مرزا غالب

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے ، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ہوئی مدت کہ غالب مرگیا، پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
تجاہل پیشگی سے مدعا کیا
کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا؟
میں، اور صد ہزار نوائے جگر خراش
تو، اور ایک وہ نہ شنیدن کہ کیا کہوں
جوں شمع ہم اک سوختہ سامانِ وفا ہیں
اور اس کے سواکچھ نہیں معلوم کہ کیا ہیں
آج ہم اپنی پریشانی خاطر ان سے
کہنے جاتے تو ہیں، پر دیکھئے کیا کہتے ہیں
بیکاری جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغل
جب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی
شرع و آئین پر مدار سہی
ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
درد ہو دل میں تو دوا کیجے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے
ہم کو فریاد کرنی آتی ہے
آپ سنتے نہیں تو کیا کیجے
ہے موجزن اک قلزمِ خوں کاش یہی ہو
آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے
پر ہوں میں شکوے سے یوں، راگ سے جیسے باجا
اک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
بتائیں ہم تمہارے عارض و کاکل کو کیا سمجھے
اسے ہم سانپ سمجھے اور اسے من سانپ کا سمجھے
چاہیے اچھوں کو ، جتنا چاہیے
یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے
بے صرفہ ہی گزرتی ہے ، ہو گرچہ عمرِ خضر
حضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنجہائے گرانمایہ کیا کیے

امام بخش ناسخ


انشاء اللہ خان انشا


بہادر شاہ ظفر


حیدر علی آتش


داغ دہلوی

آرزو ہے وفا کرے کوئی
جی نہ چاہے تو کیا کرے کوئی
گر مرض ہو دوا کرے کوئی
مرنے والے کا کیا کرے کوئی
تم سراپا ہو صورت تصویر
تم سے پھر بات کیا کرے کوئی
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
ایسی جنت کو کیا کرے کوئی
یوں وفا عہدِ وفا کرتے ہیں
آپ کیا کہتے ہیں کیا کرتے ہیں
چلئے عاشق کا جنازہ اٹھا
آپ بیٹھے ہوئے کیا کرتے ہیں
یہ بتاتا نہیں کوئی مجھ کو
دل جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں
روز لیتے ہیں نیا دل دلبر
نہیں معلوم یہ کیا کرتے ہیں
داغؔ تو دیکھ تو کیا ہوتا ہے
جبر پر صبر کیا کرتے ہیں
تجھ کو بد عہد و بے وفا کہیے
ایسے جھوٹے کو اور کیا کہیے
وہ مجھے قتل کر کے کہتے ہیں
مانتا ہی نہ تھا یہ کیا کہیے
تجھ کو اچھا کہا ہے کس کس نے
کہنے والوں کو اور کیا کہیے
بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیں
ہم بھی دیکھیں تو اسے دیکھ کے کیا کہتے ہیں
ہم تصور میں بھی جو بات ذرا کہتے ہیں
سب میں اڑ جاتی ہے ظالم اسے کیا کہتے ہیں
دردِ دل کا نہ کہیے یا کہیے
جب وہ پوچھے مزاج کیا کہیے
کیا بتاؤں کہ کیا لیا میں نے
کیا کہوں میں کی کیا دیا تو نے
مجھ گنہ گار کو جو بخش دیا
تو جہنم کو کیا دیا تو نے
دل کو کیا ہو گیا خدا جانے
کیوں ہے ایسا اداس کیا جانے
جانتے جانتے ہی جانے گا
مجھ میں کیا ہے ابھی وہ کیا جانے
ہائے دو دل جو کبھی مل کے جدا ہوتے ہیں
نہیں‌معلوم وہ کیا کرتے ہیں‌ کیا ہوتے ہیں

شیخ ابراہیم ذوق


مصحفی غلام ہمدانی


مصطفٰی خان شیفتہ


مومن خان مومن

اگر غفلت سے باز آیا جفا کی
تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی
ضبط فغاں گو کہ اثر تھا کیا
حوصلہ کیا کیا نہ کیا کیا کیا
دشمن مومنؔ ہی رہے بت سدا
مجھ سے مرے نام نے یہ کیا کیا
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
کیوں الجھتے ہو جنبشِ لب سے
خیر ہے میں نے کیا کیا صاحب
ہائے ری چھیڑ رات سن سن کے
حال میرا کہا کہ کیا صاحب
ستم آزار ظلم و جور و جفا
جو کیا سو بھلا کیا صاحب
ضد سے وہ پھر رقیب کے گھر میں چلا گیا
اے رشک میری جان گئی تیرا کیا گیا
شوخ کہتا ہے بے حیا جانا
دیکھو دشمن نے تم کو کیا جانا
شکوہ کرتا ہے بے نیازی کا
تو نے مومنؔ بتوں کو کیا جانا
سنگ اسود نہیں ہے چشمِ بتاں
بوسہ مومنؔ طلب کرے کیا منہ
ناصح یہ گلہ کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
تو کب مری سنتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
مت پوچھ کہ کس واسطے چپ لگ گئی ظالم
بس کیا کہوں میں کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
اثر غم ذرا بتا دینا
وہ بہت پوچھتے ہیں کیا ہے عشق
سنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اک آپ نے وعدہ تھا
سو نباہنے کا تو ذکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کیونکر یہ کہیں منت اعدا نہ کریں گے
کیا کیا نہ کیا عشق میں کیا کیا نہ کریں گے

میر مہدی مجروح


فیض احمد فیض


مرزا رفیع سودا


یگانہ چنگیزی


باقی صدیقی

ہم چھپائیں گے بھید کیا دل کا
رنگ آنکھوں میں آ گیا دل کا
وہ مقام دل وہ جاں کیا ہو گا
تو جہاں آخری پردا ہو گا
خود سے ہم دور نکل آئے ہیں
تیرے ملنے سے بھی اب کیا ہو گا
تیری ہر بات پہ چپ رہتے ہیں
ہم سا پتھر بھی کیا ہو گا
دل بنا، دوا ہوا
درد کیا سے کیا ہوا
یہ کرم بجا مگر
وہ غرور کیا ہوا
منزلوں رہ گئے پیچھے باقیؔ
وہ گھڑی راہ میں کیا بیٹھے ہیں
وہ نظر بھی نہ دے سکی تسکیں
اے دل بے قرار اب کیا ہو
مدعا خامشی تک آ پہنچا
اب نگاہوں سے بات کیا ہو گی
دور تاروں کی انجمن جیسے
زندگی دیکنے میں کیا کیا ہے
بات کو جرم ناسزا سمجھے
اہلِ غم جانے تجھ کو کیا سمجھے
چھوڑیے بھی اب آئینے کا خیال
دیکھ پائے کوئی تو کیا سمجھے
جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے
متاعِ درد تو ہم راہ میں لٹا آئے
ایسے دل پر بھی کوئی کیا جائے
سامنے ان کے نہ بیٹھا جائے
لاکھ مجبوریاں سہی لیکن
آپ چاہیں تو کیا سے کیا ہو جائے
صبح کا بھید ملا کیا ہم کو
لگ گیا رات کا دھڑکا ہم کو
سیر مانندِ صبا کیجے گا
رہ کے گلشن میں بھی کیا کیجے گا
کس توقع پہ صدا کیجے گا
نہ سنے کوئی تو کیا کیجے گا
دل کی اک شاخ بردہکے سوا
چمنِ دہر میں کیا ہے اپنا
تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا
درخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیا
سنو تو کس لیے پتھر اٹھائے پھرتے ہو
کہو تو آئنہ خانے میں کیا نظر آیا
موج ہاتھ آئے تو دریا مانگیں
دردِ دل مانگ کے پھر کیا مانگیں
دست کوتاہ نہیں دستِ طلب
مانگنے والوں سے ہم کیا مانگیں
سوچتے ہیں سرِ ساحل باقیؔ
یہ سمندر ہمیں کیا دیتے ہیں
گل کے پردے میں ہے کیا معلوم نہیں
شعلہ صر صر ہے کہ صبا معلوم نہیں
گو خموشی نہیں غموں کا علاج
پھر بھی کیا کہتے اور کیا سنتے
ہے موت کا خیال بھی کس درجہ دلخراش
اور صورت حیات بھی کیا کیا ہے سامنے

جون ایلیا


جگر مراد آبادی

ہمیں معلوم ہے ہم سے سنو محشر میں کیا ہو گا
سب اس کو دیکھتے ہوں گے وہ ہم کو دیکھتا ہو گا
سرِ محشر ہم ایسے عاصیوں کا اور کیا ہو گا
درِ جنت نہ وا ہو گا در رحمت تو وا ہو گا
نگاہ قہر پر بھی جان و دل سب کھوئے بیٹھا ہے
نگاہِ مہر عاشق پر اگر ہو گی تو کیا ہو گا
یہ حسن یہ شوخی یہ کرشمہ یہ ادائیں
دنیا نظر آئی مجھے تو کیا نظر آیا
اک سرخوشی عشق ہے اک بے خودی شوق
آنکھوں کو خدا جانے مری کیا نظر آیا
قربان تری شان عنایت کے دل و جاں
اس کم نگہی پر مجھے کیا کیا نظر آیا
ہر حقیقت کو بانداز تماشا دیکھا
خوب دیکھا ترے جلووں کو مگر کیا دیکھا
آئینہ خانۂ عالم میں کہیں کیا دیکھا
تیرے دھوکے میں خود اپنا ہی تماشا دیکھا
دل آگاہ میں کیا کہیے جگرؔ کیا دیکھا
لہریں لیتا ہوا اک قطرے میں دریا دیکھا
میں شکوہ بلب تھا مجھے یہ بھی نہ رہا یاد
شاید کہ مرے بھولنے والے نے کیا یاد
میرے پاس آؤ یہ کیا سامنے ہوں
مری سمت دیکھو یہ کیا جا رہا ہوں
دل کو مٹا کے داغِ تمنا دیا مجھے
اے عشق تیری خیر ہو یہ کیا دیا مجھے

خواجہ میر درد


عبدالحمید عدم


قمر جلالوی


شکیب جلالی


عرفان صدیقی


مجید امجد


الطاف حسین حالی


جمال احسانی


رئیس فروغؔ


احسان دانش


اختر شیرانی


ادا جعفری


اسرار الحق مجاز


بہزاد لکھنوی


بشیر بدر


بیان میرٹھی


بیخود بدایونی


زہرا نگاہ


سدرشن فاکر


ضیا جالندھری


ظہیر کاشمیری


عبید اللہ علیم


فارغ بخاری


احمد راہی


ماجد صدیقی


اختر امام رضوی


تلوک چند محروم


جلیل مانک پوری


ثروت حسین


جوش ملیح آبادی


حسرت موہانی


حفیظ جالندھری


رسا چغتائی


خاطر غزنوی


سیف الدین سیف


سلام مچھلی شہری


سیماب اکبر آبادی

اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملا
عرفان غم ہوا مجھے اپنا پتا ملا
یہ ایک ہی تو نعمت انساں نواز تھی
دل مجھ کو مل گیا تو خدائی کو کیا ملا
غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے
ایک دل دے کر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے
دل لے کے خود کو رہتے ہیں کیا کیا لیے ہوئے
شیشے وہی تو ہیں مری دنیا لیے ہوئے
اس کے جی میں کیا یہ آئی یہ اسے کیا ہو گیا
خود چھپا عالم سے اور خود عالم آرا ہو گیا
شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیا
پردے ہی پردے میں اپنا راز افشا کر دیا
ادراک خود آشنا نہیں ہے
ورنہ انساں میں کیا نہیں ہے
کیوں جامِ شرابِ ناب مانگوں
ساقی کی نظر میں کیا نہیں ہے
تقدیر میں اضافۂ سوز وفا ہوا
دل میں جو تم نے آگ لگا دی تو کیا ہوا
زندگی دو دن کی اس پر یہ جہاں ایجادیاں
اہتمام اتنا کریں سیمابؔ اور پھر کیا کریں
جلوہ گاہ دل میں مرتے ہی اندھیرا ہو گیا
جس میں تھے جلوے ترے وہ آئنہ کیا ہو گیا
میں اور ترا سودا تو اور یہ استغنا
شاید مجھے فطرت نے مجبور کیا ہو گا
سیمابؔ جب اس دل میں تصویر نہیں ان کی
یہ آئینہ دھندلا ہے یہ آئینہ کیا ہو گا
بندۂ معنیٰ کہاں صورت کا بندا ہو گیا
سوچتا ہوں مجھ کو کیا ہونا تھا میں کیا ہو گیا
ہم ہیں سر تا بہ پا تمنا
کیسی امید کیا تمنا

شاد عظیم آبادی


شان الحق حقی


شبلی نعمانی


شکیل بدایونی


عزیز حامد مدنی


فانی بدایونی

اے اجل اے جان فانیؔ تو نے یہ کیا کر دیا
مار ڈالا مرنے والے کو کہ اچھا کر دیا
کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملا
بشر کو زیست ملی موت کو بہانہ ملا
وفا چاہتے ہیں وفا چاہتا ہوں
وہ کیا چاہتے ہیں میں کیا چاہتا ہوں
محبت کو رسوا کیا چاہتا ہوں
نظر محرم التجا چاہتا ہوں
تعین غمِ عشق کا چاہتا ہوں
انہیں چاہتا ہوں یہ کیا چاہتا ہوں
کوئی وجہِ تسکیں نہیں غم نہ راحت
خدا جانے فانیؔ میں کیا چاہتا ہوں
خود مسیحا خود ہی قاتل ہیں تو وہ بھی کیا کریں
زخم پیدا کریں یا زخمِ دل اچھا کریں
جسم آزادی میں پھونکی تو نے مجبوری کی روح
خیر جو چاہا کیا اب یہ بتا ہم کیا کریں
خون کے چھینٹوں سے کچھ پھولوں کے خاکے ہی سہی
موسمِ گل آ گیا زنداں میں بیٹھے کیا کریں
ہاں نہیں شرط مروت حسرت تاثیر درد
رحم آ ہی جائے گا ان سے تقاضا کیا کریں
مجھ کو مرے نصیب نے روزِ ازل سے کیا دیا
دولت دو جہاں نہ دی اک دلِ مبتلا دیا
بیداد کے خوگر تھے فریاد تو کیا کرتے
کرتے تو ہم اپنا ہی کچھ تم سے گلہ کرتے
تقدیر محبت تھی مر مر کے جیے جانا
جینا ہی مقدر تھا ہم مر کے بھی کیا کرتے
نادم اسے چاہا تھا جان اس پہ فدا کر کے
تدبیر تو اچھی تھی تقدیر کو کیا کرتے
آتے ہی تیرے وعدۂ فردا کا اعتبار
گھبرا کے مر نہ جائے تو پھر کیا کرے کوئی
نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم
رہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو وہ بھی کیا معلوم
ترے خیال کے اسرار بے خودی میں کھلے
ہمیں چھپا نہ سکے ورنہ دل کو کیا معلوم
جب پرسشِ حال وہ فرماتے ہیں جانیے کیا ہو جاتا ہے
کچھ یوں بھی زباں نہیں کھلتی کچھ درد سوا ہو جاتا ہے

اختر ہوشیارپوری


اکبر حمیدی


احمد فراز


اقبال ساجد


امیر مینائی

ایک دل ہم دم مرے پہلو سے کیا جاتا رہا
سب تڑپنے بلبلانے کا مزہ جاتا رہا
شربتِ دیدار سے تسکین سی کچھ ہو گئی
دیکھ لینے سے دوا کے ، درد کیا جاتا رہا
مجھ کو گلیوں میں جو دیکھا، چھیڑ کر کہنے لگے
کیوں میاں کیا ڈھونڈتے پھرتے ہو، کیا جاتا رہا
ایک دل ہمدم، مرے پہلو سے ، کیا جاتا رہا
سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا
محنت یہ کی کہ فکر کا ناخن بھی گھس گیا
عقدہ یہ آج تک نہ کھلا مجھ پہ کیا ہوں میں
ایک بوسے کے عوض مانگتے ہیں دل کیا خوب
جی میں سوچیں تو وہ کیا دیتے ہیں کیا لیتے ہیں؟
اپنی محفل سے اٹھاتے ہیں عبث ہم کو حضور
چپ کے بیٹھے ہیں الگ، آپ کا کیا لیتے ہیں؟
یہ عالم بیقراری کا ہے جب آغاز الفت میں
دھڑکتا ہے دل اپنا دیکھئے انجام کیا ٹھہرے
اٹھو جاؤ سدھا رو، کیوں مرے مردے پہ روتے ہو
ٹھہرنے کا گیا وقت اب اگر ٹھہرے تو کیا ٹھہرے
وصل ہو جائے یہیں حشر، حشر میں کیا رکھا ہے
آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے
محتسب پوچھ نہ تو شیشے میں کیا رکھا ہے
پارسائی کا لہو اس میں بھرا رکھا ہے

شاذ تمکنت


فراق گورکھپوری

تمہیں کیوں کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں
سمجھ لو سانس لینا خودکشی کرنا سمجھتے ہیں
کسی بدمست کو راز آشنا سب کا سمجھتے ہیں
نگاہِ یار تجھ کو کیا بتائیں کیا سمجھتے ہیں
کہاں کا وصل تنہائی نے شاید بھیس بدلا ہے
ترے دم بھر کے مل جانے کو ہم بھی کیا سمجھتے ہیں
نہ شوخی شوخ ہے اتنی نہ پرکار اتنی پرکاری
نہ جانے لوگ تیری سادگی کو کیا سمجھتے ہیں
جور و بے مہری اغماض پہ کیا روتا ہے
مہرباں بھی کوئی ہو جائے گا جلدی کیا ہے
کھو دیا تم کو تو ہم پوچھتے پھرتے ہیں یہی
جس کی تقدیر بگڑ جائے وہ کرتا کیا ہے
نگۂ شوخ میں اور دل میں ہیں چوٹیں کیا کیا
آج تک ہم نہ سمجھ پائے کہ جھگڑا کیا ہے
عشق سے توبہ بھی ہے حسن سے شکوے بھی ہزار
کہیے تو حضرتِ دل آپ کا منشا کیا ہے
زینت دوش ترا نامۂ اعمال نہ ہو
تیری دستار سے واعظ یہ لٹکتا کیا ہے
ہاں ابھی وقت کا آئینہ دکھائے کیا کیا
دیکھتے جاؤ زمانہ ابھی دیکھا کیا ہے
ان سے بڑھ چڑھ کے تو اے دوست ہیں یادیں ان کی
ناز و انداز و ادا میں تری رکھا کیا ہے
دل ترا جان تری آہ تری اشک ترے
جو ہے اے دوست وہ تیرا ہے ہمارا کیا ہے
دار پر گاہِ نظر گاہ سوئے شہر نگار
کچھ سنیں ہم بھی تو اے عشق ارادہ کیا ہے
گرد و غبار ہستی فانی اڑا دیا
اے کیمیائے عشق مجھے کیا بنا دیا
حیات و مرگ کے کچھ راز کھل گئے ہوں گے
فسانۂ شبِ غم ورنہ دوستو کیا تھا
شب عدم کا فسانہ گدازِ شمع حیات
سوائے کیف فنا میرا ماجرا کیا تھا
رنج و راحت وصل‌ و فرقت ہوش و وحشت کیا نہیں
کون کہتا ہے کہ رہنے کی جگہ دنیا نہیں
کچھ اشارے تھے جنہیں دنیا سمجھ بیٹھے تھے ہم
اس نگاہ آشنا کو کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم
انقلاب پے بہ پے ہر گردش و ہر دور میں
اس زمین و آسماں کو کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم
حسن کو اک حسن ہی سمجھے نہیں اور اے فراقؔ
مہرباں نا مہرباں کیا کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم

قتیل شفائی


قیوم نظر


کلیم عاجز


محبوب خزاں


مجروح سلطان پوری


محسن احسان


ناصر کاظمی

ہم تجھے بھول کے خوش بیٹھے ہیں
ہم سا بیدرد کوئی کیا ہو گا
سر میں جب عشق کا سودا نہ رہا
کیا کہیں زیست میں کیا کیا نہ رہا
خواب میں رات ہم نے کیا دیکھا
آنکھ کھلتے ہی چاند سا دیکھا
دن کے ہنگاموں کو بے کار نہ جان
شب کے پردوں میں ہے کیا غور سے سن
میں وہ اسمِ عظیم ہوں جس کو
جن و ملک نے سجدہ کیا تھا
پتھر کا وہ شہر بھی کیا تھا
شہر کے نیچے شہر بسا تھا
جنگل، دریا، کھیت کے ٹکڑے
یاد نہیں اب آگے کیا تھا
دیکھ کے تیرے دیس کی رچنا
میں نے سفر موقوف کیا تھا
تیرے دھیان کی کشتی لے کر
میں نے دریا پار کیا تھا
دیر کے مرجھائے پیڑوں کو
خوشبو نے آباد کیا تھا
بول مری مٹی کی چڑیا
تو نے مجھ کو یاد کیا تھا
کسی پرانے وہم نے شاید
تجھ کو پھر بے چین کیا تھا
رنج تو ہے لیکن یہ خوشی ہے
اب کے سفر ترے ساتھ کیا تھا
دل کو یونہی سا رنج ہے ورنہ
تیرا میرا ساتھ ہی کیا تھا
اس دنیا میں اپنا کیا ہے
کہنے کو سب کچھ اپنا ہے
منہ دیکھے کی باتیں ہیں سب
کس نے کس کو یاد کیا ہے
ہچکی تھمتی ہی نہیں ناصر
آج کسی نے یاد کیا ہے
بیٹھے ہو کیوں ہار کے سائے میں دیوار کے
شاعرو، صورت گرو کچھ تو کیا چاہیے
تری گلی میں بہت دیر سے کھڑا ہوں مگر
کسی نے پوچھ لیا تو جواب کیا دوں گا
یہ تری منزل وہ مرا رستہ
تیرا میرا ساتھ ہی کیا ہے
دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے
کبھی اس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے
دل میں اور تو کیا رکھا ہے
تیرا درد چھپا رکھا ہے
بھول بھی جاؤ بیتی باتیں
ان باتوں میں کیا رکھا ہے
ان سہمے ہوئے شہروں کی فضا کچھ کہتی ہے
کبھی تم بھی سنو یہ دھرتی کیا کچھ کہتی ہے
موسمِ گلزارِ ہستی ان دنوں کیا ہے نہ پوچھ
تو نے جو دیکھا سنا کیا میں نے دیکھا ہے نہ پوچھ
کب تلک مدعا کہے کوئی
نہ سنو تم تو کیا کہے کوئی
جی میں آتا ہے کچھ کہوں ناصر
کیا خبر سن کے کیا کہے کوئی
راتوں میں یہ رات امر ہے
کل جاگے تو پھر کیا جاگے

نوح ناروی