انشاء اللہ خان انشا

انشاء اللہ خان انشا

سید انشاء اللہ خان انشاؔ: اردو ادب کا ہمہ جہت عبقری

اردو ادب کے آسمان پر سید انشاء اللہ خان انشاؔ ایک ایسے منفرد ستارے ہیں جن کی چمک ان کے ہم عصروں سے بالکل جدا ہے۔ وہ محض ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک ایسے ماہرِ لسانیات اور انشا پرداز تھے جنہوں نے اردو زبان و بیان کو نئی وسعتوں اور جہتوں سے روشناس کرایا۔

پیدائش اور علمی پس منظر

انشاؔ 1752ء میں مرشد آباد (بنگال) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میر مشاء اللہ خان ایک شاہی طبیب اور صاحبِ علم شاعر تھے۔ انشاؔ نے اپنے والد کی نگرانی میں غیر معمولی تعلیم حاصل کی اور بہت کم عمری میں ہی اردو، فارسی اور عربی کے علاوہ ترکی، پنجابی، مراٹھی اور کشمیری جیسی کئی زبانوں پر دسترس حاصل کر لی۔

درباری زندگی اور لکھنؤ کا سفر

انشاؔ کی زندگی شاہی درباروں سے وابستہ رہی۔ وہ مرشد آباد سے دہلی منتقل ہوئے جہاں مغل بادشاہ شاہ عالم دوم نے ان کی بے پناہ پذیرائی کی۔ دہلی کے بگڑتے ہوئے حالات کے باعث وہ لکھنؤ چلے آئے اور نواب میرزا سلیمان شکوہ کے دربار سے وابستہ ہو گئے۔ ان کی حاضر جوابی، ذہانت اور تیکھی زبان جہاں انہیں ہر دلعزیز بناتی تھی، وہیں بعض اوقات ان کے لیے مشکلات اور دربار سے دوری کا باعث بھی بنی۔

ادبی کارنامے اور لسانی خدمات

انشاؔ کی علمی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، ان کے چند نمایاں کارنامے درج ذیل ہیں:

  • دریاۓ لطافت: یہ اردو زبان کے قواعد اور صرف و نحو (Grammar) پر لکھی گئی پہلی باقاعدہ اور مکمل کتاب ہے، جو ان کی لسانی مہارت کا ثبوت ہے۔
  • رانی کیتکی کی کہانی: یہ اردو نثر کی ایک ایسی منفرد داستان ہے جس میں انشاؔ نے یہ شرط نبھائی کہ اس میں عربی اور فارسی کا ایک بھی لفظ استعمال نہیں ہوگا، صرف ٹھیٹ ہندی (اردو) استعمال ہوگی۔
  • کثیر اللسانی شاعری: انہوں نے اردو اور فارسی کے علاوہ کئی مقامی زبانوں میں شاعری کر کے اپنی لسانی وسعت کا لوہا منوایا۔
  • اصنافِ سخن: غزل، قصیدہ اور مثنوی کے علاوہ انہوں نے ہجو، معمہ اور قطعات میں بھی طبع آزمائی کی۔

وفات اور ادبی مقام

اردو زبان کا یہ بے مثل ادیب اور شاعر 1817ء میں لکھنؤ میں وفات پا گیا۔ انشاؔ نے اردو ادب کو وہ شگفتگی اور تنوع عطا کیا جو ان سے پہلے ناپید تھا۔ ان کی تصانیف جیسے 'سلکِ گوہر' اور 'لطائف السعادت' آج بھی ان کی علمی جلالت کی گواہ ہیں۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد