20 اپریل 1918 ۔ 18 مارچ 2007

اختر ہوشیارپوری
نام عبدالسلام اور اختر تخلص ہے۔۲۰؍ اپریل۱۹۱۸ء کو ہوشیار پور، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ بی اے، ایل ایل بی پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ ۱۹۴۷ء میں پاکستان آگئے اور راول پنڈی میں سکونت اختیارکی۔
مزید

25 مئی 1831 ۔ 17 مارچ 1905

داغ دہلوی
داغ دہلوی اردو غزل کے چند بڑے شعرا میں سے ایک ہیں۔ ان کے شاگردوں کا سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی جیسے معروف شاعر وں کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے جانشین نوح ناروی بھی ایک معروف شاعر ہیں۔
مزید

20 مارچ 1922 ۔ 12 جولائی 1993

سیف الدین سیف
سیف الدین سیفؔ (۱۹۲۲ء تا ۱۹۹۳ء) اردو غزل کے وہ نغمہ گر تھے جن کے لہجے کی مٹھاس اور گداز نے انہیں ہر دل عزیز بنا دیا۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے غزل کی کلاسیکی نفاست کو فلمی نغمہ نگاری کے وسیع کینوس پر اس مہارت سے بکھیرا کہ فلمی گیت بھی ادبِ عالیہ کا حصہ بن گئے۔
مزید

01 جون 1938 ۔ 15 مارچ 2015

ماجد صدیقی
ماجد صدیقی اردو اور پنجابی ادب کا وہ قد آور نام ہیں جن کی تخلیقی صلاحیتوں نے دونوں زبانوں کو مالا مال کیا ہے۔ ایک شاعر، مترجم، اور کمال کے نثر نگار کی حیثیت سے ان کا کام جدید ادب میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
مزید

15 فروری 1914 ۔ 22 مارچ 1982

احسان دانش
احسان دانش ایک دبستان علم و ادب کا نام ہے۔ وہ اردو ادب کے ایک درخشاں عہد کی نشانی ہیں۔ اردو ادب کی کوئی بھی صنف ہو، عالمی ادبیات کی کوئی بھی جہت ہو اور معیار ادب کا کوئی بھی اسلوب ہو ہر جگہ اس لافانی ادیب کے افکار کا پرتو دکھائی دیتی ہے۔
مزید

22 اگست 1924 ۔ 12 مارچ 2015

ادا جعفری
ادا جعفری ۱۹۲۴ میں پیدا ہوئیں، ان کے شعری مجموعہ شہر درد کو 1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔
مزید

دریا سے یہ موتی نکلا تھا دریا ہی میں جا کر ڈوب گیا

شاد عظیم آبادی


دل اپنی طلب میں صادق تھا گھبرا کے سوئے مطلوب گیا
دریا سے یہ موتی نکلا تھا دریا ہی میں جا کر ڈوب گیا
احوال جوانی پیری میں کیا عرض کروں اک قصہ ہے
وہ طرز گئی وہ وضع گئی انداز گیا اسلوب گیا
لا ریب خموشی نے تیری تاثیر دکھا دی مستوں کو
بے باک جو مے کش تھا ساقی اس بزم سے وہ محجوب گیا
بے راحلہ و بے زادِ سفر رحمت پہ بھروسا فرما کر
جو ملکِ عدم میں بسنے کو اس طرح گیا وہ خوب گیا
بد حال بہت تھا اس پر بھی اے یار کسی نے لی نہ خبر
بڑ مار کے تیرے کوچے سے آخر کو ترا مجذوب گیا
رضواں نے کیا در خلد کا وا حوریں ہوئیں صدقے آ آ کر
غلماں نے قدم چومے اس کے جو تیری طرف منسوب گیا
طاقت جو نہیں اب حیرت سے تصویر کا عالم رہتا ہے
وہ آخرِ شب کی آہ گئی وہ لغرۂ محبوب گیا
یاں اپنی سزا بھگتی اس نے رحمت کی نظر ہو گی اس پر
ہر چند خطا کار الفت کوچے سے ترے معتوب گیا
حیرت ہے عبث اے جو ان بیش بہا منصوبوں پر
اس طرح کے موتی تب نکلے جب زیر زمیں میں ڈوب گیا
کیا اس کا سبب میں عرض کروں کچھ واقعے ایسے پیش آئے
میں روتا ہوا آیا تھا یہاں چپ یاں سے گیا مرعوب گیا
کوچے میں ترے اب شادؔ نہیں لے پاک خدا نے کی یہ زمیں
صد شکر سرائے فانی سے آخر وہ سگ معیوب گیا
فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن
بحرِ زمزمہ/ متدارک مثمن مضاعف