شاد عظیم آبادی: اردو غزل کی تثلیث کا تیسرا اہم رکن
اردو ادب کی تاریخ میں شاد عظیم آبادی (اصل نام: سید علی محمد) ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے جن کی فکر و نظر نے غزل کو ایک نیا وقار اور حکیمانہ مزاج عطا کیا۔ وہ نہ صرف ایک بلند پایہ شاعر تھے بلکہ ایک زیرک مؤرخ، نثر نگار، محقق اور دانشور بھی تھے۔ ان کا کلام روایت میں توسیع کی ایک بہترین مثال ہے، جس نے ان کی انفرادی پہچان کو ہم عصروں کے ہجوم میں ممتاز رکھا۔
پیدائش اور علمی تربیت
شاد عظیم آبادی 1846ء میں عظیم آباد (پٹنہ) کے ایک رئیس گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید تفضل حسین پٹنہ کے معززین میں شمار ہوتے تھے۔ مذہبی اور ادبی ماحول میں پرورش پانے والے شاد بچپن ہی سے نہایت ذہین تھے اور محض دس برس کی عمر میں فارسی زبان پر دسترس حاصل کر چکے تھے۔ والدین کی مرضی کے خلاف انہوں نے شاعری کا راستہ چنا اور سید الطاف حسین فریاد کی شاگردی اختیار کی۔
شعری اسلوب اور فنی امتیاز
شاد کی شاعری میں کلاسیکی نفاست کے ساتھ ساتھ ایک خاص طرح کا سوز اور گرمی پائی جاتی ہے۔ ان کے فن کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- حکیمانہ مزاج: ان کے اشعار میں بصیرت اور زندگی کی ناہمواریوں پر گہری نظر ملتی ہے۔
- شیرینی اور گھلاوٹ: ان کا طرزِ ادا نہایت سلجھا ہوا اور پُروقار ہے، جس میں الفاظ کی تراش خراش نہایت مہارت سے کی گئی ہے۔
- روایت میں توسیع: شاد نے روایت کو توڑا نہیں بلکہ اس میں نئے امکانات پیدا کیے، یہی وجہ ہے کہ ان کا اسلوب سپاٹ ہونے کے بجائے معنی آفرینی سے بھرپور ہے۔
نثری اور تاریخی خدمات
شاد عظیم آبادی ایک اعلیٰ پائے کے نثر نگار بھی تھے۔ ان کے چند اہم نثری کارنامے یہ ہیں:
- پیر علی: جنگِ آزادی کے موضوع پر اردو کا پہلا ناول جو اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں مقبول ہوا۔
- بہار کی تاریخ: پرنس آف ویلز کی فرمائش پر انہوں نے تین جلدوں میں بہار کی مستند تاریخ مرتب کی۔
- خودنوشت: 'شاد کی کہانی شاد کی زبانی' ان کی سوانح حیات ہے جو اس عہد کے سماجی حالات کی آئینہ دار ہے۔
صحافت اور عوامی زندگی
شاد نے صحافت میں بھی اپنے جوہر دکھائے اور سات برس تک ہفت روزہ 'نسیمِ سحر' کی ادارت کی۔ وہ سماجی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہے، پٹنہ میونسپلٹی کے رکن اور میونسپل کمشنر رہے اور 1889ء میں آنریری مجسٹریٹ نامزد ہوئے۔ ان کی کتاب 'نوائے وطن' نے ایک طرف طوفان کھڑا کیا تو دوسری طرف ان کے سیاسی و سماجی شعور کی گواہی بھی دی۔
آخری ایام اور ادبی ورثہ
شاد نے زندگی کا بڑا حصہ ٹھاٹ باٹ سے گزارا، مگر آخری دور میں انہیں معاشی تنگی اور بیماریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے تقریباً ایک لاکھ شعر کہے اور درجنوں نثری کتب ترتیب دیں، جن میں سے بیشتر تلف ہو گئیں۔ اردو غزل میں سچے جذبات کی ترجمانی اور نئے آہنگ کی توانائی پیش کرنے والا یہ عظیم فنکار 8 جنوری 1927ء کو وفات پا گیا۔