سیماب اکبر آبادی: ناخدائے سخن اور دبستانِ داغ کے عظیم جانشین
اردو شاعری کی تاریخ میں سیماب اکبر آبادی (اصل نام: عاشق حسین صدیقی) ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت کے طور پر ابھرے جنہوں نے اپنی بے پناہ تخلیقی قوت سے اردو ادب کے دامن کو مالا مال کیا۔ وہ ایک صاحبِ طرز شاعر، بے مثل استاد اور ایک عظیم ادارے کے بانی تھے، جن کے شاگردوں کا حلقہ برِ صغیر کے گوشے گوشے میں پھیلا ہوا تھا۔
پیدائش اور تعلیمی پس منظر
سیماب اکبر آبادی 5 جون 1880ء کو آگرہ (اکبر آباد) کے محلے نائی منڈی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد حسین صدیقی خود ایک صاحبِ ذوق شاعر تھے۔ سیماب نے فارسی اور عربی کی تعلیم جمال الدین سرحدی اور رشید احمد گنگوہی جیسے جید علماء سے حاصل کی۔ انہوں نے اجمیر سے میٹرک کیا، مگر والد کے انتقال کے باعث ایف اے کی تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی۔ علمی پیاس اور حالات کی سختی نے انہیں جلد ہی عملی زندگی کی جدوجہد میں شامل کر دیا۔
داغ دہلوی کی شاگردی اور قصرِ ادب
1898ء میں سیماب نے فصیح الملک مرزا داغ دہلوی کی شاگردی اختیار کی، جو علامہ اقبال کے بھی استاد تھے۔ داغ کی شاگردی نے سیماب کے کلام کو وہ لسانی صفائی اور محاورے کی پختگی عطا کی جو ان کا خاصہ بنی۔ 1921ء میں انہوں نے ملازمت ترک کر کے آگرہ میں 'قصرِ ادب' کے نام سے ایک عظیم ادبی ادارہ قائم کیا، جس نے اردو ادب کی ترویج میں تاریخی کردار ادا کیا۔
صحافتی اور تصنیفی خدمات
سیماب اکبر آبادی ایک انتھک قلمکار تھے۔ انہوں نے 'پیمانہ'، 'شاعر'، 'تاج'، 'ثریا' اور 'کنول' جیسے کئی معتبر رسائل جاری کیے۔ ان کی لکھی ہوئی کتابوں کی حیرت انگیز تعداد 284 ہے، جس میں 22 شعری مجموعے شامل ہیں۔ ان کا ایک بڑا علمی کارنامہ قرآن مجید کا منظوم ترجمہ 'وحیِ منظوم' ہے، جس کی اشاعت کا خواب انہیں قیامِ پاکستان کے بعد کراچی لے آیا۔
شعری اسلوب اور کمالِ فن
سیماب کو ان کے معاصرین 'ناخدائے سخن' کہتے تھے۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- قادر الکلامی: وہ غزل، نظم، رباعی اور قصیدہ سمیت ہر صنفِ سخن پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔
- شاگردوں کی کثیر تعداد: ان کے ڈھائی ہزار سے زائد شاگرد تھے، جن میں ساغر نظامی، راز چاندپوری اور ضیاء فتح آبادی جیسے نامور شعراء شامل ہیں۔
- داغ کی جانشینی: سائل دہلوی انہیں 'جانشینِ داغ' کہا کرتے تھے، کیونکہ انہوں نے داغ کے اسلوب کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے مزید وسعت دی۔
مشہور شعری مجموعے
ان کے مجموعہ ہائے کلام میں درج ذیل کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی:
- نیستاں: ان کا پہلا مجموعہ جو 1923ء میں شائع ہوا۔
- کلیمِ عجم اور کارِ امروز: ان کی فکری بلندی کے شاہکار۔
- وحیِ منظوم: ان کی زندگی کا سب سے اہم مذہبی و ادبی کارنامہ۔
وفات اور ادبی مقام
اردو کا یہ عظیم ناخدائے سخن 31 جنوری 1951ء کو کراچی میں وفات پا گیا۔ سیماب اکبر آبادی نے اردو زبان کو جو لفظی سرمایہ اور فکری تنوع عطا کیا، وہ تاریخِ ادب میں ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ وہ ایک ایسے استاد تھے جنہوں نے ایک پوری نسل کی شعری تربیت کی اور اردو غزل کو ایک نیا وقار عطا کیا۔