ن م راشدؔ: اردو آزاد نظم کا معمارِ اعظم اور عہد ساز مفکر
اردو شاعری کی تاریخ میں ن م راشدؔ (اصل نام: نذر محمد راشد) ایک ایسی انقلابی شخصیت ہیں جنہوں نے اردو نظم کو ہیئت اور موضوع کے اعتبار سے نئی وسعتوں سے آشنا کیا۔ وہ حلقہ اربابِ ذوق کے اولین معماروں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی شاعری مشرق کے سیاسی و سماجی شعور اور انسانی وجود کے داخلی و خارجی تضادات کا بہترین مرقع ہے۔
پیدائش اور علمی پس منظر
ن م راشدؔ یکم اکتوبر 1910ء کو ضلع گوجرانوالہ کے قصبے اکال گڑھ (موجودہ علی پور چٹھہ) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جہاں علم و ادب کی قندیلیں پہلے سے روشن تھیں۔ ان کے والد راجا فضل الہی چشتی فارسی کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے، جبکہ ان کے دادا ڈاکٹر غلام رسول غلامیؔ اردو اور فارسی کے باقاعدہ شاعر تھے۔ اسی علمی وراثت نے راشدؔ کے شعری اسلوب کو وہ مضبوط بنیادیں فراہم کیں جو بعد میں ان کی پہچان بنیں۔
تعلیمی سفر اور لسانی دسترس
انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے 1932ء میں سیاسیات میں ایم اے کیا۔ دورانِ تعلیم انہوں نے نہ صرف انگریزی، فرانسیسی اور فارسی زبانیں پڑھیں بلکہ ان پر مکمل دسترس بھی حاصل کی۔ انہوں نے تین سال تک جامعہ پنجاب میں ان زبانوں کے استاد کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ فارسی زبان سے ان کی گہری شناسائی ان کے شعری اسلوب کی ایک ایسی امتیازی خصوصیت ہے جو ان کی نظموں کو ایک خاص وقار اور آہنگ عطا کرتی ہے۔
عملی زندگی اور عالمی تجربات
راشدؔ کی عملی زندگی کا آغاز 1935ء میں ایک کلرک کی حیثیت سے ہوا، مگر اپنی قابلیت کی بنا پر انہوں نے جلد ہی ترقی کی منازل طے کیں۔ وہ آل انڈیا ریڈیو اور قیامِ پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے۔ ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ اقوامِ متحدہ میں خدمات انجام دیتے ہوئے گزرا، جس کے باعث انہیں ایران، عراق، مصر، امریکہ اور روس سمیت درجنوں ممالک کے سفر اور وہاں کے حالات کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ یہی عالمی سیاسی و سماجی تناظر ان کے مجموعے 'ایران میں اجنبی' کی بنیاد بنا۔
ادبی خدمات اور ادارت
راشدؔ کی ادبی زندگی کا آغاز حلقہ اربابِ ذوق سے ہوا جہاں وہ میرا جی کے ہمراہ سرگرم رہے۔ ان کی پہلی نظم 'اتفاقات' 1935ء میں شائع ہوئی۔ انہوں نے متعدد ادبی جرائد کی ادارت بھی کی، جن میں 'راوی'، 'نخلستان' اور 'شاہکار' جیسے معتبر رسائل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے انگریزی رسالے 'دی بیکن' کی ادارت کے ذریعے اپنی صحافتی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
تصانیف اور شعری مجموعے
راشدؔ کے شعری مجموعوں نے اردو نظم کو ایک نیا رخ عطا کیا۔ ان کی اہم تصانیف درج ذیل ہیں:
- ماورا: ان کا پہلا مجموعہ جو 1941ء میں شائع ہوا اور جس نے اردو نظم میں جدیدیت کی بنیاد رکھی۔
- ایران میں اجنبی: ان کے عالمی سیاسی شعور کا آئینہ دار مجموعہ۔
- لا مساوی انسان: ان کے فکری ارتقاء کا شاہکار جو 1969ء میں منظرِ عام پر آیا۔
- گماں کا ممکن: ان کا آخری مجموعہ جو ان کی وفات کے بعد 1976ء میں شائع ہوا۔
ذاتی زندگی اور المیہ وفات
راشدؔ نے دو شادیاں کیں۔ پہلی شادی صفیہ بیگم سے ہوئی اور ان کے انتقال کے بعد انہوں نے ایک اطالوی خاتون شیلا انجلینی سے دوسری شادی کی۔ راشدؔ کی زندگی تنازعات اور الزامات کی زد میں بھی رہی۔ 9 اکتوبر 1975ء کو برطانیہ میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی وصیت کے مطابق ان کی میت کو جلایا گیا، جو ادبی اور مذہبی حلقوں میں ایک طویل بحث اور تنقید کا سبب بنا۔ تاہم ان کی شعری عظمت آج بھی اردو ادب میں مسلمہ ہے۔