شان الحق حقی

شان الحق حقی: ماہرِ لسانیات اور اردو لغت کے معمارِ اعظم

اردو زبان و ادب کی تاریخ میں شان الحق حقی (پیدائش: 15 دسمبر 1917ء، وفات: 11 اکتوبر 2005ء) ایک ایسی عبقری شخصیت تھے جنہوں نے تحقیق، تنقید، ترجمہ اور لغت نویسی کے میدان میں ناقابلِ فراموش نقوش ثبت کیے۔ وہ ایک کثیر اللسان محقق تھے جنہوں نے اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی، عربی، فارسی، ہندی، سنسکرت، ترکی اور فرانسیسی زبانوں پر بھی مکمل دسترس حاصل کر رکھی تھی۔

تعلیمی پس منظر اور ہجرت

شان الحق حقی دہلی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم دہلی ہی میں مکمل کی، جس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے اور سینٹ اسٹیفنز کالج (دہلی یونیورسٹی) سے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1947ء میں تقسیمِ ہند کے بعد وہ ہجرت کر کے کراچی آ گئے اور یہاں کی ادبی و علمی فضا کو اپنی موجودگی سے مالا مال کیا۔

علمی و پیشہ ورانہ خدمات

ان کی پیشہ ورانہ زندگی علمی و انتظامی خدمات سے عبارت ہے۔ وہ مختلف علمی رسائل و جرائد کے مدیر رہے اور قومی محکمۂ اطلاعات، مطبوعات و فلم سازی جیسے اداروں سے منسلک رہے۔ ان کی زندگی کے دو بڑے کارنامے درج ذیل ہیں:

  • اردو لغت بورڈ: انہوں نے اردو لغت بورڈ کراچی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں اور اردو کی سب سے بڑی لغت کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا۔
  • آکسفورڈ اردو انگریزی ڈکشنری: جدید آکسفورڈ اردو انگریزی ڈکشنری ان کی برسوں کی محنت کا نچوڑ ہے، جو آج بھی اپنی جامعیت کی بنا پر مستند ترین مانی جاتی ہے۔

تخلیقی اور تصنیفی سرمایہ

حقی صاحب کی تصانیف ان کے وسیع مطالعے اور ہمہ جہت ذوق کی عکاس ہیں۔ ان کی اہم کتابوں میں شامل ہیں:

  • تارِ پیراہن: ان کا مجموعہ منظومات۔
  • نکتۂ راز: ادبی و لسانی مضامین کا مجموعہ۔
  • افسانہ در افسانہ: ان کی دلچسپ اور علمی خودنوشت سوانح۔
  • تراجم: انہوں نے 'ارتھ شاستر' جیسی قدیم کتاب کو اردو میں منتقل کر کے اپنی مترجمانہ مہارت کا ثبوت دیا۔
  • دیگر کتب: خیابانِ پاک، نشیدِ حریت اور انجان راہی بھی ان کے قلمی شاہکار ہیں۔

اعزازات اور اعترافِ فن

ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں تمغۂ امتیاز اور تمغۂ قائد اعظم جیسے اعلیٰ سول اعزازات سے نوازا۔ وہ مقتدرہ قومی زبان (موجودہ ادارہ فروغِ قومی زبان) سے بھی وابستہ رہے اور اردو کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں پیش پیش رہے۔

وفات اور ادبی مقام

شان الحق حقی 11 اکتوبر 2005ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے، مگر ان کا کام آج بھی ہر لغت کھولنے والے اور ہر لفظ کی اصل تلاش کرنے والے کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ وہ ایک ایسے عالم تھے جنہوں نے اردو زبان کو علمی بنیادوں پر استوار کرنے میں اپنی پوری عمر صرف کر دی۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد