عبدالحمید عدم

(1981 - 1910)

حالاتِ زندگی

عبدالحمید عدمؔ: اردو غزل کا رندِ خوش نوا اور سادہ بیان شاعر

اردو غزل کی تاریخ میں عبدالحمید عدمؔ (اصل نام: سید عبدالحمید) ایک ایسی قد آور شخصیت ہیں جن کے کلام کی سادگی اور روانی نے انہیں اپنے عہد کے مقبول ترین شعراء کی صف میں شامل کر دیا۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے زندگی کے پیچیدہ حقائق اور رندانہ افکار کو نہایت مختصر اور عام فہم بحروں میں اس طرح سمویا کہ وہ لوگوں کے حافظے کا حصہ بن گئے۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

عبدالحمید عدمؔ 10 اپریل 1910ء کو ضلع گوجرانوالہ کے گاؤں تلونڈی موسیٰ خان میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن یتیمی میں گزرا کیونکہ ان کے والد کا انتقال بہت جلد ہو گیا تھا۔ ان کی پرورش ان کے سسرال میں ہوئی جس نے ان کی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔

تعلیمی اور پیشہ ورانہ سفر

انہوں نے میٹرک اسلامیہ ہائی اسکول بھاٹی گیٹ لاہور سے کیا اور بعد ازاں پرائیویٹ طور پر ایف اے کی سند حاصل کی۔ عدمؔ صاحب کی پیشہ ورانہ زندگی کا بڑا حصہ سرکاری ملازمت میں گزرا۔ انہوں نے 1928ء کے لگ بھگ فوجی حسابات کے محکمے میں بطور کلرک ملازمت اختیار کی۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران انہیں مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور عراق میں خدمات انجام دینے کے لیے بھیجا گیا۔ بعد کی زندگی میں وہ محکمۂ خوراک سے وابستہ ہوئے اور وہاں سے بطور ڈپٹی ڈائریکٹر ریٹائر ہوئے۔

ذاتی زندگی کے نشیب و فراز

عدمؔ کی ذاتی زندگی میں تنوع اور تلخیاں دونوں موجود تھیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں قیام کے دوران انہوں نے ایک عراقی خاتون سے شادی کی، مگر یہ بندھن زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکا۔ اپنی پہلی اہلیہ کی وفات کے بعد وہ کافی ٹوٹ گئے تھے اور آخری ایام میں مسلسل بیماریوں کا شکار رہے۔

فنی خصوصیات اور شعری رنگ

عدمؔ کی شاعری کا اصل حسن ان کا مخصوص رندانہ مزاج اور سادگی ہے۔ ان کے فن کے نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:

  • سہلِ ممتنع: وہ مشکل مضامین کو نہایت آسان الفاظ میں بیان کرنے کے ماہر تھے۔
  • موضوعات: ان کے ہاں شباب، شراب، حسن و عشق اور انسانی نفسیات کے گرد گھومنے والے موضوعات کی فراوانی ہے۔
  • رومانوی و مزاحیہ رنگ: غزلوں کے ساتھ ساتھ ان کے کلام میں ایک خاص قسم کا رومانوی رچاؤ اور لطیف طنز بھی ملتا ہے۔

تصانیف

عدمؔ صاحب اردو کے ان شعراء میں شامل ہیں جن کے مجموعہ ہائے کلام کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان کی چند مشہور کتابیں یہ ہیں:

  • نقشِ دوام: ان کا پہلا شعری مجموعہ جو 1934ء میں منظرِ عام پر آیا۔
  • خرابات اور نگار خانہ: ان کی رندانہ شاعری کے معتبر نمونے۔
  • دستانِ ہیر، جھوٹ سچ، اور دستورِ وفا: ان کے مختلف ادوار کی تخلیقی کاوشیں۔
  • چارۂ درد اور آئینے: ان کی فنی پختگی کے آئینہ دار مجموعے۔

وفات

اردو غزل کا یہ درویش صفت شاعر 10 مارچ 1981ء کو لاہور میں وفات پا گیا۔ عبدالحمید عدمؔ نے غزل کو جس طرح عوامی زندگی اور عام فہم زبان سے جوڑا، وہ اردو ادب کا ایک ایسا نقش ہے جو کبھی مٹ نہیں سکے گا۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد

ای-بکس (آن لائن مطالعہ)