خواجہ میر دردؔ: اردو غزل کا صوفیِ اعظم اور پیکرِ اخلاص
اردو شاعری کی مثلث کے تین بنیادی ستونوں (میرؔ، سوداؔ اور دردؔ) میں سے خواجہ میر دردؔ وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے غزل کو تصوف کی گہرائی اور روحانیت کا نور عطا کیا۔ وہ صرف ایک شاعر نہیں تھے، بلکہ ایک عملی صوفی اور اپنے عہد کے جلیل القدر بزرگ تھے۔
پیدائش اور خاندانی پس منظر
خواجہ میر دردؔ 1720ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید خواجہ تھا۔ ان کا خاندان بخارا سے ہجرت کر کے ہندوستان آیا تھا۔ ان کے والد، خواجہ محمد ناصر اندلیبؔ، بذاتِ خود ایک صاحبِ طرز شاعر اور صوفی بزرگ تھے۔ دردؔ کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں علم، ادب اور معرفت کا سنگم تھا، جس نے ان کی شخصیت کو کندن بنا دیا۔
علمی و صوفیانہ تربیت
انہوں نے قرآن، حدیث، فقہ اور دیگر دینی علوم کی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ اردو، فارسی اور عربی پر انہیں مکمل دسترس حاصل تھی۔ دردؔ نے کچھ عرصہ سپاہ گری میں بھی گزارا، لیکن جلد ہی دنیاوی علائق ترک کر کے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلے اور 28 سال کی عمر میں تصوف کے راستے کو مستقل اپنا لیا۔
ادبی مقام اور شعری خصوصیات
دردؔ کی شاعری اردو غزل میں "خلوص" اور "سادگی" کا بہترین نمونہ ہے۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- تصوف اور وارداتِ قلبی: دردؔ نے تصوف کو خشک فلسفے کے بجائے ایک جذباتی اور قلبی تجربہ بنا کر پیش کیا۔ ان کے اشعار میں معرفتِ الٰہی کا رنگ نمایاں ہے۔
- مختصر دیوان، عظیم کلام: اگرچہ ان کا دیوان بہت مختصر ہے، لیکن اس کا ایک ایک شعر انتخاب کا درجہ رکھتا ہے۔ اردو نقادوں کے نزدیک وہ "کم کہنے اور بہت اچھا کہنے" کے قائل تھے۔
- استغنا اور درویشی: جب دہلی کے حالات خراب ہوئے اور میرؔ و سوداؔ جیسے شعراء کو لکھنؤ ہجرت کرنی پڑی، دردؔ نے اپنی درویشی اور قناعت کے باعث دہلی نہیں چھوڑی اور وہیں گوشہ نشین رہے۔
اہم تصانیف
ان کی علمی اور ادبی خدمات کا دائرہ نثر اور نظم دونوں پر پھیلا ہوا ہے:
- دیوانِ درد: ان کی لازوال غزلوں کا مجموعہ۔
- علم الکتاب: تصوف کے موضوع پر ان کی ضخیم اور معرکۃ الآراء نثری تصنیف۔
- چہار رسالہ: صوفیانہ اسرار و رموز پر مبنی رسائل۔
وفات اور آخری آرام گاہ
اردو غزل کا یہ صوفی شاعر 7 جنوری 1785ء کو دہلی میں وفات پا گیا۔ ان کا مزار دہلی میں آج بھی مرجعِ خلائق ہے۔ ان کا یہ شعر ان کی زندگی اور فکر کا نچوڑ ہے:
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا