سراج الدین ظفرؔ: ہوا باز، سپاہی اور صاحبِ طرز ادیب
اردو ادب کے منظر نامے پر سراج الدین ظفرؔ ایک ایسی منفرد شخصیت کے طور پر ابھرے جنہوں نے زندگی کے متضاد میدانوں یعنی ہوابازی، سپاہ گری، تجارت اور ادب میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کی شاعری اور نثر میں ایک خاص قسم کی تازگی اور زندگی کی بھرپور توانائی کا احساس ملتا ہے۔
پیدائش اور علمی وراثت
سراج الدین ظفرؔ 25 مارچ 1912ء کو جہلم میں پیدا ہوئے۔ انہیں علم و ادب کی دولت ورثے میں ملی تھی۔ ان کے نانا فقیر محمد جہلمی سراج الاخبار کے مدیر اور حدائق الحنیفہ جیسی معتبر کتاب کے مصنف تھے، جبکہ ان کی والدہ بیگم زینب عبد القادر کا شمار بھی اپنے وقت کی ممتاز مصنفات میں ہوتا تھا۔
تعلیمی سفر اور ہوابازی کا شوق
ان کی تعلیم کا آغاز جہلم سے ہوا، جس کے بعد انہوں نے ایف سی کالج لاہور سے بی اے اور بعد ازاں ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ سراج الدین ظفرؔ کی شخصیت کا ایک دلچسپ پہلو ان کا ہوابازی سے عشق تھا۔ انہوں نے دہلی فلائنگ کلب سے ہوا بازی کا اے کلاس لائسنس حاصل کیا، مگر والد کے ناگہانی انتقال کے باعث اس شوق کو بطور پیشہ جاری نہ رکھ سکے۔
پیشہ ورانہ تنوع: وکالت سے پاک فضائیہ تک
سراج الدین ظفرؔ کی عملی زندگی تنوع سے بھرپور رہی:
- وکالت: انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز وکالت سے کیا، مگر جلد ہی اس پیشے کی یکسانیت سے ان کی طبیعت اکتا گئی۔
- فوجی خدمات: دوسری جنگِ عظیم کے دوران وہ ہوائی فوج میں افسر بھرتی ہوئے اور دس سال تک مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔
- تجارت: 1950ء میں فوجی ملازمت ترک کرنے کے بعد انہوں نے تجارت کی دنیا میں قدم رکھا اور وہاں بھی بھرپور کامیابی حاصل کی۔
ادبی تخلیقات اور فن
سراج الدین ظفرؔ بیک وقت ایک قادر الکلام شاعر، افسانہ نگار اور مضمون نگار تھے۔ ان کے کلام میں شباب، شراب اور زندگی کے حسن کا ذکر نہایت فنکاری سے ملتا ہے۔ ان کی اہم تصانیف درج ذیل ہیں:
- زمزمۂ حیات (1936ء): ان کا پہلا شعری مجموعہ جو ان کی جوانی کے ولولوں کا آئینہ دار ہے۔
- غزال و غزل (1968ء): ان کے پختہ کلام کا مجموعہ جس نے انہیں معتبر شعراء کی صف میں شامل کیا۔
- آئینے (1943ء): ان کا افسانوی مجموعہ جس میں انسانی نفسیات کے مختلف رنگ دکھائے گئے ہیں۔
- نقوشِ ادب: ان کے علمی و ادبی مضامین کا مجموعہ۔
وفات
اردو ادب کی یہ ہمہ گیر شخصیت 6 مئی 1972ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئی، مگر ان کی تخلیقات آج بھی اردو ادب کے قارئین کے لیے ذوقِ طبع کا سامان فراہم کرتی ہیں۔