سیف الدین سیف

سیف الدین سیفؔ: اردو غزل کا نغمہ گر اور فلمی نغمہ نگاری کا آفتاب

اردو شاعری کی تاریخ میں سیف الدین سیفؔ ایک ایسی شخصیت ہیں جن کے کلام میں غنائیت، سادگی اور جذباتی گہرائی اپنی انتہا پر نظر آتی ہے۔ انہوں نے غزل کو ایک نیا شکوہ عطا کیا اور فلمی دنیا میں نغمہ نگاری کے ایسے معیارات قائم کیے جو آج بھی نئے لکھنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

سیف الدین سیفؔ 1922ء میں امرتسر (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش ایک ایسے علمی دور میں ہوئی جب اردو زبان اپنے پورے جوبن پر تھی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم امرتسر میں ہی حاصل کی اور قیامِ پاکستان کے بعد لاہور منتقل ہو گئے۔ لاہور کی ادبی فضا نے ان کے شعری ذوق کو مزید نکھارا اور وہ بہت جلد شہر کے معتبر ادبی حلقوں کا حصہ بن گئے۔

ادبی سفر اور شعری اسلوب

سیفؔ کی اصل پہچان ان کی غزل گوئی ہے۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • لہجے کا گداز: ان کے ہاں ایک خاص قسم کا سوز اور دھیما پن پایا جاتا ہے جو قاری کے دل پر براہِ راست اثر کرتا ہے۔
  • روایت اور جدت: انہوں نے کلاسیکی غزل کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اسے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ ان کے کلام میں زبان کی صفائی اور بیان کی ندرت نمایاں ہے۔
  • مقبولیت: ان کی غزلیں مشاعروں کی جان ہوا کرتی تھیں اور ان کا مخصوص لب و لہجہ انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتا تھا۔

فلمی خدمات اور نغمہ نگاری

سیف الدین سیفؔ نے پاکستان کی فلمی صنعت کے لیے ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کئی یادگار فلموں کے گیت لکھے جو آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔ انہوں نے فلم سازی کے میدان میں بھی قدم رکھا اور 'کارتار سنگھ' جیسی شاہکار فلم بنائی جو تقسیمِ ہند کے موضوع پر ایک مستند دستاویز تسلیم کی جاتی ہے۔ ان کے لکھے ہوئے گیتوں میں جو ادبی شان ملتی ہے، وہ کم ہی نغمہ نگاروں کے حصے میں آئی۔

خمِ کاکل: شعری مجموعہ

سیفؔ کی شاعری کا مجموعہ 'خمِ کاکل' کے نام سے شائع ہوا، جسے اردو ادب میں ایک کلاسک کی حیثیت حاصل ہے۔ اس مجموعے میں ان کی بہترین غزلیں اور نظمیں شامل ہیں جو ان کی فنی پختگی اور قادر الکلامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

وفات اور ادبی مقام

اردو کا یہ مایہ ناز شاعر اور نغمہ نگار 12 جولائی 1993ء کو لاہور میں وفات پا گیا۔ سیف الدین سیفؔ نے اپنی شاعری اور فلمی خدمات کے ذریعے اردو ادب اور ثقافت کو جو نئی جہتیں دیں، وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے لفظ کو موسیقی دی اور موسیقی کو لفظوں کے ذریعے امر کر دیا۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد