17 جون 1920 ۔ 24 مئی 2000

مجروح سلطان پوری
مجروح سلطان پوری (۱۹۱۹ء تا ۲۰۰۰ء) اردو غزل اور فلمی دنیا کا وہ درخشندہ ستارہ ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ ایک نظریاتی شاعر اپنی انقلابی فکر کے ساتھ بھی غزل کی نزاکت اور تغزل کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے شعراء میں شامل تھے
مزید

25 مئی 1831 ۔ 17 مارچ 1905

داغ دہلوی
داغ دہلوی اردو غزل کے چند بڑے شعرا میں سے ایک ہیں۔ ان کے شاگردوں کا سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی جیسے معروف شاعر وں کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے جانشین نوح ناروی بھی ایک معروف شاعر ہیں۔
مزید

25 مئی 1912 ۔ 03 نومبر 1949

میرا جی
میرا جی (۱۹۱۲ء تا ۱۹۴۹ء) اردو ادب کی ان چند پراسرار اور پیچیدہ شخصیتوں میں سے ہیں جن کے بغیر جدید نظم کی تاریخ ادھوری ہے۔ انہیں اردو کا "باؤلا" شاعر بھی کہا گیا اور جدیدیت کا امام بھی۔
مزید

16 دسمبر 1752 ۔ 19 مئی 1817

انشاء اللہ خان انشا
سید انشاء اللہ خان انشا کی ذہانت اور جدت پسندی انہیں اپنے ہم عصروں میں منفرد نہیں بلکہ تاریخ ادب میں بھی ممتاز مقام دلاتی ہے۔ غزل، ریختی، قصیدہ اور بے نقط مثنوی اور اردو میں بے نقط دیوان رانی کیتکی کی کہانی جس میں عربی فارسی کا ایک لفظ نہ آنے دیا۔
مزید

12 جون 1939 ۔ 18 مئی 1998

عبید اللہ علیم
عبید اللہ علیمؔ (۱۹۳۹ء تا ۱۹۹۸ء) جدید اردو غزل کے ان چند چنیدہ شعراء میں سے ہیں جنہوں نے غزل کے روایتی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک نئی معاصر حسیت اور لہجے کا بانکپن عطا کیا۔ انہیں "خوابوں کا شاعر" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے کلام میں ایک خاص طرح کی رومانوی فضا اور جذباتی سچائی ملتی ہے۔
مزید

18 مئی 1932 ۔ 18 مئی 1988

اقبال ساجد
اقبال ساجد پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے دلچسپ لب و لہجے کے شاعر تھے۔اپنا کلام بیچ کر گزارہ کرنے کے حوالے سے ان کو کافی شہرت ملی، ان کے کلام کے خریداروں میں کافی مشہور نام شامل ہیں جو ان الزامات کی تردید کرتے پائے جاتے ہیں
مزید

شرر تو لپکا مگر شعلۂ صدا نہ ہوا

اختر ہوشیارپوری


طلسم گنبد بے در کسی پہ وا نہ ہوا
شرر تو لپکا مگر شعلۂ صدا نہ ہوا
ہمیں زمانے نے کیا کیا نہ آئنے دکھلائے
مگر وہ عکس جو آئینہ آشنا نہ ہوا
بیاض جاں میں سبھی شعر خوبصورت تھے
کسی بھی مصرع رنگیں کا حاشیا نہ ہوا
نہ جانے لوگ ٹھہرتے ہیں وقت شام کہاں
ہمیں تو گھر میں بھی رکنے کا حوصلا نہ ہوا
وہ شہر آج بھی میرے لہو میں شامل ہے
وہ جس سے ترک تعلق کو اک زمانا ہوا
یہی نہیں کہ سر شب قیامتیں ٹوٹیں
سحر کے وقت بھی ان بستیوں میں کیا نہ ہوا
میں دشت جاں میں بھٹک کر ٹھہر گیا اخترؔ
پھر اس کے بعد مرا کوئی راستا نہ ہوا
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن