فیض احمد فیضؔ: رومان اور انقلاب کا سنگم اور عالمی سفیرِ امن
اردو شاعری کے افق پر فیض احمد فیضؔ ایک ایسی قد آور شخصیت کے طور پر ابھرے جنہوں نے اپنی تخلیقی قوت سے اردو ادب کو عالمی سطح پر معتبر بنایا۔ ان کا شمار ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے شعراء میں ہوتا ہے اور ان کی شاعری انسانی حقوق، سماجی انصاف اور آزادیِ اظہار کا استعارہ بن چکی ہے۔
پیدائش اور تعلیمی پس منظر
فیض احمد فیضؔ 13 فروری 1911ء کو سیالکوٹ کے ایک معزز اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سلطان محمد خان ایک بیرسٹر اور صاحبِ علم شخصیت تھے۔ فیضؔ نے اپنی ابتدائی تعلیم مشن ہائی اسکول سیالکوٹ سے حاصل کی اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی اور عربی ادبیات میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کے اساتذہ میں پطرس بخاری اور صوفی غلام مصطفیٰ تبسم جیسی جلیل القدر شخصیات شامل تھیں۔
پیشہ ورانہ زندگی اور صحافت
فیضؔ کی عملی زندگی تنوع سے بھرپور رہی۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز تدریس سے کیا اور امرتسر کے ایم اے او کالج میں لکچرر رہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران انہوں نے فوج میں بھی خدمات انجام دیں اور لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک پہنچے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے صحافت کا رخ کیا اور مشہور انگریزی اخبار 'پاکستان ٹائمز' اور اردو اخبار 'امروز' کے چیف ایڈیٹر رہے۔ ان کی صحافت ہمیشہ جمہوریت اور عوامی مفادات کی ترجمان رہی۔
قید و بند اور جلاوطنی
فیضؔ کی زندگی کا ایک بڑا حصہ نظریاتی جدوجہد اور اس کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتوں میں گزرا۔ 1951ء میں انہیں راولپنڈی سازش کیس کے تحت گرفتار کیا گیا اور انہوں نے کئی سال مختلف جیلوں میں گزارے۔ ان کی شاعری کا ایک بڑا حصہ اسی قید کے دوران تخلیق ہوا جس میں 'زنداں نامہ' نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ زندگی کے آخری برسوں میں انہوں نے لبنان میں جلاوطنی کی زندگی گزاری اور وہیں سے 'لوٹس' میگزین کی ادارت کی۔
ادبی خدمات اور شعری مجموعے
فیضؔ نے غزل کے روایتی استعاروں کو نیا سیاسی رنگ عطا کیا۔ ان کے فن کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنی بات نہایت دھیمے اور شائستہ لہجے میں کہتے ہیں جس میں ایک خاص قسم کی موسیقیت ہوتی ہے۔ ان کی اہم تصانیف درج ذیل ہیں:
- نقشِ فریادی: ان کا پہلا مجموعہ جو رومان اور حقیقت نگاری کا سنگم ہے۔
- دستِ صبا اور زنداں نامہ: وہ مجموعے جو ان کی قید و بند کی یادگار ہیں۔
- دستِ تہِ سنگ، سرِ وادیِ سینا، اور شامِ شہرِ یاراں: ان کے فکری ارتقاء کے آئینہ دار مجموعے۔
- میرے دل میرے مسافر: ان کے آخری دور کا کلام جو ہجرت اور جلاوطنی کے دکھوں سے لبریز ہے۔
- نسخہ ہائے وفا: ان کی مکمل کلیات کا مجموعہ۔
عالمی اعزازات اور وفات
فیضؔ پہلے ایشیائی شاعر تھے جنہیں سوویت یونین کے معتبر لینن امن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں نوبل انعام کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔ اردو کا یہ عظیم شاعر 20 نومبر 1984ء کو لاہور میں وفات پا گیا۔ فیضؔ کی شاعری آج بھی دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو رہی ہے اور وہ عالمی ادب کے ان شعراء میں شامل ہیں جن کا نام ہمیشہ احترام سے لیا جائے گا۔