01 جنوری 1926 ۔ 05 اگست 1982

رئیس فروغؔ
رئیس فروغ: جدید اردو غزل کا ایک دھیما اور گہرا لہجہ
مزید

08 اگست 1960 ۔ 06 اپریل 2019

اکبر معصوم
اکبر معصوم اردو غزل کے ایک نمایاں شاعر تھے۔ سن دوہزار کے قریب اْن کاپہلا شعری مجموعہ ’’اور کہاں تک جانا ہے‘‘ شائع ہوا جسے اردو ادب میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔
مزید

04 اگست 1899 ۔ 07 فروری 1978

صوفی تبسّم
صوفی غلام مصطفیٰ تبسمؔ اردو اور فارسی کے وہ قد آور ادیب اور شاعر ہیں جنہوں نے بیک وقت بڑوں کے لیے سنجیدہ فکر و فلسفہ اور بچوں کے لیے "ٹوٹ بٹوٹ" جیسی لازوال دنیا تخلیق کی۔ ان کی شخصیت علم و حلم کا ایک ایسا سنگم تھی جس نے نسل در نسل لوگوں کی علمی و جذباتی آبیاری کی۔
مزید

03 اگست 1916 ۔ 20 اپریل 1970

شکیل بدایونی
شکیل بدایونی مشہور ہندوستانی شاعر جنہوں نے سو سے زائد فلموں کے لیے گیت لکھے۔ جو بہت زیادہ مقبول ہوئے۔ جس میں مغل اعظم کے گیت سر فہرست ہیں۔
مزید

01 اگست 1790 ۔ 01 نومبر 1854

شیخ ابراہیم ذوق
مغلیہ سلطنت کے برائے نام بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے عہد میں، ملک الشعراء کے خطاب سے نوازے جانے والے ذوق اپنے زمانہ کے دوسرے اہم شاعروں غالب اور مومن سے بڑے شاعر مانے جاتے تھے.
مزید

29 نومبر 1913 ۔ 01 اگست 2000

علی سردار جعفری
علی سردار جعفری (۱۹۱۳ء تا ۲۰۰۰ء) ترقی پسند تحریک کے ان جلیل القدر ستونوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی شاعری کو انسانی حقوق، امن اور سماجی انصاف کا ترجمان بنایا۔ وہ ایک انقلابی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک گہرے نقاد، مدبر اور صحافی بھی تھے۔ ان کی زندگی کا مقصد قلم کے ذریعے ایک ایسی دنیا کی تشکیل تھی جہاں
مزید

چل بسا وہ آج سب ہستی کا ساماں چھوڑ کر

شیخ ابراہیم ذوق


کل گئے تھے تم جسے بیمارِ ہجراں چھوڑ کر
چل بسا وہ آج سب ہستی کا ساماں چھوڑ کر
طفلِ اشک ایسا گرا دامان مژگاں چھوڑ کر
پھر نہ اٹھا کوچۂِ چاکِ گریباں چھوڑ کر
کیوں کہ نکلے تیرا اس کا دل میں پیکاں چھوڑ کر
جائے بیضے کو کہاں یہ مرغ پراں چھوڑ کر
جس نے ہو لذت اٹھائی زخمِ تیغ عشق کی
کب وہ مرہم دان کو ڈھونڈے نمک داں چھوڑ کر
صید دل کو کیوں کہ چھوڑے جب کہ دکھلا دے نہ تو
مچھلیاں دستِ حنائی میں مری جاں چھوڑ کر
سرد مہری سے کسی کی آگے ہی جی سرد ہے
یاں سے ہٹ جا دھوپ اے ابر خراماں چھوڑ کر
دیکھیے کیا ہو کہ ہے اب جان کے پیچھے پڑی
دل کو اے کافر تری زلفِ پریشاں چھوڑ کر
اے دل اس کے تیر کے ہم راہ سینے سے نکل
ورنہ پچھتائے گا تو یہ ساتھ ناداں چھوڑ کر
کیوں نہ رم کر جائیں آہو ایسے وحشی سے ترے
شیر بھاگیں جس کے نالوں سے نیستاں چھوڑ کر
سرخی پاں دیکھ لے زاہد جو دنداں پر ترے
اٹھ کھڑا ہو ہاتھ سے تسبیحِ مرجاں چھوڑ کر
پیش خیمہ لے کے نکلا گرد باد دور رو
ہے جو سرگرم سفر تن کو مری جاں چھوڑ کر
گر خدا دیوے قناعت ماہ دوہفتہ کی طرح
دوڑے ساری کو کبھی آدھی نہ انساں چھوڑ کر
ساغرِ دل بیچتا آیا ہوں کھو مت ہاتھ سے
چوکتا ہے کیوں یہ جنس دست گرداں چھوڑ کر
کام یہ تیرا ہی تھا رحمت ہو اے ابرِ کرم
ورنہ جائے داغ عصیاں میرا داماں چھوڑ کر
پڑھ غزل اے ذوقؔ کوئی گرم سی اب تو نہ جا
جانب مضمون طرز تفتہ جاناں چھوڑ کر