مجید امجد

(1974 - 1914)

حالاتِ زندگی

مجید امجدؔ: کائنات کا شاعر اور جدید اردو نظم کا معمارِ اعظم

اردو ادب کی تاریخ میں مجید امجدؔ ایک ایسی عبقری شخصیت ہیں جن کا مقام و مرتبہ کسی ایک تحریک یا دور تک محدود نہیں ہے۔ وہ ایک ایسے ہمہ گیر شاعر تھے جنہوں نے مٹی کی مہک سے لے کر ستاروں کی گردش تک ہر شے کو اپنی نظم کا موضوع بنایا۔ ان کی شاعری انسانی وجود، وقت کے جبر اور کائناتی وسعتوں کا ایک لافانی مرقع ہے۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

مجید امجدؔ 29 جون 1914ء کو جھنگ (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش ایک علمی اور مذہبی ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم جھنگ سے ہی حاصل کی اور بعد ازاں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی طبیعت میں بچپن ہی سے ایک خاص قسم کا تدبر اور گوشہ نشینی موجود تھی، جس نے ان کے شعری مزاج کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

پیشہ ورانہ زندگی اور درویشی

مجید امجدؔ کی عملی زندگی کا بڑا حصہ محکمہ خوراک (Food Department) میں گزرا۔ وہ مختلف شہروں میں تعینات رہے، مگر ان کا زیادہ وقت منٹگمری (موجودہ ساہیوال) میں گزرا۔ وہ ایک نہایت سادہ لوح، ملنسار اور درویش صفت انسان تھے۔ انہوں نے کبھی شہرت کی تمنا نہیں کی اور اپنی پوری زندگی خاموشی سے تخلیقِ ادب کے لیے وقف کر دی۔ ان کی شخصیت میں موجود قناعت اور استغنا ان کی شاعری میں بھی صاف جھلکتا ہے۔

ادبی خدمات اور فنی اسلوب

مجید امجدؔ نے اگرچہ غزلیں بھی کہیں، لیکن ان کی اصل پہچان ان کی نظمیں ہیں۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • کائناتی شعور: وہ اردو کے واحد شاعر ہیں جن کے ہاں سائنس، فلکیات اور انسانی نفسیات کا ایک انوکھا امتزاج ملتا ہے۔ وہ کائنات کے بدلتے ہوئے رنگوں کو انسانی زندگی کے تناظر میں دیکھتے تھے۔
  • ہیئت کے تجربات: انہوں نے نظم کی ہیئت میں بے شمار تجربات کیے اور اردو نظم کو نئی اصناف اور اسالیب سے روشناس کرایا۔ ان کی نظموں کا آہنگ ان کے موضوعات کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔
  • وقت کا تصور: وقت ان کی شاعری کا ایک اہم استعارہ ہے۔ وہ گزرتے ہوئے لمحوں کی سنگینی اور ابدیت کے احساس کو بڑی فنکاری سے بیان کرتے تھے۔
  • فکری بلندی: ان کے ہاں قدیم و جدید علوم کا ایسا رچاؤ ملتا ہے جو انہیں اپنے تمام ہم عصروں سے ممتاز اور منفرد بناتا ہے۔

تصانیف اور کلیات

مجید امجدؔ کی زندگی میں ان کا صرف ایک مجموعہ کلام 'شبِ رفتہ' 1958ء میں شائع ہو سکا تھا۔ ان کی وفات کے بعد ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نے ان کے منتشر کلام کو نہایت محنت سے جمع کیا اور 'کلیاتِ مجید امجد' کے نام سے شائع کرایا۔ اس کلیات کی اشاعت نے ادبی دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ مجید امجدؔ اپنے عہد کے کتنے بڑے اور قد آور شاعر تھے۔

وفات اور ادبی وراثت

اردو نظم کا یہ عظیم جادوگر 11 مئی 1974ء کو ساہیوال میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گیا۔ مجید امجدؔ نے اردو زبان کو وہ الفاظ اور استعارے دیے جو اس سے پہلے ناپید تھے۔ آج کے دور میں جب جدید نظم کی بات ہوتی ہے تو مجید امجدؔ کا نام ایک ناگزیر حوالے کے طور پر سامنے آتا ہے۔ وہ ایک ایسے شاعر ہیں جن کا مطالعہ قاری کو ایک نئی دنیا سے روشناس کراتا ہے۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد

غزل سرا مطبوعات (دستیاب برائے فروخت)

شبِ رفتہ
شبِ رفتہ