15 جون 1922 ۔ 23 اپریل 1991

عزیز حامد مدنی
عزیز حامد مدنی (۱۹۲۲ء تا ۱۹۹۱ء) اردو کی جدید غزل کے ان چند معتبر اور توانا لہجوں میں سے ہیں جنہوں نے غزل کے روایتی کینوس میں جدید فکری اور فلسفیانہ رنگ بھرے۔ وہ ایک نہایت زیرک نقاد، ماہرِ لسانیات اور بلند پایہ شاعر تھے
مزید

03 اگست 1916 ۔ 20 اپریل 1970

شکیل بدایونی
شکیل بدایونی مشہور ہندوستانی شاعر جنہوں نے سو سے زائد فلموں کے لیے گیت لکھے۔ جو بہت زیادہ مقبول ہوئے۔ جس میں مغل اعظم کے گیت سر فہرست ہیں۔
مزید

20 اپریل 1918 ۔ 18 مارچ 2007

اختر ہوشیارپوری
نام عبدالسلام اور اختر تخلص ہے۔۲۰؍ اپریل۱۹۱۸ء کو ہوشیار پور، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ بی اے، ایل ایل بی پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ ۱۹۴۷ء میں پاکستان آگئے اور راول پنڈی میں سکونت اختیارکی۔
مزید

11 مارچ 1939 ۔ 15 اپریل 2004

عرفان صدیقی
عرفان صدیقی جدید اردو غزل کے ان چند معتبر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے عصری حسیت کے ساتھ اس طرح جوڑا کہ ان کا لہجہ منفرد اور توانا ہو گیا۔ ان کی شاعری میں کربلا کا استعارہ اور ہجرت کے دکھ ایک نئے رنگ میں ڈھل کر سامنے آئے۔
مزید

15 اپریل 1951 ۔ 10 فروری 1998

جمال احسانی
جمال احسانی ما بعد جدید پاکستانی شاعروں میں سے ایک، اپنے انفرادی شعری تجربے کے لیے معروف ہوئے۔ جمال احسانی روزنامہ ’’حریت‘، روزنامہ’’سویرا‘‘ اور ’’اظہار‘‘ کراچی سے بھی وابستہ رہے جہاں انھوں نے معاون مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اپنا پرچہ ’’رازدار‘‘ بھی نکالتے رہے۔
مزید

11 نومبر 1917 ۔ 13 اپریل 1997

فارغ بخاری
فارغ بخاری (۱۹۱۷ء تا ۱۹۹۷ء) پشتو اور اردو دونوں زبانوں کے ایک نہایت معتبر ادیب، شاعر اور محقق تھے۔ انہوں نے پشاور کی ادبی شناخت کو عالمی سطح پر روشناس کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ نہ صرف ایک ترقی پسند شاعر تھے بلکہ ایک بے باک صحافی اور کمال کے خاکہ نگار بھی تھے۔
مزید

دبنے کے بھی تو اس سے نہیں یار ہو سو ہو

مصحفی غلام ہمدانی


مکھ پھاٹ منہ پہ کھائیں گے تلوار ہو سو ہو
دبنے کے بھی تو اس سے نہیں یار ہو سو ہو
جانا مجھے بھی اب طرف یار ہو سو ہو
یا بولے یا بتائے وہ دھتکار ہو سو ہو
صیاد کو تو خواب تغافل سے کام ہے
احوال طائران گرفتار ہو سو ہو
سودائی بن کے اس پہ مجھے ہاتھ ڈالنا
ہنگامہ اس میں جو سرِ بازار ہو سو ہو
جی پر یہی ٹھنی ہے تو آج اس کو چھیڑ کر
کھانی مجھے بھی گالیاں دو چار ہو سو ہو
گو اس میں ہاتھا پائی بھی ہو جاوے ڈر نہیں
لوں گا میں اس کا بوسۂِ رخسار ہو سو ہو
مجھ کو بھی کاٹنی قفس اپنے کی تیلیاں
یا ٹوٹے یا بچے مری منقار ہو سو ہو
شکوہ کبھی نہ یار کا لاویں گے منہ پہ ہم
ہم پر جفائے چرخِ ستم گار ہو سو ہو
اپنی شفا کو اپنے خدا پر تو چھوڑ دے
آخر تو موت ہے دلِ بیمار ہو سو ہو
مانی شبیہ یار پہ مت آپ کو مٹا
لوں گا بنا میں تجھ سے جو تیار ہو سو ہو
اے دل! تو سادہ رویوں کی بھپکی میں آ نہ جا
اک دن لپٹ کے چھین لے تلوار ہو سو ہو
سر پھوڑ کر کے جائیں گے اس کی گلی میں ہم
رنگیں گے خون سے در و دیوار ہو سو ہو
صنعاں کی طرح اک بتِ کافر کے عشق میں
کافر ہو باندھنا ہمیں زنار ہو سو ہو
لینی متاعِ حسن ہمیں اس میں تاجرو!
نقصان جان و مال دلِ زار ہو سو ہو
شوخی ہے تیری طبع میں شدت سے مصحفیؔ
لے بھاگ سر سے شیخ کے دستار ہو سو ہو
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف