04 مئی 1905 ۔ 09 ستمبر 1948

اختر شیرانی
اختر شیرانی نے صرف 43 برس کی عمر پائی اور اس عمر میں انہوں نے نظم و نثر میں اتنا کچھ لکھا کہ بہت کم لوگ اپنی طویل عمر میں اتنا لکھ پاتے ہیں ۔ اردو تنقید پر اختر شیرانی کا جو قرض ہے وہ اسے ابھی تک پوری طرح ادا نہیں کر پائی ہے۔
مزید

05 مئی 1947 ۔ 15 جنوری 1996

محسن نقوی
محسن نقوی (۱۹۴۷ء تا ۱۹۹۶ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر اور مقبول ترین شعراء میں سے ہیں جنہیں "خوشبوؤں کا شاعر" اور "احساس کا ترجمان" کہا جاتا ہے۔
مزید

25 مارچ 1912 ۔ 06 مئی 1972

سراج الدین ظفر
سراج الدین ظفر اردو زبان کے پاکستان سے تعلق رکھنے و الے نامور شاعر اور افسانہ نگار تھے۔ جنہوں نے اردو شاعری میں اپنا بھرپور تاثر قائم کیا۔
مزید

14 جنوری 1919 ۔ 10 مئی 2002

کیفی اعظمی
کیفی اعظمی (۱۹۱۸ء تا ۲۰۰۲ء) ترقی پسند تحریک کے ان ستونوں میں سے ہیں جنہوں نے شاعری کو محلوں اور خوابوں سے نکال کر مزدوروں کی بستیوں اور انقلاب کے میدانوں تک پہنچا دیا۔
مزید

29 جون 1914 ۔ 11 مئی 1974

مجید امجد
مجید امجدؔ اردو نظم کا وہ ہمالہ ہیں جس کی بلندی کا اندازہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہو رہا ہے۔ وہ ایک ایسے منفرد تخلیق کار تھے جنہوں نے کائنات کے ذرے ذرے میں زندگی کا سراغ لگایا اور اردو نظم کو وہ وسعت عطا کی جو اس سے پہلے خواب لگتی تھی۔
مزید

10 جولائی 1935 ۔ 11 مئی 1991

عالم تاب تشنہ
نام سید عالم تاب علی اور تخلص تشنہ تھا۔۲۰؍اپریل ۱۹۳۵ء کو میرٹھ میں پید اہوئے۔ میرٹھ سے ایم اے کیا۔ اپریل ۱۹۵۹ء میں پاکستان آگئے۔
مزید

چاک در چاکِ گریباں کو سنوارے ہوئے لوگ

عزیز حامد مدنی


کیا ہوئے باد بیاباں کے پکارے ہوئے لوگ
چاک در چاک گریباں کو سنوارے ہوئے لوگ
خوں ہوا دل کہ پشیمان صداقت ہے وفا
خوش ہوا جی کہ چلو آج تمہارے ہوئے لوگ
یہ بھی کیا رنگ ہے اے نرگس خواب آلودہ
شہر میں سب ترے جادو کے ہیں مارے ہوئے لوگ
خط معزولی اربابِ ستم کھینچ گئے
یہ رسن بستہ صلیبوں سے اتارے ہوئے لوگ
وقت ہی وہ خط فاصل ہے کہ اے ہم نفسو
دور ہے موجِ بلا اور کنارے ہوئے لوگ
اے حریفان غم گردشِ ایام آؤ
ایک ہی غول کے ہم لوگ ہیں ہارے ہوئے لوگ
ان کو اے نرم ہوا خواب جنوں سے نہ جگا
رات مے خانے کی آئے ہیں گزارے ہوئے لوگ