14 مئی 1800 ۔ 14 مئی 1851

مومن خان مومن
حکیم مومن خان مومنؔ (۱۸۰۰ء تا ۱۸۵۱ء) اردو غزل کے ان تین ستونوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے دہلی کی شعری روایت کو بامِ عروج پر پہنچایا۔ جہاں غالبؔ اپنی فکر اور ذوقؔ اپنی زبان دانی کے لیے مشہور تھے، وہاں مومنؔ اپنے مخصوص تغزل، معاملہ بندی اور نازک خیالی کی وجہ سے ممتاز تھے۔
مزید

14 مئی 1936

زہرا نگاہ
زہرا نگاہ پاکستان سے تعلق رکھنے و الی اردو زبان کی نامور شاعرہ ہیں۔مشہور ڈراما نویس فاطمہ ثریا بجیا آپ کی بڑی بہن اور مقبول عام ہمہ جہت رائٹر انور مقصود بھائی ہیں۔
مزید

15 مئی 1833 ۔ 15 مئی 1903

میر مہدی مجروح
میر مہدی مجروحؔ (۱۸۳۳ء تا ۱۹۰۳ء) مرزا غالبؔ کے ان محبوب ترین شاگردوں میں سے تھے جن کا ذکر غالبؔ کے خطوط میں نہایت محبت اور اپنائیت سے ملتا ہے۔ غالبؔ انہیں اکثر "میر مہدی" کہہ کر پکارتے تھے اور ان کی بذلہ سنجی اور ذہانت کے مداح تھے۔
مزید

14 اکتوبر 1878 ۔ 13 مئی 1951

حسرت موہانی
’’رئیس المتغزلین‘‘ جناب حسرت موہانی بیسویں صدی کے اردو زبان کے مشہور شاعر اور تحریک آزادی ہند کے کارکن تھے۔
مزید

01 جنوری 1916 ۔ 16 مئی 1999

سید ضمیر جعفری
ضمیر جعفری اردو کے ممتاز مزاح نگار اور شاعر ہیں۔ انکا پورا نام سید ضمیر حسین جعفری تھا۔ 1 جنوری 1916ء کو جہلم کے ساتھ ایک گاؤں چک عبدالخالق میں پیدا ہوئے۔ تعلیم جہلم، اٹک اور لاہور سے حاصل کی۔
مزید

29 جون 1914 ۔ 11 مئی 1974

مجید امجد
مجید امجدؔ اردو نظم کا وہ ہمالہ ہیں جس کی بلندی کا اندازہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہو رہا ہے۔ وہ ایک ایسے منفرد تخلیق کار تھے جنہوں نے کائنات کے ذرے ذرے میں زندگی کا سراغ لگایا اور اردو نظم کو وہ وسعت عطا کی جو اس سے پہلے خواب لگتی تھی۔
مزید

دشتِ امید میں گرداں ہیں دوانے کب سے

فیض احمد فیض


حسرتِ دید میں گزراں ہیں زمانے کب سے
دشتِ امید میں گرداں ہیں دوانے کب سے
دیر سے آنکھ پہ اترا نہیں اشکوں کا عذاب
اپنے ذمے ہے ترا فرض نہ جانے کب سے
کس طرح پاک ہو بے آرزو لمحوں کا حساب
درد آیا نہیں دربار سجانے کب سے
سر کرو ساز کہ چھیڑیں کوئی دل سوز غزل
"ڈھونڈتا ہے دلِ شوریدہ بہانے کب سے "
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع