشنہ
نام سید عالم تاب علی اور تخلص تشنہ تھا۔۲۰؍اپریل ۱۹۳۵ء کو میرٹھ میں پید اہوئے۔ میرٹھ سے ایم اے کیا۔ اپریل ۱۹۵۹ء میں پاکستان آگئے۔
مزید

05 مئی 1947 ۔ 15 جنوری 1996

محسن نقوی
محسن نقوی (۱۹۴۷ء تا ۱۹۹۶ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر اور مقبول ترین شعراء میں سے ہیں جنہیں "خوشبوؤں کا شاعر" اور "احساس کا ترجمان" کہا جاتا ہے۔
مزید

04 مئی 1905 ۔ 09 ستمبر 1948

اختر شیرانی
اختر شیرانی نے صرف 43 برس کی عمر پائی اور اس عمر میں انہوں نے نظم و نثر میں اتنا کچھ لکھا کہ بہت کم لوگ اپنی طویل عمر میں اتنا لکھ پاتے ہیں ۔ اردو تنقید پر اختر شیرانی کا جو قرض ہے وہ اسے ابھی تک پوری طرح ادا نہیں کر پائی ہے۔
مزید

وہ مسکرائے تو جرم خطا بھی راس آئے

شاذ تمکنت


وفا کا ذکر ہی کیا ہے جفا بھی راس آئے
وہ مسکرائے تو جرم خطا بھی راس آئے
وطن میں رہتے ہیں ہم یہ شرف ہی کیا کم ہے
یہ کیا ضرور کہ آب و ہوا بھی راس آئے
ہتھیلیاں ہیں تری لوح نور کی مانند
خدا کرے تجھے رنگِ حنا بھی راس آئے
دوا تو خیر ہزاروں کو راس آئے گی
مزہ تو جینے کا جب ہے شفا بھی راس آئے
تو پھر یہ آدمی خود کو خدا سمجھنے لگے
اگر یہ عمرِ گریزاں ذرا بھی راس آئے
اب اس قدر بھی نہ کر جستجوئے آب بقا
گل ہنر ہے تو بادِ فنا بھی راس آئے
یہ تیرا رنگِ سخن تیرا بانکپن اے شاذؔ
کہ شعر راس تو آئے انا بھی راس آئے
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن