24 اکتوبر 1775 ۔ 07 نومبر 1862

بہادر شاہ ظفر
خاندان مغلیہ کے آخری بادشاہ اور اردو کے ایک بہترین و مایا ناز شاعر اور ابراہیم ذوق کے شاگرد تھے۔ ذوق کی وفات کے بعد مرزا غالب سے شاعری میں رہنمائی حاصل کرتے رہے۔ انگریز کے ہاتھوں جلاوطن ہو جانے کے بعد انہوں نے جو غزلیں لکھیں وہاردو ادب کا اثاثہ ہیں۔
مزید

19 اکتوبر 1911 ۔ 05 دسمبر 1955

اسرار الحق مجاز
مجازؔ کی شاعری اردو میں غنائی شاعری کا بیش بہا نمونہ ہے۔ان کے کلام میں عجیب موسیقیت ہے جو ان کو سبھی دوسرے شعراء سے ممتاز کرتی ہے۔ انھوں نے غزلیں بھی کہیں لیکن وہ بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے۔وہ حسن پرست اور عاشق مزاج شاعر تھے
مزید

17 اکتوبر 1884 ۔ 04 فروری 1956

یگانہ چنگیزی
یگانہؔ ایک کلاسیکی غزل گو شاعر تھے۔ حالانکہ انہوں نے قطعات و رباعیات بھی کہی ہیں لیکن ان کی اصل پہچان ان کی غزلیں ہی ہیں۔ گو کہ وجہ شہرت یہی ہے کہ خود کو غالب سے بڑا شاعر سمجھتے تھے۔
مزید

16 اکتوبر 1930 ۔ 12 اکتوبر 1970

مصطفیٰ زیدی
مصطفیٰ زیدی (۱۹۳۰ء تا ۱۹۷۰ء) جدید اردو غزل کے ان چند چنیدہ شعراء میں سے ہیں جن کے ہاں شدتِ جذبات اور جمالیاتی حسیت اپنے عروج پر ملتی ہے۔ وہ ایک بلند پایہ سرکاری افسر بھی تھے، مگر ان کی اصل شناخت ان کی وہ شاعری بنی جس نے اردو غزل کو ایک نیا رومانوی اور احتجاجی رنگ عطا کیا۔
مزید

31 اکتوبر 1954 ۔ 04 جنوری 1984

سارا شگفتہ
سارہ شگفتہ وہ اردو اور پنجابی میں شاعری کرتی تھیں۔ ان کی شاعری کی مرغوب صنف نثری نظم تھی جو ان کے ایک الگ اسلوب سے مرصع تھی۔
مزید

15 اکتوبر 1933 ۔ 22 ستمبر 2010

محسن احسان
محسن احسان (۱۹۳۲ء تا ۲۰۱۰ء) خیبر پختونخوا کی مٹی سے اٹھنے والے اردو ادب کے وہ معتبر شاعر اور مترجم تھے جنہوں نے پشاور کے ادبی منظر نامے کو ایک عالمی پہچان عطا کی۔ وہ ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے جن کے کلام میں سرحدوں کے آخری سرے کی خوشبو اور جدید عہد کی فکری گہرائی یکجا ملتی ہے۔
مزید

کس مصیبت میں جان ہے پیارے

حفیظ جالندھری


دل ابھی تک جوان ہے پیارے
کس مصیبت میں جان ہے پیارے
تو مرے حال کا خیال نہ کر
اس میں بھی ایک شان ہے پیارے
تلخ کر دی ہے زندگی جس نے
کتنی میٹھی زبان ہے پیارے
وقت کم ہے نہ چھیڑ ہجر کی بات
یہ بڑی داستان ہے پیارے
جانے کیا کہہ دیا تھا روزِ ازل
آج تک امتحان ہے پیارے
ہم ہیں بندے مگر ترے بندے
یہ ہماری بھی شان ہے پیارے
نام ہے اس کا ناصح مشفق
یہ مرا مہربان ہے پیارے
کب کیا میں نے عشق کا دعویٰ
تیرا اپنا گمان ہے پیارے
میں تجھے بے وفا نہیں کہتا
دشمنوں کا بیان ہے پیارے
ساری دنیا کو ہے غلط فہمی
مجھ پہ تو مہربان ہے پیارے
تیرے کوچے میں ہے سکوں ورنہ
ہر زمیں آسمان ہے پیارے
خیر فریاد بے اثر ہی سہی
زندگی کا نشان ہے پیارے
شرم ہے احتراز ہے کیا ہے
پردہ سا درمیان ہے پیارے
عرض مطلب سمجھ کے ہو نہ خفا
یہ تو اک داستان ہے پیارے
جنگ چھڑ جائے ہم اگر کہہ دیں
یہ ہماری زبان ہے پیارے
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع