شکیب جلالی

شکیب جلالی

شکیب جلالیؔ: جدید اردو غزل کا درخشندہ اور المیہ ستارہ

اردو غزل کے معاصر منظر نامے پر شکیب جلالیؔ (اصل نام: سید حسن رضوی) ایک ایسی آواز بن کر ابھرے جس نے روایتی مضامین کو ترک کر کے اپنی ذات کے کرب اور عصری حسیت کو نئے استعاروں میں ڈھالا۔ ان کی شاعری میں جو ندرت اور دھار ہے، وہ انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتی ہے۔

پیدائش اور کٹھن بچپن

شکیب جلالیؔ 1 اکتوبر 1934ء کو علی گڑھ کے قصبے جلال میں پیدا ہوئے۔ ان کی زندگی کی بنیادوں میں ہی ایک بہت بڑا المیہ پوشیدہ تھا۔ بچپن میں اپنی آنکھوں کے سامنے والدہ کا انتقال دیکھنا اور اس صدمے کے نتیجے میں والد کا ذہنی توازن کھو دینا، وہ تلخ حقیقتیں تھیں جنہوں نے شکیب کے حساس دل پر گہرے زخم لگائے۔ یہی کرب بعد میں ان کی شاعری کا بنیادی رنگ بن گیا۔

تعلیم اور ہجرت

انہوں نے ابتدائی تعلیم بدایوں سے حاصل کی۔ تقسیم کے بعد وہ اپنی بہنوں کے ہمراہ پاکستان منتقل ہو گئے اور راولپنڈی میں سکونت اختیار کی۔ بعد ازاں انہوں نے لاہور سے بی اے کیا اور مختلف ادبی جریدوں سے وابستہ رہ کر اپنی علمی و ادبی پیاس بجھاتے رہے۔

ادبی مقام اور شعری خصوصیات

شکیب جلالیؔ کی غزل جدید اردو غزل کے ارتقاء میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے:

  • منفرد اسلوب: انہوں نے غزل کو مٹی کی خوشبو، ٹوٹے ہوئے خوابوں اور انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں سے آشنا کیا۔
  • جدید حسیت: ان کے ہاں چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بڑے معنی نکالنے کا فن کمال کا تھا۔ ان کی غزلوں میں ایک عجیب سی تڑپ اور بے چینی محسوس ہوتی ہے۔
  • روشنی اے روشنی: ان کا پہلا مجموعہ کلام ان کی وفات کے چھ سال بعد 1972ء میں شائع ہوا، جس نے ادبی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ بعد ازاں 2004ء میں ان کی مکمل کلیات شائع ہوئی۔

المیہ وفات

شکیب جلالیؔ کا ذہنی کرب اس حد تک بڑھ گیا کہ انہوں نے محض 32 سال کی عمر میں 12 نومبر 1966ء کو سرگودھا کے قریب ریل کی پٹری پر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ ان کی یہ ناگہانی موت اردو ادب کا ایک ایسا خسارہ ہے جسے کبھی پورا نہیں کیا جا سکتا۔

ادبی وراثت

شکیب اگرچہ بہت کم عرصہ جیے، لیکن انہوں نے اردو غزل کو وہ جلا بخشی جو کئی دہائیوں کے ریاض سے حاصل ہوتی ہے۔ وہ آج بھی نئی نسل کے شعراء کے لیے ایک آئیڈیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے لفظوں سے تصویریں بنائیں اور ان میں اپنے خونِ جگر سے رنگ بھرا۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد