01 اکتوبر 1910 ۔ 01 اکتوبر 1975

ن م راشد
ن م راشد حقیقی معنوں میں ایک رحجان ساز شاعر ہیں۔ لیکن ہم پورے وثوق کے ساتھ ن م راشدؔ کو ایسا شاعر قرار د ے سکتے ہیں کیوں کہ انھوں نے نہ صرف اردو میں آزاد نظم کو متعارف کروایا بلکہ اردو شاعری کو جدت بخشی اور نیا مِزاج عطا کیا۔
مزید

01 اکتوبر 1934 ۔ 12 نومبر 1966

شکیب جلالی
جدید اردو غزل کی آبرو، شکیب جلالی برِّصغیر کے مقبول ترین شاعروں میں سے ایک ہیں۔ اردو ادب کے حلقوں میں پہلے ہی ان کا نام ایک چونکا دینے والے شاعر کے طور پر سامنے آ چکا تھا لیکن جواں سالی میں خودکشی کی وجہ سے ہر خاص و عام کی نظر میں آئے اور اپنی شاندار غزلوں سے لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئے
مزید

01 جنوری 1900 ۔ 01 اکتوبر 1974

بہزاد لکھنوی
برصغیر کے ایک معروف شاعر، جن کی پیدائش لکھنؤ میں سن ۱۹۰۰ اور وفات کراچی میں ۱۹۷۴ میں ہوئی۔ قلمی نام بہزاد لکھنوی تھا جبکہ اصل نام سردار حسین خاں اور والد کا نام سجاد حسین خان تھا۔
مزید

15 اکتوبر 1933 ۔ 22 ستمبر 2010

محسن احسان
محسن احسان (۱۹۳۲ء تا ۲۰۱۰ء) خیبر پختونخوا کی مٹی سے اٹھنے والے اردو ادب کے وہ معتبر شاعر اور مترجم تھے جنہوں نے پشاور کے ادبی منظر نامے کو ایک عالمی پہچان عطا کی۔ وہ ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے جن کے کلام میں سرحدوں کے آخری سرے کی خوشبو اور جدید عہد کی فکری گہرائی یکجا ملتی ہے۔
مزید

27 اگست 1931 ۔ 03 اکتوبر 1962

قابل اجمیری
قابل اجمیری (۱۹۳۳ء تا ۱۹۶۲ء) اردو غزل کے ان چند بدنصیب مگر عظیم شعراء میں سے ہیں جنہیں قدرت نے بہت کم وقت دیا، مگر اس قلیل عرصے میں انہوں نے وہ مقام حاصل کر لیا جو صدیوں کی ریاضت سے نصیب ہوتا ہے۔ وہ ایک ایسے نو عمر عبقری تھے جن کے شعور کی پختگی دیکھ کر بڑے بڑے اساتذہ دنگ رہ جاتے تھے۔
مزید

20 ستمبر 1905 ۔ 08 جنوری 1972

باقی صدیقی
باقی صدیقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی کے شاعر، ادیب، ڈراما نگار، فیچر رائٹر اور صحافی تھے۔ باقی صدیقی نے بے شمار پوٹھوہاری گیت اور پنجابی فیچر لکھے۔ ان کی پنجابی نظموں میں نہ صرف پوٹھوہاری الفاظ بلکہ پورے پوٹھوہاری معاشرہ کی جھلک ملتی ہے۔
مزید

چاہنے والوں کو مرتے ہوئے دیکھا ہے کبھی

عرفان صدیقی


تم نے یہ لمحہ گزرتے ہوئے دیکھا ہے کبھی
چاہنے والوں کو مرتے ہوئے دیکھا ہے کبھی
سطح پر عکس تو بنتے ہوئے دیکھے ہوں گے
نقش پانی پہ ٹھہرتے ہوئے دیکھا ہے کبھی
جسم کی آگ کے انجام کی تمثیل بتاؤں
خاک پر خاک بکھرتے ہوئے دیکھا ہے کبھی
کچھ تو ہے وادی ہو میں کہ لرزتا ہوں میں
ورنہ تم نے مجھے ڈرتے ہوئے دیکھا ہے کبھی
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مثمن محذوف