14 دسمبر 1937 ۔ 08 نومبر 2002

جون ایلیا
جون ایلیا برصغیر میں نمایاں حیثیت رکھنے والے پاکستانی شاعر، فلسفی، سوانح نگار اور عالم تھے۔ وہ اپنے انوکھے انداز تحریر کی وجہ سے سراہے جاتے تھے۔ جون ایلیا کو عربی، انگریزی، فارسی، سنسکرت اور عبرانی میں اعلیٰ مہارت حاصل تھی۔
مزید

24 اکتوبر 1775 ۔ 07 نومبر 1862

بہادر شاہ ظفر
خاندان مغلیہ کے آخری بادشاہ اور اردو کے ایک بہترین و مایا ناز شاعر اور ابراہیم ذوق کے شاگرد تھے۔ ذوق کی وفات کے بعد مرزا غالب سے شاعری میں رہنمائی حاصل کرتے رہے۔ انگریز کے ہاتھوں جلاوطن ہو جانے کے بعد انہوں نے جو غزلیں لکھیں وہاردو ادب کا اثاثہ ہیں۔
مزید

09 نومبر 1949 ۔ 09 ستمبر 1996

ثروت حسین
ثروت حسین (۱۹۴۹ء تا ۱۹۹۶ء) جدید اردو غزل کے ان چند شعراء میں شامل ہیں جنہیں "شاعروں کا شاعر" کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں جو حیرت، معصومیت اور جمالیاتی وفور ملتا ہے، وہ ان کے ہم عصروں میں مفقود ہے۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جنہوں نے خوابوں اور پرندوں کی زبان میں دکھ کی نئی صورت گری کی۔
مزید

27 دسمبر 1905 ۔ 07 نومبر 1976

سید محمد جعفری
سید محمد جعفری (۱۹۰۵ء تا ۱۹۷۶ء) اردو مزاحیہ شاعری کا وہ معتبر نام ہیں جنہوں نے طنز و مزاح کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے قومی شعور اور اصلاحِ معاشرہ کا ایک توانا ہتھیار ثابت کیا۔ ان کی شاعری میں الفاظ کی کاٹ ایسی تھی کہ وہ بڑی سے بڑی سماجی برائی کا پردہ نہایت شائستگی سے چاک کر دیتے تھے۔
مزید

17 ستمبر 1857 ۔ 10 نومبر 1912

بیخود بدایونی
اردو غزل کی تاریخ میں بیخود بدایونیؔ کا نام ایک ایسے قادر الکلام شاعر کے طور پر ابھرا جس نے داغ دہلوی کے رنگِ تغزل کو اس کی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ آگے بڑھایا۔ وہ زبان کی صفائی، محاورے کے برجستہ استعمال اور بیان کی شگفتگی میں اپنے استاد کے سچے جانشین معلوم ہوتے ہیں۔
مزید

11 نومبر 1917 ۔ 13 اپریل 1997

فارغ بخاری
فارغ بخاری (۱۹۱۷ء تا ۱۹۹۷ء) پشتو اور اردو دونوں زبانوں کے ایک نہایت معتبر ادیب، شاعر اور محقق تھے۔ انہوں نے پشاور کی ادبی شناخت کو عالمی سطح پر روشناس کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ نہ صرف ایک ترقی پسند شاعر تھے بلکہ ایک بے باک صحافی اور کمال کے خاکہ نگار بھی تھے۔
مزید

یہ مری رات کا سویرا ہے

حفیظ جالندھری


اب تو کچھ اور بھی اندھیرا ہے
یہ مری رات کا سویرا ہے
رہزنوں سے تو بھاگ نکلا تھا
اب مجھے رہبروں نے گھیرا ہے
آگے آگے چلو تبر والو
ابھی جنگل بہت گھنیرا ہے
قافلہ کس کی پیروی میں چلے
کون سب سے بڑا لٹیرا ہے
سر پہ راہی کے سربراہی نے
کیا صفائی کا ہاتھ پھیرا ہے
سرمہ آلود خشک آنسوؤں نے
نورِ جاں خاک پر بکھیرا ہے
راکھ راکھ استخواں سفید سفید
یہی منزل یہی بسیرا ہے
اے مری جان اپنے جی کے سوا
کون تیرا ہے کون میرا ہے
سو رہو اب حفیظؔ جی تم بھی
یہ نئی زندگی کا ڈیرا ہے
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع