12 جون 1939 ۔ 18 مئی 1998

عبید اللہ علیم
عبید اللہ علیمؔ (۱۹۳۹ء تا ۱۹۹۸ء) جدید اردو غزل کے ان چند چنیدہ شعراء میں سے ہیں جنہوں نے غزل کے روایتی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک نئی معاصر حسیت اور لہجے کا بانکپن عطا کیا۔ انہیں "خوابوں کا شاعر" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے کلام میں ایک خاص طرح کی رومانوی فضا اور جذباتی سچائی ملتی ہے۔
مزید

01 جنوری 1916 ۔ 16 مئی 1999

سید ضمیر جعفری
ضمیر جعفری اردو کے ممتاز مزاح نگار اور شاعر ہیں۔ انکا پورا نام سید ضمیر حسین جعفری تھا۔ 1 جنوری 1916ء کو جہلم کے ساتھ ایک گاؤں چک عبدالخالق میں پیدا ہوئے۔ تعلیم جہلم، اٹک اور لاہور سے حاصل کی۔
مزید

18 مئی 1932 ۔ 18 مئی 1988

اقبال ساجد
اقبال ساجد پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے دلچسپ لب و لہجے کے شاعر تھے۔اپنا کلام بیچ کر گزارہ کرنے کے حوالے سے ان کو کافی شہرت ملی، ان کے کلام کے خریداروں میں کافی مشہور نام شامل ہیں جو ان الزامات کی تردید کرتے پائے جاتے ہیں
مزید

16 دسمبر 1752 ۔ 19 مئی 1817

انشاء اللہ خان انشا
سید انشاء اللہ خان انشا کی ذہانت اور جدت پسندی انہیں اپنے ہم عصروں میں منفرد نہیں بلکہ تاریخ ادب میں بھی ممتاز مقام دلاتی ہے۔ غزل، ریختی، قصیدہ اور بے نقط مثنوی اور اردو میں بے نقط دیوان رانی کیتکی کی کہانی جس میں عربی فارسی کا ایک لفظ نہ آنے دیا۔
مزید

15 مئی 1833 ۔ 15 مئی 1903

میر مہدی مجروح
میر مہدی مجروحؔ (۱۸۳۳ء تا ۱۹۰۳ء) مرزا غالبؔ کے ان محبوب ترین شاگردوں میں سے تھے جن کا ذکر غالبؔ کے خطوط میں نہایت محبت اور اپنائیت سے ملتا ہے۔ غالبؔ انہیں اکثر "میر مہدی" کہہ کر پکارتے تھے اور ان کی بذلہ سنجی اور ذہانت کے مداح تھے۔
مزید

14 مئی 1800 ۔ 14 مئی 1851

مومن خان مومن
حکیم مومن خان مومنؔ (۱۸۰۰ء تا ۱۸۵۱ء) اردو غزل کے ان تین ستونوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے دہلی کی شعری روایت کو بامِ عروج پر پہنچایا۔ جہاں غالبؔ اپنی فکر اور ذوقؔ اپنی زبان دانی کے لیے مشہور تھے، وہاں مومنؔ اپنے مخصوص تغزل، معاملہ بندی اور نازک خیالی کی وجہ سے ممتاز تھے۔
مزید

دمِ شمشیر پہ سر رکھیں تو نیند آتی ہے

مصحفی غلام ہمدانی


نرمی بالش پر ہم کو نہیں بھاتی ہے
دمِ شمشیر پہ سر رکھیں تو نیند آتی ہے
کیا بری خو ہے مری بھی کہ بہ ایں دعوی عقل
میں بھی جاتا ہوں وہاں جانِ جہاں جاتی ہے
ناقبول اتنا ہوں مردے کو مرے بعد از مرگ
گور میں رکھیں تو مٹی بھی نہیں کھاتی ہے
حسن دیکھا ہے مگر ہند کی تصویریں کا
لیلیٰ بازار میں شکل اپنی جو بدلاتی ہے
نہ بچے گا کوئی ہرگز جو ہے رخ کی یہ صفا
نہ جیے گا کوئی مطلق جو یہ خوش گاتی ہے
خیر سلا سے نسیمِ سحری گھر جاوے
کر کے ذکر رخِ گل کیوں مجھے پٹواتی ہے
ستم بادِ خزاں سے جو کوئی گل کی کلی
شاخ پر خشک ہو رہ جاتی ہے مرجھاتی ہے
بے کسی اپنی کا عالم مجھے آ جائے ہے یاد
کہ گریباں میں مرا سر یوں ہی جھکواتی ہے
مصحفیؔ کی کوئی امید تو بر لا یارب!
مدتوں سے یہ ترے در کا مناجاتی ہے