نواب مصطفیٰ خان شیفتہؔ: اردو غزل کے سچے عاشق اور بلند پایہ نقاد
اردو ادب کی تاریخ میں نواب مصطفیٰ خان شیفتہؔ ایک ایسی معتبر شخصیت ہیں جن کی پہچان صرف ان کی شاعری نہیں بلکہ ان کی وہ تنقیدی بصیرت ہے جس نے اپنے عہد کے شعراء کو پرکھنے کے نئے پیمانے دیے۔ وہ ایک صاحبِ ثروت نواب ہونے کے باوجود علم و ادب کی خدمت کے لیے وقف رہے اور ان کا شمار دہلی کے ان چیدہ چیدہ اشخاص میں ہوتا ہے جن کی رائے کو سند مانا جاتا تھا۔
پیدائش اور خاندانی پس منظر
شیفتہؔ 1804ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نواب مرتضیٰ خان مغل دربار سے وابستہ تھے اور انہیں جاگیریں عطا کی گئی تھیں۔ شیفتہؔ کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جہاں شرافت، ثروت اور علم یکجا تھے۔ انہوں نے بچپن ہی سے بہترین اساتذہ سے تعلیم حاصل کی اور عربی و فارسی زبانوں میں کمال حاصل کیا۔ ان کی پرورش نے ان کے مزاج میں وہ نفاست پیدا کی جو ان کے کلام میں بھی نمایاں ہے۔
ادبی سفر اور غالبؔ سے رفاقت
شیفتہؔ کی ادبی زندگی کا سب سے روشن پہلو مرزا غالبؔ سے ان کی گہری دوستی اور عقیدت ہے۔ وہ غالبؔ کے فن کے مداح بھی تھے اور ان کے کلام کے معتبر پارکھ بھی۔ کہا جاتا ہے کہ غالبؔ بھی اپنے کلام کے بارے میں شیفتہؔ کی رائے کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ شیفتہؔ نے شاعری میں مومن خان مومنؔ سے بھی اصلاح لی، جس کی وجہ سے ان کے کلام میں دہلی کے دبستان کی مخصوص صفائی اور ندرتِ خیال پیدا ہوئی۔
گلشنِ بے خار: اردو کا معتبر تذکرہ
شیفتہؔ کا سب سے بڑا ادبی کارنامہ ان کا تذکرہ 'گلشنِ بے خار' ہے۔ یہ صرف شعراء کے حالاتِ زندگی کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ اردو تنقید کی ابتدائی اور مستند ترین کتابوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس تذکرے میں انہوں نے نہایت دیانتداری اور بے باکی سے اپنے عہد کے شعراء کے کلام پر بحث کی ہے۔ ان کی تنقید مصلحتوں سے پاک ہوتی تھی، یہی وجہ ہے کہ 'گلشنِ بے خار' آج بھی محققین کے لیے ایک ناگزیر حوالہ ہے۔
فنی خصوصیات اور اسلوب
شیفتہؔ کی غزل گوئی میں سادگی، خلوص اور صداقت کا رنگ نمایاں ہے۔ ان کے فن کی چند اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
- شائستہ بیانی: ان کے ہاں مبالغہ آرائی کے بجائے حقیقت نگاری اور شائستگی ملتی ہے۔ وہ جذبات کے اظہار میں نہایت محتاط اور نفیس تھے۔
- موضوعات: ان کی شاعری میں تصوف، اخلاقیات اور انسانی نفسیات کے پہلو ملتے ہیں۔ وہ غزل کے روایتی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے اسے تعقل پسندی سے جوڑنے کے قائل تھے۔
- لسانی پختگی: وہ زبان کے معاملے میں نہایت سخت گیر تھے اور ان کا کلام لسانی عیوب سے پاک سمجھا جاتا ہے۔
حج کا سفر اور آخری ایام
شیفتہؔ کی زندگی میں ایک بڑا موڑ اس وقت آیا جب انہوں نے حج کا ارادہ کیا۔ اس سفر نے ان کی طبیعت میں مزید انکساری اور مذہبیت پیدا کر دی تھی۔ 1857ء کے ہنگاموں کے بعد ان پر بغاوت کا الزام بھی لگا اور ان کی جاگیر کا ایک حصہ ضبط کر لیا گیا، مگر انہوں نے ان تمام حالات کا سامنا بڑے صبر اور وقار سے کیا۔
وفات اور ادبی مقام
اردو کا یہ عظیم شاعر اور نقاد 1869ء میں وفات پا گیا، جو اتفاق سے مرزا غالبؔ کی وفات کا سال بھی ہے۔ شیفتہؔ نے اردو ادب کو جو تنقیدی شعور اور شعری نفاست عطا کی، وہ انہیں تاریخ میں ہمیشہ ممتاز رکھے گی۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے قلم کی حرمت کو کبھی مال و منال کے لیے قربان نہیں کیا۔