یگانہ چنگیزی

یگانہ چنگیزی

یگانہؔ چنگیزی: خودداری کا پیکر اور اردو غزل کا منفرد لہجہ

اردو شاعری کی تاریخ میں مرزا واجد حسین یگانہؔ چنگیزی ایک ایسی قد آور اور باغی شخصیت ہیں جنہوں نے غزل کے روایتی ڈھانچے میں اپنی خودداری اور انانیت کو اس طرح سمویا کہ ان کا کلام دوسروں سے بالکل جدا نظر آتا ہے۔ وہ اپنی حق گوئی اور بے باکی کی وجہ سے اکثر معاصرین کے عتاب کا شکار رہے، مگر انہوں نے اپنے فنی اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

پیدائش اور خاندانی پس منظر

یگانہؔ 1884ء میں پٹنہ کے محلے مغل پورہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام مرزا واجد حسین تھا، جبکہ ابتدا میں انہوں نے 'یاس' اور بعد میں 'یگانہ' تخلص اختیار کیا۔ ان کے آبا و اجداد مغلیہ فوج سے وابستہ رہے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کی طبیعت میں ایک سپاہیانہ جلال اور خود اعتمادی موجود تھی جو ان کے شعری لہجے میں بھی صاف جھلکتی ہے۔

تعلیم اور لکھنؤ کی ہجرت

انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم پٹنہ میں حاصل کی اور 1903ء میں کلکتہ یونیورسٹی سے انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔ معاش کی تلاش اور علم و ادب کی پیاس انہیں لکھنؤ لے آئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ لکھنؤ کا ادبی ماحول اگرچہ نہایت روایتی تھا، مگر یگانہؔ نے وہاں رہ کر بھی اپنی انفرادیت کو برقرار رکھا اور لکھنوی دبستان کی نزاکتوں کے درمیان اپنی توانا آواز بلند کی۔

فنی خصوصیات اور شعری اسلوب

یگانہؔ کی شاعری کے چند نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:

  • خودداری اور انا: ان کی شاعری کا بنیادی عنصر ان کی اپنی ذات اور اس کی عظمت کا احساس ہے۔ وہ انسان کو کائنات کا ایک خود مختار حصہ تسلیم کرتے تھے۔
  • لہجے کی کاٹ: ان کے ہاں الفاظ کی شوکت اور لہجے کی گھن گرج بے مثال ہے۔ وہ چھوٹے اور عام فہم الفاظ سے نہایت گہرے اور فلسفیانہ مطالب کشید کرنے کے ماہر تھے۔
  • غالبؔ شکنی: یگانہؔ نے اپنے دور کی غالبؔ پرستی کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا اور غالبؔ کے کلام پر نہایت سخت تنقید کی۔ ان کا ماننا تھا کہ ہر شاعر کو اپنا الگ راستہ بنانا چاہیے نہ کہ کسی کی اندھی تقلید کرنی چاہیے۔

تصانیف اور مجموعے

یگانہؔ کا کلام اگرچہ ضخامت میں بہت زیادہ نہیں ہے، مگر معیار کے اعتبار سے نہایت بلند ہے۔ ان کی اہم تصانیف درج ذیل ہیں:

  • نشترِ یاس: ان کا پہلا شعری مجموعہ جو ان کی ابتدائی فنی جولانیوں کا آئینہ دار ہے۔
  • آیاتِ وجدانی: یہ ان کا سب سے معتبر اور مشہور مجموعہ کلام ہے جس نے اردو غزل کو نئے استعاروں سے آشنا کیا۔
  • گنجینہ: ان کے کلام کا ایک اور اہم انتخاب۔
  • غالبؔ شکن: ان کی وہ تنقیدی کتاب جس نے ادبی دنیا میں ایک ہنگامہ برپا کر دیا تھا۔

آخری ایام اور وفات

یگانہؔ کی زندگی کا آخری دور نہایت کربناک اور المیہ رہا۔ ان کی بے باکی اور نظریاتی اختلافات کی بنا پر لکھنؤ کے بعض حلقوں نے ان کے ساتھ نہایت ناروا سلوک کیا۔ ان تمام مصائب کے باوجود انہوں نے اپنی خودداری کا سودا نہیں کیا۔ اردو کا یہ منفرد اور بے باک شاعر 4 فروری 1956ء کو لکھنؤ میں وفات پا گیا۔

ادبی مقام

یگانہؔ چنگیزی کو آج کے دور میں جدید غزل کے اہم ترین معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری نے اردو غزل کو وہ اعتماد اور تیزی عطا کی جس نے آنے والے شعراء کے لیے نئے امکانات پیدا کیے۔ ان کا کلام آج بھی ان کی عظمت اور فن پر ان کی مکمل گرفت کا بین ثبوت ہے۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد