استاد قمر جلالوی: اردو غزل کے بے تاج بادشاہ اور فنِ سخن کے استاد
اردو ادب کی تاریخ میں استاد قمر جلالوی (اصل نام: سید محمد حسین) ایک ایسی نابغہ روزگار شخصیت تھے جن کے کلام میں لکھنؤ کی تہذیب، زبان کی چاشنی اور محاورے کا برجستہ استعمال اپنی انتہا پر نظر آتا ہے۔ انہیں "استاد الشعراء" کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے سینکڑوں شاگردوں کی فنی تربیت کی اور غزل کو روایتی حسن سے مالا مال کیا۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی
قمر جلالوی 1887ء میں جلال (ضلع علی گڑھ) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک سادات گھرانے سے تھا۔ بچپن ہی سے ان کی طبیعت شعر و سخن کی طرف مائل تھی اور انہوں نے محض آٹھ نو سال کی عمر میں شعر کہنا شروع کر دیے تھے۔ ان کی پرورش ایک ایسے دور میں ہوئی جب اردو غزل اپنے کلاسیکی عروج پر تھی، جس نے ان کے فنی شعور کو پختگی عطا کی۔
پیشہ ورانہ زندگی اور ہجرت
ان کی زندگی کا بڑا حصہ تنگی اور عسرت میں گزرا، مگر انہوں نے کبھی اپنے فن پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ سائیکل سازی اور مرمت کا کام کرتے تھے اور اسی سے اپنی گزر بسر کرتے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ ہجرت کر کے کراچی منتقل ہو گئے اور اپنی زندگی کے آخری ایام تک یہیں مقیم رہے۔ ان کی سادگی اور درویشانہ مزاج ان کی شخصیت کا خاصہ تھا۔
ادبی خدمات اور شعری اسلوب
استاد قمر جلالوی کی شہرت ان کے فی البدیہہ شعر کہنے اور مشاعروں میں ان کے مخصوص اندازِ بیاں کی مرہونِ منت ہے۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- محاورہ بندی اور صفائی: وہ زبان کے معاملے میں نہایت سخت گیر تھے اور ان کے اشعار میں محاوروں کا استعمال نہایت فطری اور لطیف ہوتا تھا۔
- لکھنوی رنگ: ان کی شاعری میں لکھنؤ کے دبستان کی نزاکت اور معاملہ بندی نمایاں ہے، مگر انہوں نے اسے عوامی جذبات کے ساتھ جوڑ کر مزید دلکش بنا دیا۔
- فنِ استادی: وہ غزل کی تراش خراش کے ماہر تھے اور ان کی اصلاح سے کئی شعراء نے شہرت حاصل کی۔
شعری مجموعے
قمر جلالوی نے اپنی زندگی میں اپنے کلام کی اشاعت کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی، مگر ان کی وفات کے بعد ان کے شاگردوں اور عقیدت مندوں نے ان کا کلام جمع کر کے شائع کرایا۔ ان کی اہم تصانیف درج ذیل ہیں:
- رشکِ قمر: ان کا معتبر مجموعہ کلام جس نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے۔
- اوجِ قمر: ان کے فنی کمال کا آئینہ دار۔
- تجلیاتِ قمر اور غمِ جاوید: ان کے مختلف اصنافِ سخن پر مشتمل مجموعے۔
- عقیدتِ قمر: ان کے مذہبی کلام اور نعتوں کا مجموعہ۔
وفات اور ادبی مقام
اردو غزل کا یہ درویش صفت استاد 4 اکتوبر 1968ء کو کراچی میں وفات پا گیا۔ قمر جلالوی نے اردو غزل کو وہ قدیم رنگ اور بانکپن دیا جو اب مفقود ہوتا جا رہا ہے۔ ان کی شاعری آج بھی قوالوں اور غزل گائیکوں کی پہلی پسند ہے، جو ان کے کلام کی ہمہ گیری اور عوامی مقبولیت کا ثبوت ہے۔