24 جولائی 1920 ۔ 24 جولائی 1991

کیف بھوپالی
کیف بھوپالی بھوپال کی زرخیز ادبی زمین کا وہ پودا تھے جو مشاعروں کی دنیا میں ایک تناور درخت بن کر ابھرا۔ کیف بھوپالی محض ایک شاعر نہیں تھے بلکہ وہ ایک "محفل" تھے؛ ان کا اندازِ بیان اور سادہ مگر دل میں اتر جانے والے اشعار سامعین پر سحر طاری کر دیتے تھے۔
مزید

01 اگست 1790 ۔ 01 نومبر 1854

شیخ ابراہیم ذوق
مغلیہ سلطنت کے برائے نام بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے عہد میں، ملک الشعراء کے خطاب سے نوازے جانے والے ذوق اپنے زمانہ کے دوسرے اہم شاعروں غالب اور مومن سے بڑے شاعر مانے جاتے تھے.
مزید

29 نومبر 1913 ۔ 01 اگست 2000

علی سردار جعفری
علی سردار جعفری (۱۹۱۳ء تا ۲۰۰۰ء) ترقی پسند تحریک کے ان جلیل القدر ستونوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی شاعری کو انسانی حقوق، امن اور سماجی انصاف کا ترجمان بنایا۔ وہ ایک انقلابی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک گہرے نقاد، مدبر اور صحافی بھی تھے۔ ان کی زندگی کا مقصد قلم کے ذریعے ایک ایسی دنیا کی تشکیل تھی جہاں
مزید

03 اگست 1916 ۔ 20 اپریل 1970

شکیل بدایونی
شکیل بدایونی مشہور ہندوستانی شاعر جنہوں نے سو سے زائد فلموں کے لیے گیت لکھے۔ جو بہت زیادہ مقبول ہوئے۔ جس میں مغل اعظم کے گیت سر فہرست ہیں۔
مزید

04 اگست 1899 ۔ 07 فروری 1978

صوفی تبسّم
صوفی غلام مصطفیٰ تبسمؔ اردو اور فارسی کے وہ قد آور ادیب اور شاعر ہیں جنہوں نے بیک وقت بڑوں کے لیے سنجیدہ فکر و فلسفہ اور بچوں کے لیے "ٹوٹ بٹوٹ" جیسی لازوال دنیا تخلیق کی۔ ان کی شخصیت علم و حلم کا ایک ایسا سنگم تھی جس نے نسل در نسل لوگوں کی علمی و جذباتی آبیاری کی۔
مزید

01 جنوری 1926 ۔ 05 اگست 1982

رئیس فروغؔ
رئیس فروغ: جدید اردو غزل کا ایک دھیما اور گہرا لہجہ
مزید

آنکھوں کے تلے پھرتی ہے تصویر کسی کی

بہادر شاہ ظفر


ہے دل کو جو یاد آئی فلکِ پیر کسی کی
آنکھوں کے تلے پھرتی ہے تصویر کسی کی
گریہ بھی ہے نالہ بھی ہے اور آہ و فغاں بھی
پر دل میں ہوئی اس کے نہ تاثیر کسی کی
ہاتھ آئے ہے کیا خاک ترے خاک کف پا
جب تک کہ نہ قسمت میں ہو اکسیر کسی کی
یارو وہ ہے بگڑا ہوا باتیں نہ بناؤ
کچھ پیش نہیں جانے کی تقریر کسی کی
نازاں نہ ہو منعم کہ جہاں تیرا محل ہے
ہووے گی یہاں پہلے بھی تعمیر کسی کی
میری گرہِ دل نہ کھلی ہے نہ کھلے گی
جب تک نہ کھلے زلفِ گرہ گیر کسی کی
آتا بھی اگر ہے تو وہ پھر جائے ہے الٹا
جس وقت الٹ جائے ہے تقدیر کسی کی
اس ابرو و مژگاں سے ظفرؔ تیز زیادہ
خنجر نہ کسی کا ہے نہ شمشیر کسی کی
جو دل سے ادھر جائے نظر دل ہو گرفتار
مجرم ہو کوئی اور ہو تقصیر کسی کی