03 اگست 1916 ۔ 20 اپریل 1970

شکیل بدایونی
شکیل بدایونی مشہور ہندوستانی شاعر جنہوں نے سو سے زائد فلموں کے لیے گیت لکھے۔ جو بہت زیادہ مقبول ہوئے۔ جس میں مغل اعظم کے گیت سر فہرست ہیں۔
مزید

20 اپریل 1918 ۔ 18 مارچ 2007

اختر ہوشیارپوری
نام عبدالسلام اور اختر تخلص ہے۔۲۰؍ اپریل۱۹۱۸ء کو ہوشیار پور، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ بی اے، ایل ایل بی پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ ۱۹۴۷ء میں پاکستان آگئے اور راول پنڈی میں سکونت اختیارکی۔
مزید

11 مارچ 1939 ۔ 15 اپریل 2004

عرفان صدیقی
عرفان صدیقی جدید اردو غزل کے ان چند معتبر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے عصری حسیت کے ساتھ اس طرح جوڑا کہ ان کا لہجہ منفرد اور توانا ہو گیا۔ ان کی شاعری میں کربلا کا استعارہ اور ہجرت کے دکھ ایک نئے رنگ میں ڈھل کر سامنے آئے۔
مزید

15 اپریل 1951 ۔ 10 فروری 1998

جمال احسانی
جمال احسانی ما بعد جدید پاکستانی شاعروں میں سے ایک، اپنے انفرادی شعری تجربے کے لیے معروف ہوئے۔ جمال احسانی روزنامہ ’’حریت‘، روزنامہ’’سویرا‘‘ اور ’’اظہار‘‘ کراچی سے بھی وابستہ رہے جہاں انھوں نے معاون مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اپنا پرچہ ’’رازدار‘‘ بھی نکالتے رہے۔
مزید

11 نومبر 1917 ۔ 13 اپریل 1997

فارغ بخاری
فارغ بخاری (۱۹۱۷ء تا ۱۹۹۷ء) پشتو اور اردو دونوں زبانوں کے ایک نہایت معتبر ادیب، شاعر اور محقق تھے۔ انہوں نے پشاور کی ادبی شناخت کو عالمی سطح پر روشناس کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ نہ صرف ایک ترقی پسند شاعر تھے بلکہ ایک بے باک صحافی اور کمال کے خاکہ نگار بھی تھے۔
مزید

15 جون 1922 ۔ 23 اپریل 1991

عزیز حامد مدنی
عزیز حامد مدنی (۱۹۲۲ء تا ۱۹۹۱ء) اردو کی جدید غزل کے ان چند معتبر اور توانا لہجوں میں سے ہیں جنہوں نے غزل کے روایتی کینوس میں جدید فکری اور فلسفیانہ رنگ بھرے۔ وہ ایک نہایت زیرک نقاد، ماہرِ لسانیات اور بلند پایہ شاعر تھے
مزید

اس ہوا میں یہ چراغ زیر داماں کچھ نہیں

فراق گورکھپوری


عشق کی مایوسیوں میں سوزِ پنہاں کچھ نہیں
اس ہوا میں یہ چراغ زیر داماں کچھ نہیں
کیا ہے دیکھو حسرت سیر گلستاں کچھ نہیں
کچھ نہیں اے ساکنان کنجِ زنداں کچھ نہیں
عشق کی ہے خود نمائی عشق کی آشفتگی
روئے تاباں کچھ نہیں زلفِ پریشاں کچھ نہیں
یاد آ ہی جاتی ہے اکثر دلِ برباد کی
یوں تو سچ ہے چند ذرات پریشاں کچھ نہیں
سچ ہے جو کچھ بھی ہے وہ ہے گرمیِ بازار حسن
اہلِ دل کا سوزِ پنہاں کچھ نہیں ہاں کچھ نہیں
اور ان کی زندگی ہے اور عنوان حیات
خود فراموشوں کو تیرے عہد و پیماں کچھ نہیں
ایک ہو جائے نہ جب تک سرحد ہوش و جنوں
ایک ہو کر چاک دامان و گریباں کچھ نہیں
جو نہ ہو جائے وہ کم ہے جو بھی ہو جائے بہت
کارزار عشق میں دشوار و آساں کچھ نہیں
دیکھنی تھی دیکھ لی اس چھیڑ کی بھی سادگی
بے دلوں میں یہ تبسم ہائے پنہاں کچھ نہیں
کاش اپنے درد سے بیتاب ہوتے اے فراقؔ
دوسرے کے ہاتھوں یہ حالِ پریشاں کچھ نہیں
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مثمن محذوف