18 جون 1939 ۔ 18 جون 2012

اختر امام رضوی
خطۂ پوٹھوہار کے خوبصورت شاعر اختر امام رضوی ستر اور اسی کی دہائی میں ادبی حلقوں میں بہت متحرک رہے، تقریباً تمام عمر ریڈیو پاکستان راوالپنڈی سے منسلک رہے اور اپنی خوبصورت آواز کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے نہ صرف ریڈیو بلکہ ٹی وی پر بھی بہت نیا ٹیلیٹ متعارف کروایا
مزید

23 جون 1923 ۔ 15 جنوری 1997

افضل منہاس
نام وزیر احمد اور افضل تخلص تھا۔ضلع چکوال کے ایک گاؤں میں ۲۳؍جون ۱۹۲۳ء کو پیدا ہوئے۔ ساری زندگی راولپنڈی میں گزاری۔ ۱۵؍جنوری ۱۹۹۷ء کو ان کا انتقال ہوا۔
مزید

17 جون 1920 ۔ 24 مئی 2000

مجروح سلطان پوری
مجروح سلطان پوری (۱۹۱۹ء تا ۲۰۰۰ء) اردو غزل اور فلمی دنیا کا وہ درخشندہ ستارہ ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ ایک نظریاتی شاعر اپنی انقلابی فکر کے ساتھ بھی غزل کی نزاکت اور تغزل کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے شعراء میں شامل تھے
مزید

08 مارچ 1913 ۔ 24 جون 1989

قیوم نظر
قیوم نظر (۱۹۱۴ء تا ۱۹۸۹ء) اردو ادب میں جدید نظم کے ان معماروں میں سے ہیں جنہوں نے "حلقہ اربابِ ذوق" کے پلیٹ فارم سے اردو شاعری کو ایک نئی سمت اور نیا مزاج عطا کیا۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جنہوں نے روایتی بندشوں سے آزاد ہو کر انسانی نفسیات اور مظاہرِ فطرت کو ایک انوکھے انداز میں بیان کیا۔
مزید

15 جون 1922 ۔ 23 اپریل 1991

عزیز حامد مدنی
عزیز حامد مدنی (۱۹۲۲ء تا ۱۹۹۱ء) اردو کی جدید غزل کے ان چند معتبر اور توانا لہجوں میں سے ہیں جنہوں نے غزل کے روایتی کینوس میں جدید فکری اور فلسفیانہ رنگ بھرے۔ وہ ایک نہایت زیرک نقاد، ماہرِ لسانیات اور بلند پایہ شاعر تھے
مزید

12 جون 1939 ۔ 18 مئی 1998

عبید اللہ علیم
عبید اللہ علیمؔ (۱۹۳۹ء تا ۱۹۹۸ء) جدید اردو غزل کے ان چند چنیدہ شعراء میں سے ہیں جنہوں نے غزل کے روایتی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک نئی معاصر حسیت اور لہجے کا بانکپن عطا کیا۔ انہیں "خوابوں کا شاعر" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے کلام میں ایک خاص طرح کی رومانوی فضا اور جذباتی سچائی ملتی ہے۔
مزید

چراغ جلتے ہیں اور روشنی نہیں آتی

شان الحق حقی


سمجھ میں خاک یہ جادوگری نہیں آتی
چراغ جلتے ہیں اور روشنی نہیں آتی
کسی کے ناز پہ افسردہ خاطری دل کی
ہنسی کی بات ہے پھر بھی ہنسی نہیں آتی
نہ پوچھ ہیئت طرف و چمن کہ ایسی بھی
بہار باغ میں بہکی ہوئی نہیں آتی
ہجوم عیش تو ان تیرہ بستیوں میں کہاں
کہیں سے آہ کی آواز بھی نہیں آتی
جدائیوں سے شکایت تو ہو بھی جاتی ہے
رفاقتوں سے وفا میں کمی نہیں آتی
کچھ ایسا محو ہے اسباب رنج و عیش میں دل
کہ عیش و رنج کی پہچان ہی نہیں آتی
سزا یہ ہے کہ رہیں چشم لطف سے محروم
خطا یہ ہے کہ ہوس پیشگی نہیں آتی
خدا رکھے تری محفل کی رونقیں آباد
نظارگی سے نظر میں کمی نہیں آتی
بڑی تلاش سے ملتی ہے زندگی اے دوست
قضا کی طرح پتا پوچھتی نہیں آتی
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن