21 اگست 1919 ۔ 12 دسمبر 1994

ظہیر کاشمیری
ظہیر کاشمیری: انقلاب اور رومان کا سنگم
مزید

08 فروری 1914 ۔ 18 اگست 1976

جاں نثار اختر
جاں نثار اختر: رومان و انقلاب کا سنگم اور نغمہ گو شاعر
مزید

22 اگست 1924 ۔ 12 مارچ 2015

ادا جعفری
ادا جعفری ۱۹۲۴ میں پیدا ہوئیں، ان کے شعری مجموعہ شہر درد کو 1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔
مزید

31 جنوری 1933 ۔ 18 اگست 1985

شاذ تمکنت
شاذ تمکنت (۱۹۳۳ء تا ۱۹۸۵ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے حیدرآباد دکن کی کلاسیکی ادبی روایت کو جدید فکری جہتوں کے ساتھ زندہ رکھا۔
مزید

10 اپریل 1772 ۔ 16 اگست 1838

امام بخش ناسخ
شیخ امام بخش ناسخ کا شمار اردو کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ناسخ جب فیض آباد سے لکھنؤ آئے تو ایک رئیس میر کاظم علی سے منسلک ہو گئے جنھوں نے ناسخ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ان کے انتقال پر اچھی خاصی دولت ناسخ کے ہاتھ آئی۔ انھوں نے لکھنؤ میں بود و باش اختیار کر لی اور فراغت سے بسر کی۔
مزید

15 اگست 1932 ۔ 03 جون 1992

اختر حسین جعفری
اختر حسین جعفری (پیدائش: 15 اگست، 1932ء - وفات: 3 جون، 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کی جدید نظم کے ممتاز شاعر تھے۔
مزید

ہے تقاضائے جفا، شکوۂِ بیداد نہیں

مرزا غالب


نالہ جز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیں
ہے تقاضائے جفا، شکوۂِ بیداد نہیں
عشق و مزدوریِ عشرت گہِ خسرو، کیا خوب!
ہم کو تسلیم نکو نامی فرہاد نہیں
کم نہیں وہ بھی خرابی میں، پہ وسعت معلوم
دشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں
اہلِ بینش کو ہے طوفانِ حوادث مکتب
لطمۂِ موج کم از سیلی استاد نہیں
وائے مظلومی تسلیم! وبداحالِ وفا!
جانتا ہے کہ ہمیں طاقتِ فریاد نہیں
رنگِ تمکینِ گل و لالہ پریشاں کیوں ہے ؟
گر چراغانِ سرِ راہ گزرِ باد نہیں
سبدِ گل کے تلے بند کرے ہے گلچیں!
مژدہ اے مرغ! کہ گلزار میں صیاد نہیں
نفی سے کرتی ہے اثبات طراوش گویا
دی ہی جائے دہن اس کو دمِ ایجاد نہیں
کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشت
یہی نقشہ ہے ولے ، اس قدر آباد نہیں
کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالب
تم کو بے مہری یارانِ وطن یاد نہیں؟