18 ستمبر 1879 ۔ 10 اکتوبر 1962

نوحؔ ناروی (۱۸۷۹ء تا ۱۹۶۲ء) اردو غزل کی اس کلاسیکی روایت کے امین تھے جس نے داغؔ دہلوی کے رنگِ سخن کو بیسویں صدی میں زندہ رکھا۔ وہ داغؔ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے اور انہیں "جانشینِ داغ" کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔
مزید

17 ستمبر 1857 ۔ 10 نومبر 1912

بیخود بدایونی
اردو غزل کی تاریخ میں بیخود بدایونیؔ کا نام ایک ایسے قادر الکلام شاعر کے طور پر ابھرا جس نے داغ دہلوی کے رنگِ تغزل کو اس کی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ آگے بڑھایا۔ وہ زبان کی صفائی، محاورے کے برجستہ استعمال اور بیان کی شگفتگی میں اپنے استاد کے سچے جانشین معلوم ہوتے ہیں۔
مزید

20 ستمبر 1905 ۔ 08 جنوری 1972

باقی صدیقی
باقی صدیقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی کے شاعر، ادیب، ڈراما نگار، فیچر رائٹر اور صحافی تھے۔ باقی صدیقی نے بے شمار پوٹھوہاری گیت اور پنجابی فیچر لکھے۔ ان کی پنجابی نظموں میں نہ صرف پوٹھوہاری الفاظ بلکہ پورے پوٹھوہاری معاشرہ کی جھلک ملتی ہے۔
مزید

15 اکتوبر 1933 ۔ 22 ستمبر 2010

محسن احسان
محسن احسان (۱۹۳۲ء تا ۲۰۱۰ء) خیبر پختونخوا کی مٹی سے اٹھنے والے اردو ادب کے وہ معتبر شاعر اور مترجم تھے جنہوں نے پشاور کے ادبی منظر نامے کو ایک عالمی پہچان عطا کی۔ وہ ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے جن کے کلام میں سرحدوں کے آخری سرے کی خوشبو اور جدید عہد کی فکری گہرائی یکجا ملتی ہے۔
مزید

13 ستمبر 1879 ۔ 27 اگست 1961

فانی بدایونی
فانی بدایونی (۱۸۷۹ء تا ۱۹۴۱ء) اردو غزل کے وہ منفرد شاعر ہیں جنہیں "یاسیت کا امام" کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری غم اور موت کے فلسفے کے گرد گھومتی ہے، مگر اس غم میں ایک ایسی فنی بلندی اور وقار ہے کہ وہ قاری کو مایوس کرنے کے بجائے انسانی وجود کی حقیقتوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
مزید

04 مئی 1905 ۔ 09 ستمبر 1948

اختر شیرانی
اختر شیرانی نے صرف 43 برس کی عمر پائی اور اس عمر میں انہوں نے نظم و نثر میں اتنا کچھ لکھا کہ بہت کم لوگ اپنی طویل عمر میں اتنا لکھ پاتے ہیں ۔ اردو تنقید پر اختر شیرانی کا جو قرض ہے وہ اسے ابھی تک پوری طرح ادا نہیں کر پائی ہے۔
مزید

میں دشتِ غم میں آہوئے صیاد دیدہ ہوں

مرزا غالب


ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں
میں دشتِ غم میں آہوئے صیاد دیدہ ہوں
ہوں دردمند، جبر ہو یا اختیار ہو
گہ نالۂِ کشیدہ، گہ اشکِ چکیدہ ہوں
نے سبحہ سے علاقہ نہ ساغر سے رابطہ
میں معرضِ مثال میں دستِ بریدہ ہوں
ہوں خاکسار پر نہ کسی سے ہو مجھ کو لاگ
نے دانۂِ فتادہ ہوں ،نے دامِ چیدہ ہوں
جو چاہیے ، نہیں وہ مری قدر و منزلت
میں یوسفِ بہ قیمتِ اول خریدہ ہوں
ہر گز کسی کے دل میں نہیں ہے مری جگہ
ہوں میں کلامِ نغز، ولے ناشنیدہ ہوں
اہلِ ورع کے حلقے میں ہر چند ہوں ذلیل
پر عاصیوں کے زمرے میں میں برگزیدہ ہوں
ہوں گرمی نشاطِ تصور سے نغمہ سنج
میں عندلیبِ گلشنِ نا آفریدہ ہوں
جاں لب پہ آئی تو بھی نہ شیریں ہوا دہن
از بسکہ تلخی غم ہجراں چشیدہ ہوں
ظاہر ہیں میری شکل سے افسوس کے نشاں
خارِ الم سے پشت بہ دنداں گزیدہ ہوں
پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسدؔ
ڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف