داغ دہلوی

(1905 - 1831)

حالاتِ زندگی

داغؔ دہلوی: زبانِ اردو کے فصیح الملک اور تغزل کے بے تاج بادشاہ

اردو غزل کی تاریخ میں نواب مرزا خاں داغؔ دہلوی کا نام ایک ایسے جادو بیان شاعر کے طور پر ابھرا جس نے زبان کی صفائی، محاورے کے چست استعمال اور بیان کی شگفتگی کو معراج عطا کی۔ وہ اپنے عہد کے سب سے زیادہ مقبول استاد تھے، جن کے تلامذہ کا سلسلہ برصغیر کے طول و عرض میں پھیلا ہوا تھا۔

پیدائش اور شاہی پرورش

داغؔ 25 مئی 1831ء کو دہلی کے چاندنی چوک میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نواب شمس الدین احمد خان ریاست لوہارو کے والی تھے۔ والد کے انتقال کے بعد ان کی والدہ نے بہادر شاہ ظفر کے صاحبزادے مرزا محمد سلطان (ولی عہد) سے نکاح کر لیا، جس کے بعد داغؔ کی پرورش لال قلعہ کی شاہی فضاؤں میں ہوئی۔ اسی علمی ماحول نے ان کے شعری ذوق کو جلا بخشی اور انہیں محمد ابراہیم ذوقؔ جیسے استاد کی شاگردی میسر آئی۔

دہلی سے حیدرآباد تک کا سفر

1857ء کے ہنگاموں نے داغؔ کی زندگی کا رخ موڑ دیا۔ وہ دہلی چھوڑ کر ریاست رام پور چلے گئے جہاں نواب یوسف علی خان کی سرپرستی میں 24 سال گزارے۔ رام پور کے بعد وہ مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے بالآخر 1891ء میں حیدرآباد دکن پہنچے، جہاں نظامِ حیدرآباد محبوب علی خان نے انہیں اپنا استاد مقرر کیا اور وہ "فصیح الملک" کے خطاب سے سرفراز ہوئے۔

فنی خصوصیات اور اسلوب

داغؔ کی شاعری کا اصل حسن ان کی زبان ہے۔ ان کے فن کے چند اہم پہلو یہ ہیں:

  • سادگی و سلاست: داغؔ نے غزل کو پیچیدہ فلسفوں کے بجائے عام فہم اور روزمرہ کی زبان عطا کی۔
  • محاورہ بندی: اردو محاوروں کا جتنا برجستہ اور خوبصورت استعمال داغؔ کے ہاں ملتا ہے، وہ کسی اور کے ہاں مفقود ہے۔
  • شوخی اور معاملہ بندی: ان کی شاعری میں محبوب سے چھیڑ چھاڑ، شوخی اور جذباتی وارداتوں کا والہانہ اظہار ملتا ہے۔

شعری مجموعے اور تصانیف

داغؔ کے کلام کے چار بڑے دیوان ان کی فنی عظمت کے گواہ ہیں:

  1. گلزارِ داغ: ان کا پہلا شعری مجموعہ۔
  2. آفتابِ داغ: جس نے ادبی دنیا میں دھوم مچا دی۔
  3. مہتابِ داغ: ان کے فنی کمال کا آئینہ دار۔
  4. یادگارِ داغ: جو ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔
  5. فریادِ داغ: ایک طویل مثنوی جس میں ان کی رومانوی داستان (منی بائی کا قصہ) نظم کی گئی ہے۔

وفات اور ادبی ورثہ

اردو کا یہ عظیم جادو بیان شاعر 17 مارچ 1905ء کو حیدرآباد میں انتقال کر گیا۔ داغؔ نے اردو زبان کو وہ چاشنی دی جو آج بھی اردو بولنے والوں کے لہجے میں موجود ہے۔ ان کا یہ شعر اردو زبان کی آفاقیت کا اعلان ہے:

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے


تحریر و ترتیب: یاور ماجد

ای-بکس (آن لائن مطالعہ)