امام بخش ناسخؔ: دبستانِ لکھنؤ کے بانی اور مصلحِ زبان
اردو شاعری کی تاریخ میں شیخ امام بخش ناسخؔ کا نام ایک ایسے استادِ فن کے طور پر محفوظ ہے جنہوں نے اردو زبان کو تراشنے، نکھارنے اور اسے ایک ضابطے میں لانے کا عظیم کام انجام دیا۔ وہ لکھنوی اسلوبِ شاعری کے سب سے بڑے علمبردار اور صاحبِ طرز شاعر تھے۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی
ناسخؔ 10 اپریل 1772ء کو فیض آباد (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام شیخ امام بخش تھا۔ وہ ایک متمول گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے عربی و فارسی میں اعلیٰ مہارت حاصل کی۔ زندگی کا ابتدائی حصہ فیض آباد میں گزارنے کے بعد وہ امیرِ فیض آباد محمد تقی کی سرپرستی میں لکھنؤ منتقل ہو گئے اور پھر وہیں کے ہو کر رہ گئے۔
ادبی خدمات اور لسانی اصلاحات
ناسخؔ کا سب سے بڑا کارنامہ 'اصلاحِ زبان' ہے۔ انہوں نے اردو کو فارسی کے معیار پر پرکھا اور اس کی لغوی حدود کو وسعت دی۔
- لکھنوی دبستان کی بنیاد: ناسخؔ نے دہلی کے دھیمے لہجے کے مقابلے میں لکھنؤ کا پرشکوہ اور صنعت گری سے بھرپور اسلوب متعارف کروایا۔
- لسانی نفاست: انہوں نے اردو سے متروک اور ثقیل الفاظ نکال کر اسے زیادہ مانوس اور صیقلی بنایا۔ قواعد اور نحو پر ان کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ ان کا کلام سند مانا جاتا تھا۔
- صنائع بدائع کا استعمال: ان کی شاعری میں لفظی رعایتوں، تشبیہات اور استعاروں کا ایسا جال بنا ہوتا ہے جو فنی مہارت کا شاہکار ہے۔
شخصی زندگی اور انوکھے معمولات
ناسخؔ کی شخصیت اپنے عہد کے شعراء میں سب سے جدا تھی۔ انہوں نے تمام عمر شادی نہیں کی اور ایک آزاد منش زندگی گزاری۔ ان کی زندگی کے تین بڑے شوق ادبی تاریخ میں بہت مشہور ہیں:
- ورزش: وہ پہلوانی کے دلدادہ تھے اور روزانہ ہزاروں کی تعداد میں ڈنڈ پیلتے تھے، جس کی وجہ سے ان کا جسم نہایت کسرتی تھا۔
- عمدہ خوراک: انہیں کھانے پینے کا بہت شوق تھا اور وہ اپنی غذا کا خاص خیال رکھتے تھے۔
- شاعری: شاعری ان کا اوڑھنا بچھونا تھی، اور وہ اپنے شاگردوں کی تربیت بھی اسی انہماک سے کرتے تھے۔
وفات اور ادبی ورثہ
اردو غزل کو ایک نئی تراش خراش دینے والا یہ عظیم شاعر 16 اگست 1838ء کو لکھنؤ میں وفات پا گیا۔ ان کے شعری مجموعے (دیوان) اردو زبان کے ارتقاء کو سمجھنے کے لیے بنیادی مآخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری نے آنے والے کئی دہائیوں تک لکھنؤ کے ادبی افق کو متاثر کیے رکھا۔