میر مہدی مجروحؔ: غالبؔ کے معتمد شاگرد اور دبستانِ دہلی کے پاسدار
اردو ادب کی تاریخ میں میر مہدی مجروحؔ کا نام ایک ایسے شاعر کے طور پر ابھرا ہے جنہوں نے غالبؔ کی شاگردی کا حق ادا کیا اور دہلی کی ٹھیٹ زبان و بیان کی روایات کو برقرار رکھا۔ وہ ایک بلند پایہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نہایت شگفتہ مزاج اور مخلص انسان تھے، جن کی شخصیت کا عکس ان کے کلام اور معاصرین کے ساتھ ان کے تعلقات میں صاف نظر آتا ہے۔
پیدائش اور خاندانی پس منظر
میر مہدی مجروحؔ 1833ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق دہلی کے ایک معزز سادات گھرانے سے تھا جس کی علمی و ادبی خدمات کا ایک سلسلہ موجود تھا۔ ان کے والد میر سرفراز حسین بھی صاحبِ ذوق انسان تھے۔ مجروحؔ کی پرورش دہلی کے اس علمی ماحول میں ہوئی جہاں غالبؔ، ذوقؔ اور مومنؔ جیسے اساتذہ کا طوطی بول رہا تھا۔ اسی ماحول نے ان کے شعری ذوق کو جلا بخشی۔
غالبؔ سے شاگردی اور رفاقت
مجروحؔ کی سب سے بڑی پہچان مرزا غالبؔ سے ان کی گہری وابستگی ہے۔ وہ غالبؔ کے شاگردوں میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔ غالبؔ کے مکاتیب کا ایک بڑا حصہ میر مہدی مجروحؔ کے نام ہے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ غالبؔ ان پر کس قدر بھروسہ کرتے تھے اور انہیں اپنا فرزندِ معنوی سمجھتے تھے۔ مجروحؔ نے غالبؔ کے کلام کی تدوین اور ان کی زندگی کے کئی اہم پہلوؤں کو محفوظ کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔
ادبی سفر اور شعری خصوصیات
مجروحؔ کی شاعری دبستانِ دہلی کی خصوصیات کا مجموعہ ہے۔ ان کے فن کے چند نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:
- زبان کی صفائی: ان کے ہاں دہلی کا مستند محاورہ اور روزمرہ نہایت خوبصورتی سے ملتا ہے۔ وہ زبان کی شستگی اور بیان کی سادگی کے قائل تھے۔
- تغزل: ان کی غزلوں میں میرؔ کا سا سوز اور غالبؔ کی سی معنی آفرینی کی جھلک ملتی ہے، مگر ان کا اپنا ایک مخصوص رنگ ہے جو نہایت دھیما اور اثر انگیز ہے۔
- شگفتہ بیانی: اپنی شخصیت کی طرح ان کے کلام میں بھی ایک لطیف شگفتگی پائی جاتی ہے جو قاری کو اکتاہٹ کا شکار نہیں ہونے دیتی۔
حالاتِ زندگی اور قیامِ الور
1857ء کے ہنگاموں کے بعد جب دہلی اجڑی تو مجروحؔ کو بھی شدید مالی اور سماجی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ کچھ عرصہ دربدر رہے اور بالآخر ریاست الور سے وابستہ ہو گئے۔ وہاں وہ نواب کے مصاحب رہے اور اپنی ادبی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔ الور میں قیام کے دوران بھی ان کا دل دہلی کی یادوں میں بسا رہا، جس کا اظہار ان کی بعض تحریروں سے ہوتا ہے۔
تصانیف اور وفات
ان کا شعری مجموعہ 'مظہرِ معانی' کے نام سے مشہور ہے، جو ان کی فنی عظمت کا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ ان کے لکھے ہوئے خطوط بھی اردو نثر کا ایک اہم سرمایہ ہیں، جن سے اس دور کے ادبی اور سماجی حالات پر روشنی پڑتی ہے۔ میر مہدی مجروحؔ کا انتقال 1903ء میں الور میں ہوا، مگر ان کی تدفین ان کی وصیت کے مطابق ان کے محبوب شہر دہلی میں ہوئی۔
ادبی مقام
میر مہدی مجروحؔ اگرچہ غالبؔ جیسے سورج کے سائے میں رہے، مگر انہوں نے اپنی انفرادی پہچان کو کبھی کھونے نہیں دیا۔ اردو غزل کی تاریخ میں انہیں ایک ایسے پل کی حیثیت حاصل ہے جس نے کلاسیکی روایت کو جدید دور کے دہانے تک پہنچایا۔ ان کا تذکرہ غالبؔ کے تذکرے کے بغیر اور غالبؔ کا ذکر ان کے بغیر نامکمل معلوم ہوتا ہے۔