01 جولائی 1887 ۔ 06 جنوری 1966

تلوک چند محروم
تلوک چند محرومؔ (۱۸۸۷ء تا ۱۹۶۶ء) اردو کے ان جلیل القدر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کو فطرت کی عکاسی، حبِ وطنی اور انسانی ہمدردی کے لیے وقف کیا۔وہ ایک بلند پایہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نہایت شفیق استاد بھی تھے، اور ان کا کلام اپنی سادگی اور اثر انگیزی کی بنا پر ہر خاص و عام میں مقبول رہا
مزید

01 جولائی 1921 ۔ 19 نومبر 1973

سلام مچھلی شہری
سلام مچھلی شہری (۱۹۲۱ء تا ۱۹۷۳ء) اردو ادب کے وہ نامور اور مقبول شاعر ہیں جنہوں نے نظم، غزل اور گیت نگاری میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔ ان کے ہاں رومانیت اور ترقی پسند فکر کا ایک نہایت متوازن امتزاج ملتا ہے، جو انہیں اپنے ہم عصروں میں نمایاں کرتا ہے۔
مزید

01 جولائی 1930 ۔ 04 دسمبر 2013

محبوب خزاں
محبوب خزاں (۱۹۲۹ء تا ۲۰۱۳ء) اردو غزل کے ان شعراء میں سے ہیں جنہوں نے خاموشی اور درویشی کے ساتھ ادب کی وہ خدمت کی جو بڑے بڑے شور و غوغا کرنے والے نہ کر سکے۔ وہ جدید غزل کے ایک ایسے معتبر اور ثقہ شاعر تھے جن کے ہاں لفظوں کا استعمال ایک خاص سلیقے اور احتیاط کا مرہونِ منت ہوتا تھا۔
مزید

29 جون 1914 ۔ 11 مئی 1974

مجید امجد
مجید امجدؔ اردو نظم کا وہ ہمالہ ہیں جس کی بلندی کا اندازہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہو رہا ہے۔ وہ ایک ایسے منفرد تخلیق کار تھے جنہوں نے کائنات کے ذرے ذرے میں زندگی کا سراغ لگایا اور اردو نظم کو وہ وسعت عطا کی جو اس سے پہلے خواب لگتی تھی۔
مزید

25 نومبر 1925 ۔ 07 جولائی 2008

خاطر غزنوی
خاطر غزنوی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور ہندکو کے ممتاز شاعر، ادیب، نقاد، پشاور یونیورسٹی کے استاد اور اکادمی ادبیات پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل تھے۔ خاطر غزنوی جدید اردو اور ہندکو شاعری اور نثر میں ایک منفرد حیثیت کے حامل تھے۔
مزید

10 جولائی 1935 ۔ 11 مئی 1991

عالم تاب تشنہ
نام سید عالم تاب علی اور تخلص تشنہ تھا۔۲۰؍اپریل ۱۹۳۵ء کو میرٹھ میں پید اہوئے۔ میرٹھ سے ایم اے کیا۔ اپریل ۱۹۵۹ء میں پاکستان آگئے۔
مزید

چاندنی میں ٹہل رہی ہو گی

جون ایلیا


جی ہی جی میں وہ جل رہی ہو گی
چاندنی میں ٹہل رہی ہو گی
چاند نے تان لی ہے چادر ابر
اب وہ کپڑے بدل رہی ہو گی
سو گئی ہو گی وہ شفق اندام
سبز قندیل جل رہی ہو گی
سرخ اور سبز وادیوں کی طرف
وہ مرے ساتھ چل رہی ہو گی
چڑھتے چڑھتے کسی پہاڑی پر
اب وہ کروٹ بدل رہی ہو گی
پیڑ کی چھال سے رگڑ کھا کر
وہ تنے سے پھسل رہی ہو گی
نیلگوں جھیل ناف تک پہنے
صندلیں جسم مل رہی ہو گی
ہو کے وہ خواب عیش سے بیدار
کتنی ہی دیر شل رہی ہو گی
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع