25 مئی 1912 ۔ 03 نومبر 1949

میرا جی
میرا جی (۱۹۱۲ء تا ۱۹۴۹ء) اردو ادب کی ان چند پراسرار اور پیچیدہ شخصیتوں میں سے ہیں جن کے بغیر جدید نظم کی تاریخ ادھوری ہے۔ انہیں اردو کا "باؤلا" شاعر بھی کہا گیا اور جدیدیت کا امام بھی۔
مزید

01 اگست 1790 ۔ 01 نومبر 1854

شیخ ابراہیم ذوق
مغلیہ سلطنت کے برائے نام بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے عہد میں، ملک الشعراء کے خطاب سے نوازے جانے والے ذوق اپنے زمانہ کے دوسرے اہم شاعروں غالب اور مومن سے بڑے شاعر مانے جاتے تھے.
مزید

12 نومبر 1844 ۔ 01 نومبر 1917

اسماعیل میرٹھی
مولوی اسماعیل میرٹھی کا شمار اردو ادب کے ان اہم ترین شعرا میں ہوتا ہے جن میں مولانا الطاف حسین حالی، مولوی محمد حسین آزاد وغیرہ شامل ہیں۔اسماعیل میرٹھی نے بچوں کے لئے بے مثال نظمیں تخلیق کیں
مزید

31 اکتوبر 1954 ۔ 04 جنوری 1984

سارا شگفتہ
سارہ شگفتہ وہ اردو اور پنجابی میں شاعری کرتی تھیں۔ ان کی شاعری کی مرغوب صنف نثری نظم تھی جو ان کے ایک الگ اسلوب سے مرصع تھی۔
مزید

24 اکتوبر 1775 ۔ 07 نومبر 1862

بہادر شاہ ظفر
خاندان مغلیہ کے آخری بادشاہ اور اردو کے ایک بہترین و مایا ناز شاعر اور ابراہیم ذوق کے شاگرد تھے۔ ذوق کی وفات کے بعد مرزا غالب سے شاعری میں رہنمائی حاصل کرتے رہے۔ انگریز کے ہاتھوں جلاوطن ہو جانے کے بعد انہوں نے جو غزلیں لکھیں وہاردو ادب کا اثاثہ ہیں۔
مزید

27 دسمبر 1905 ۔ 07 نومبر 1976

سید محمد جعفری
سید محمد جعفری (۱۹۰۵ء تا ۱۹۷۶ء) اردو مزاحیہ شاعری کا وہ معتبر نام ہیں جنہوں نے طنز و مزاح کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے قومی شعور اور اصلاحِ معاشرہ کا ایک توانا ہتھیار ثابت کیا۔ ان کی شاعری میں الفاظ کی کاٹ ایسی تھی کہ وہ بڑی سے بڑی سماجی برائی کا پردہ نہایت شائستگی سے چاک کر دیتے تھے۔
مزید

ہم اپنا جانتے ہر چیز کو ہوتا جو یار اپنا

شاد عظیم آبادی


نہ دل اپنا نہ غم اپنا نہ کوئی غم گسار اپنا
ہم اپنا جانتے ہر چیز کو ہوتا جو یار اپنا
جمے کس طرح اس حیرت کدے میں اعتبار اپنا
نہ دل اپنا نہ جان اپنی نہ ہم اپنے نہ یار اپنا
حقیقت میں ہمیں کو جب نہیں خود اعتبار اپنا
غلط سمجھی اگر سمجھی ہے تن کو جان زار اپنا
کہیں ہے دام ارماں کا کہیں دانے امیدوں کے
اجل کرتی ہے کس کس گھات سے ہم کو شکار اپنا
الٰہی خیر ہو اب کے بہار باغ نے پھر بھی
جمایا بے طرح بلبل کے دل پر اعتبار اپنا
جو مے کو ڈھال بھی لیں ہم تو ساقی کے اشارے پر
نہیں اس کے علاوہ مے کدے میں اختیار اپنا
اگر قاصد حقیقت میں پیام وصل لایا ہے
تو کیوں آنسو بھرے منہ دیکھتا ہے غم گسار اپنا
ضرورت کیا کسی کو اس طرف ہو کر گزرنے کی
الگ اے بیکسی بستی سے ہے کوسوں مزار اپنا
معاذ اللہ فرقت کی ہیں راتیں قبر کی راتیں
ابھی سے یاں ہوا جاتا ہے سن سن کر فشار اپنا
گلوں کی سرخ رنگت جسم میں لوکے لگاتی ہے
دکھاتی ہے تماشا کس کی آنکھوں کو بہار اپنا
خطر کیا کشتی مے کو بھلا موجِ حوادث کا
نہ بیڑا پار ہو کیونکر کہ خود ساقی ہے یار اپنا
چھپا لے گا کسی دن عرش تک کو اپنے دامن میں
دکھا دے گا تماشا پھیل کر مشتِ غبار اپنا
خبر کیا غیب کی غم خوار کو اور یاں یہ عالم ہے
کہا جاتا نہیں اپنی زباں سے حالِ زار اپنا
نہیں کرتا گوارا راہ رو کے دل پہ میل آنا
اڑا کرتا ہے رستہ سے الگ ہٹ کر غبار اپنا
دم آیا ناک میں فریادیوں کے شور و غوغا سے
قیامت میں عبث کیوں کھینچ لایا انتشار اپنا
ہم اک مہماں ہیں ہم سے دوستی کرنے کا حاصل کیا
نہیں کچھ اس جہاں میں اے شبِ غم اعتبار اپنا
کچھ ایسا کر کہ خلد آباد تک اے شادؔ جا پہنچیں
ابھی تک راہ میں وہ کر رہے ہیں انتظار اپنا
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم