عرفان صدیقی: روایت کا پاسدار اور جدید غزل کا توانا لہجہ
اردو غزل کے معاصر منظر نامے پر عرفان صدیقی ایک ایسی قد آور شخصیت تھے جنہوں نے اپنی تخلیقی قوت سے غزل کو ایک نیا وقار عطا کیا۔ ان کی شاعری میں جہاں بدایوں کی علمی تہذیب کا رچاؤ ہے، وہیں جدید دور کے سماجی اور سیاسی کرب کی بھرپور عکاسی بھی ملتی ہے۔
پیدائش اور علمی وراثت
عرفان صدیقی 8 جنوری 1939ء کو بدایوں (اتر پردیش) کے ایک نہایت معزز اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا پورا خاندان علم و ادب کی قندیلیں روشن کرنے میں پیش پیش رہا۔ ان کے پردادا مولانا محمد انصار حسین، دادا مولوی اکرام احمد شاد اور والد مولوی سلمان احمد صدیقی سبھی صاحبِ قلم اور صاحبِ دیوان شعراء تھے۔ اسی علمی ماحول نے ان کے شعری ذوق کی ایسی آبیاری کی کہ وہ بہت جلد ایک معتبر آواز بن کر ابھرے۔
تعلیمی سفر اور صحافتی تربیت
ان کی ابتدائی تعلیم بدایوں میں ہی مکمل ہوئی، جس کے بعد انہوں نے بریلی کالج سے بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ عرفان صدیقی نے اپنے علمی افق کو وسعت دینے کے لیے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونی کیشن سے صحافت کا ڈپلوما بھی حاصل کیا۔ اس فنی تربیت نے ان کے مشاہدے کو وسعت بخشی اور ان کے بیان میں بلاغت پیدا کی۔
پیشہ ورانہ زندگی اور انتظامی خدمات
عرفان صدیقی نے 1962ء میں حکومتِ ہند کے محکمہ اطلاعات و نشریات سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ وہ وزارتِ دفاع کے مختلف اہم شعبوں سے بھی وابستہ رہے۔ اپنی دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت کی بدولت وہ مختلف منازل طے کرتے ہوئے 1998ء میں ڈپٹی پرنسپل انفارمیشن افسر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ سبکدوشی کے بعد انہوں نے لکھنؤ کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔
ادبی خدمات اور تخلیقی رنگ
عرفان صدیقی کی اصل پہچان ان کی غزل گوئی ہے۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- استعاراتی نظام: انہوں نے کربلا کے واقعے کو ایک آفاقی استعارے کے طور پر برتا اور اسے ظلم و جبر کے خلاف احتجاج کی علامت بنایا۔
- کلاسیکی و جدید امتزاج: ان کے ہاں میر تقی میرؔ کا سوز اور غالبؔ کی فکر ایک نئے لہجے میں یکجا نظر آتی ہے۔
- تراجم: انہوں نے صرف شاعری نہیں کی بلکہ کالی داس کی شہرہ آفاق نظم 'رت سنگھار' اور ڈرامہ 'مالویکا اگنی متر' کا اردو میں ترجمہ کر کے اپنی لسانی مہارت کا ثبوت دیا۔
شعری مجموعے اور اعزازات
ان کے پانچ اہم شعری مجموعے یعنی کینوس، شبِ درمیاں، سات سماوات، عشق نامہ اور ہوائے دشت ماریہ اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی مکمل کلیات 'دریا' کے نام سے پاکستان سے بھی شائع ہو چکی ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں اتر پردیش حکومت نے انہیں میر اکادمی کے اعزاز سے نوازا۔
وفات
اردو غزل کا یہ عظیم معمار 15 اپریل 2004ء کو لکھنؤ میں وفات پا گیا۔ عرفان صدیقی نے اپنی شاعری کے ذریعے جو نقوش چھوڑے ہیں، وہ آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے۔ ان کی وفات سے اردو غزل ایک نہایت سنجیدہ اور صاحبِ اسلوب شاعر سے محروم ہو گئی۔