24 اکتوبر 1775 ۔ 07 نومبر 1862

بہادر شاہ ظفر
خاندان مغلیہ کے آخری بادشاہ اور اردو کے ایک بہترین و مایا ناز شاعر اور ابراہیم ذوق کے شاگرد تھے۔ ذوق کی وفات کے بعد مرزا غالب سے شاعری میں رہنمائی حاصل کرتے رہے۔ انگریز کے ہاتھوں جلاوطن ہو جانے کے بعد انہوں نے جو غزلیں لکھیں وہاردو ادب کا اثاثہ ہیں۔
مزید

27 دسمبر 1905 ۔ 07 نومبر 1976

سید محمد جعفری
سید محمد جعفری (۱۹۰۵ء تا ۱۹۷۶ء) اردو مزاحیہ شاعری کا وہ معتبر نام ہیں جنہوں نے طنز و مزاح کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے قومی شعور اور اصلاحِ معاشرہ کا ایک توانا ہتھیار ثابت کیا۔ ان کی شاعری میں الفاظ کی کاٹ ایسی تھی کہ وہ بڑی سے بڑی سماجی برائی کا پردہ نہایت شائستگی سے چاک کر دیتے تھے۔
مزید

25 مئی 1912 ۔ 03 نومبر 1949

میرا جی
میرا جی (۱۹۱۲ء تا ۱۹۴۹ء) اردو ادب کی ان چند پراسرار اور پیچیدہ شخصیتوں میں سے ہیں جن کے بغیر جدید نظم کی تاریخ ادھوری ہے۔ انہیں اردو کا "باؤلا" شاعر بھی کہا گیا اور جدیدیت کا امام بھی۔
مزید

14 دسمبر 1937 ۔ 08 نومبر 2002

جون ایلیا
جون ایلیا برصغیر میں نمایاں حیثیت رکھنے والے پاکستانی شاعر، فلسفی، سوانح نگار اور عالم تھے۔ وہ اپنے انوکھے انداز تحریر کی وجہ سے سراہے جاتے تھے۔ جون ایلیا کو عربی، انگریزی، فارسی، سنسکرت اور عبرانی میں اعلیٰ مہارت حاصل تھی۔
مزید

01 اگست 1790 ۔ 01 نومبر 1854

شیخ ابراہیم ذوق
مغلیہ سلطنت کے برائے نام بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے عہد میں، ملک الشعراء کے خطاب سے نوازے جانے والے ذوق اپنے زمانہ کے دوسرے اہم شاعروں غالب اور مومن سے بڑے شاعر مانے جاتے تھے.
مزید

12 نومبر 1844 ۔ 01 نومبر 1917

اسماعیل میرٹھی
مولوی اسماعیل میرٹھی کا شمار اردو ادب کے ان اہم ترین شعرا میں ہوتا ہے جن میں مولانا الطاف حسین حالی، مولوی محمد حسین آزاد وغیرہ شامل ہیں۔اسماعیل میرٹھی نے بچوں کے لئے بے مثال نظمیں تخلیق کیں
مزید

خلش کیوں ہو تپش کیوں ہو قلق کیوں ہو فغاں کیوں ہو

داغ دہلوی


جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو
خلش کیوں ہو تپش کیوں ہو قلق کیوں ہو فغاں کیوں ہو
مزا آتا نہیں تھم تھم کے ہم کو رنج و راحت کا
خوشی ہو غم ہو جو کچھ ہو الٰہی ناگہاں کیوں ہو
یہ مصرع لکھ دیا ظالم نے میری لوح تربت پر
جو ہو فرقت کی بیتابی تو یوں خوابِ گراں کیوں ہو
ہمیشہ آدمی کا آدمی غم خوار ہوتا ہے
یہی بے اعتباری ہو تو کوئی راز داں کیوں ہو
بہت نکلیں گے روزِ حشر تیرے جور کے خواہاں
ستم کا حوصلہ دنیا میں صرف امتحاں کیوں ہو
غضب آیا ستم ٹوٹا قیامت ہو گئی برپا
یہ پوچھا تھا کہ تم آزردہ مجھ سے میری جاں کیوں ہو
انہیں کو رنجشِ بے جا ہے لیکن ہے تو ہم سے ہے
محبت گر نہ ہو باہم شکایت درمیاں کیوں ہو
گئے ٹھکرا کے مجھ کو اور پھر کہتے گئے یہ بھی
نصیبِ دشمناں تو پائمال آسماں کیوں ہو
نئی تاکید ہے ضبط محبت کی وہ کہتے ہیں
جگر ہو تو فغاں کیوں ہو دہن ہو تو زباں کیوں ہو
شریک دور مے بزمِ عدو میں خاک ہوتے ہم
کسی نے رات بھر اتنا نہ پوچھا تم یہاں کیوں ہو
تحمل کر سکے کیا حسن نازک ان نگاہوں کا
اسے میں نے چھپایا ہے وگرنہ وہ نہاں کیوں ہو
خدا شاہد خدا شاہد ہے کیوں کہتے ہو وعدوں پر
خدا کو کیا غرض میرے تمہارے درمیاں کیوں ہو
جگر سے کم نہیں اے چارہ گر داغِ جگر مجھ کو
جو پیدا کی ہو مر مر کے وہ دولت رائیگاں کیوں ہو
نوید جاں فزا ہے کیا خبر قاتل کے آنے کی
بتاؤ تو سہی تم داغؔ ایسے شادماں کیوں ہو
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم