سلام مچھلی شہری: اردو نظم و غزل کا رومانوی اور عوامی ترجمان
اردو شاعری کی تاریخ میں سلام مچھلی شہری (اصل نام: عبدالسلام) ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی تخلیقی قوت سے اردو نظم اور غزل کو عوامی دلوں تک پہنچایا۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے اپنے عہد کے سماجی مسائل اور رومانی جذبوں کو نہایت سادگی اور اثر انگیزی کے ساتھ بیان کیا۔ ان کی شاعری میں زندگی کی حقیقتیں اور خوابوں کی دنیا ساتھ ساتھ چلتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی
سلام مچھلی شہری یکم جولائی 1921ء کو اتر پردیش کے ضلع جونپور کے قصبے مچھلی شہر میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش ایک علمی اور ادبی ماحول میں ہوئی، جس نے ان کے شعری ذوق کی آبیاری کی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مچھلی شہر اور الہ آباد میں حاصل کی، جہاں انہیں اس وقت کے بڑے ادیبوں اور مفکروں کی صحبت میسر آئی۔
ادبی سفر اور ترقی پسند تحریک
سلام مچھلی شہری اپنی جوانی کے دور میں ترقی پسند تحریک سے متاثر ہوئے اور ان کی شاعری میں محنت کش طبقے کے دکھوں اور سماجی ناانصافیوں کا ذکر ملنے لگا۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- رومانوی آہنگ: ان کی شاعری میں حسن و عشق کے معاملات کو نہایت لطیف اور دلکش انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کی غزلوں میں ایک خاص قسم کی نغمگی اور موسیقیت پائی جاتی ہے۔
- عوامی لب و لہجہ: انہوں نے مشکل اور پیچیدہ الفاظ کے بجائے سادہ اور عام فہم زبان کو ترجیح دی، جس کی وجہ سے ان کا کلام عوام و خواص میں یکساں مقبول ہوا۔
- گیت نگاری: وہ ایک بہترین گیت نگار بھی تھے اور ان کے لکھے ہوئے گیتوں میں مٹی کی خوشبو اور دیہی زندگی کے رنگ نمایاں ہیں۔
پیشہ ورانہ زندگی اور خدمات
سلام مچھلی شہری کی عملی زندگی کا ایک بڑا حصہ آل انڈیا ریڈیو سے وابستگی میں گزرا۔ انہوں نے ریڈیو کے لیے بے شمار نظمیں، ڈرامے اور فیچرز لکھے، جنہوں نے ان کی شہرت کو چار چاند لگا دیے۔ ان کی آواز اور ان کے لہجے کی شائستگی ریڈیو کے سامعین میں بے حد مقبول تھی۔
شعری مجموعے اور تصانیف
ان کے کئی مجموعہ ہائے کلام شائع ہوئے، جن میں درج ذیل زیادہ مشہور ہیں:
- وسعتیں: ان کے شعری سفر کا ایک اہم پڑاؤ۔
- پائل: اس مجموعے نے ان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ کیا۔
- مرے نغمے: ان کے نغمات اور غزلوں کا ایک خوبصورت انتخاب۔
وفات اور ادبی مقام
اردو کا یہ مایہ ناز شاعر 1973ء میں نئی دہلی میں وفات پا گیا۔ سلام مچھلی شہری نے اردو ادب کو جو شعری سرمایہ عطا کیا، وہ آج بھی زندہ و جاوید ہے۔ ان کی شاعری نے غزل کو جو رومانی تازگی دی، وہ انہیں جدید اردو شعراء کی صفِ اول میں برقرار رکھنے کے لیے کافی ہے۔