10 اپریل 1772 ۔ 16 اگست 1838

امام بخش ناسخ
شیخ امام بخش ناسخ کا شمار اردو کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ناسخ جب فیض آباد سے لکھنؤ آئے تو ایک رئیس میر کاظم علی سے منسلک ہو گئے جنھوں نے ناسخ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ان کے انتقال پر اچھی خاصی دولت ناسخ کے ہاتھ آئی۔ انھوں نے لکھنؤ میں بود و باش اختیار کر لی اور فراغت سے بسر کی۔
مزید

10 اپریل 1910 ۔ 10 مارچ 1981

عبدالحمید عدم
عبد الحمید عدم عبد الحمید عدم پاکستان کے نامور شاعر ہیں جو رومانی غزلوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
مزید

10 اپریل 1935

اکبر حمیدی
اکبر حمیدی کی پچیس سے زائد کتابیں شائع ہوئیں۔ان میں آٹھ شعری مجموعے، انشائیوں کے پانچ مجموعے،خاکوں کے دو مجموعے،تنقیدی مضامین پر مشتمل دو مجموعے،ریڈیو کالموں کا ایک مجموعہ اور ان کی خود نوشت سوانح شامل ہیں۔
مزید

06 اپریل 1890 ۔ 09 دسمبر 1960

جگر مراد آبادی
جگر مراد آبادی بیسویں صدی کے اردو کے مشہور شاعروں میں سے ایک ہیں۔ بلا کے مے نوش تھے مگر بڑھاپے میں تا ئب ہو گئے تھے
مزید

08 اگست 1960 ۔ 06 اپریل 2019

اکبر معصوم
اکبر معصوم اردو غزل کے ایک نمایاں شاعر تھے۔ سن دوہزار کے قریب اْن کاپہلا شعری مجموعہ ’’اور کہاں تک جانا ہے‘‘ شائع ہوا جسے اردو ادب میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔
مزید

11 نومبر 1917 ۔ 13 اپریل 1997

فارغ بخاری
فارغ بخاری (۱۹۱۷ء تا ۱۹۹۷ء) پشتو اور اردو دونوں زبانوں کے ایک نہایت معتبر ادیب، شاعر اور محقق تھے۔ انہوں نے پشاور کی ادبی شناخت کو عالمی سطح پر روشناس کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ نہ صرف ایک ترقی پسند شاعر تھے بلکہ ایک بے باک صحافی اور کمال کے خاکہ نگار بھی تھے۔
مزید

دے ایسے اور حق مجھے اغیار چار پانچ

انشاء اللہ خان انشا


امرد ہوئے ہیں تیرے خریدار چار پانچ
دے ایسے اور حق مجھے اغیار چار پانچ
جب گدگداتے ہیں تجھے ہم اور ڈھب سے تب
سہتے ہیں گالیاں تری نا چار چار پانچ
کل یوں کہا کہ ٹک تو ٹھہر لے تو بولے آپ
ہیں منتظر مرے سرِ بازار چار پانچ
او جانے والے شخص ٹک اک مڑ کے دیکھ لے
یاں بھی تڑپ رہے ہیں گناہ گار چار پانچ
صیاد لے خبر کہ دیا چاہتے ہیں جان
کنجِ قفس میں تازہ گرفتار چار پانچ
میاں ہم بھی کوئی قہر ہیں جب دیکھو تب لیے
بیٹھے ہیں اپنے پاس طرحدار چار پانچ
چپکے سے تم جو کہتے ہو ہیں اپنے آشنا
شعلہ بھبھوکے اور دھواں دھار چار پانچ
ہر ایک ان سے شوخ ہے کیا خوب بات ہو
لگ جائیں تیرے ہاتھ جو یک بار چار پانچ
تو ان کو چاہ چھوڑ مجھے واچھڑے چے خوش
رکھے ہیں میرے واسطے دل دار چار پانچ
ہے کام ایک ہی سے وہ چولھے میں سب پڑیں
صدقے کیے تھے ایسے وہ فی النار چار پانچ
صاحب تمہیں تمہیں نہیں ہرگز نہیں نہیں
مجھ کو نہیں نہیں نہیں درکار چار پانچ
میرؔ و قتیلؔ و مصحفیؔ و جرأتؔ و مکیںؔ
ہیں شاعروں میں یہ جو نمودار چار پانچ
سو خوب جانتے ہیں کہ ہر ایک رنگ کے
انشاؔ کی ہر غزل میں ہیں اشعار چار پانچ
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف