10 اپریل 1772 ۔ 16 اگست 1838

امام بخش ناسخ
شیخ امام بخش ناسخ کا شمار اردو کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ناسخ جب فیض آباد سے لکھنؤ آئے تو ایک رئیس میر کاظم علی سے منسلک ہو گئے جنھوں نے ناسخ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ان کے انتقال پر اچھی خاصی دولت ناسخ کے ہاتھ آئی۔ انھوں نے لکھنؤ میں بود و باش اختیار کر لی اور فراغت سے بسر کی۔
مزید

15 اگست 1932 ۔ 03 جون 1992

اختر حسین جعفری
اختر حسین جعفری (پیدائش: 15 اگست، 1932ء - وفات: 3 جون، 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کی جدید نظم کے ممتاز شاعر تھے۔
مزید

08 فروری 1914 ۔ 18 اگست 1976

جاں نثار اختر
جاں نثار اختر: رومان و انقلاب کا سنگم اور نغمہ گو شاعر
مزید

02 فروری 1923 ۔ 14 اگست 2005

ضیا جالندھری
ضیا جالندھری: جدید اردو نظم کا معتبر نام اور حلقہ اربابِ ذوق کے ترجمان
مزید

31 جنوری 1933 ۔ 18 اگست 1985

شاذ تمکنت
شاذ تمکنت (۱۹۳۳ء تا ۱۹۸۵ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے حیدرآباد دکن کی کلاسیکی ادبی روایت کو جدید فکری جہتوں کے ساتھ زندہ رکھا۔
مزید

21 اگست 1919 ۔ 12 دسمبر 1994

ظہیر کاشمیری
ظہیر کاشمیری: انقلاب اور رومان کا سنگم
مزید

وہ شہر کیا ہوا جس کی تھی ہر گلی میری

اختر ہوشیارپوری


تھی تتلیوں کے تعاقب میں زندگی میری
وہ شہر کیا ہوا جس کی تھی ہر گلی میری
میں اپنی ذات کی تشریح کرتا پھرتا تھا
نہ جانے پھر کہاں آواز کھو گئی میری
یہ سرگزشت زمانہ یہ داستان حیات
ادھوری بات میں بھی رہ گئی کمی میری
ہوائے کوہ ندا اک ذرا ٹھہر کہ ابھی
زمانہ غور سے سنتا ہے ان کہی میری
میں اتنے زور سے چیخا چٹخ گیا ہے بدن
پھر اس کے بعد کسی نے نہیں سنی میری
یہ درمیاں کا خلا ہی مرا نہیں ورنہ
یہ آسمان بھی میرا زمین بھی میری
کسے خبر کہ گہر کیسے ہاتھ آتے ہیں
سمندروں سے بھی گہری ہے خامشی میری
کوئی تو آئے مرے پاس دو گھڑی بیٹھے
کہ کر گئی مجھے تنہا خود آگہی میری
کبھی کبھی تو زمانہ رہا نگاہوں میں
کبھی کبھی نظر آئی نہ شکل بھی میری
مجھے خبر ہے کہاں ہوں میں کون ہوں اخترؔ
کہ میرے نام سے صورت گری ہوئی میری
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن