شبلی نعمانی

علامہ شبلی نعمانیؔ: اردو تنقید کے معمار اور سیرت نگاری کے امام

اردو ادب کی تاریخ میں علامہ شبلی نعمانیؔ ایک ایسی عہد ساز شخصیت ہیں جن کی علمی و تحقیقی کاوشوں نے اردو نثر کو وقار اور عالمی معیار عطا کیا۔ وہ ایک صاحبِ طرز ادیب، مورخ، سوانح نگار، نقاد اور بلند پایہ شاعر تھے۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف مسلمانوں کے شاندار ماضی کو زندہ کیا بلکہ اردو تنقید کو جمالیاتی اور فنّی بنیادیں بھی فراہم کیں۔

پیدائش اور تعلیمی سفر

شبلی نعمانیؔ 4 جون 1857ء کو اعظم گڑھ کے ایک گاؤں بندول جیراج پور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مولوی فاروق چریاکوٹی سے حاصل کی۔ 1876ء میں حج کی سعادت حاصل کی اور واپسی پر وکالت کا امتحان پاس کیا۔ وکالت سے دلچسپی نہ ہونے کے باعث انہوں نے اسے ترک کر دیا اور علی گڑھ میں سرسید احمد خان سے وابستہ ہو گئے، جہاں وہ فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ علی گڑھ کے قیام کے دوران ہی انہوں نے اپنی تحقیقی زندگی کا آغاز کیا اور پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی زبان سیکھی۔

تنقیدی نظریات اور 'شعر العجم'

شبلی کا شمار اردو تنقید کے بنیاد گزاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے تنقیدی نظریات ان کی معرکتہ الآراء تصانیف 'شعر العجم' اور 'موازنۂ انیس و دبیر' میں بکھرے ہوئے ہیں۔ شبلی کے نزدیک شاعری کا منبع ادراک نہیں بلکہ احساس ہے۔ ان کے چند اہم تنقیدی نکات درج ذیل ہیں:

  • شاعری کی حقیقت: شبلی کے نزدیک شاعری وجدانی اور ذوقی چیز ہے، جس کی کوئی ایک جامع تعریف ممکن نہیں۔ وہ اسے انسانی احساسات کا لفظی جامہ قرار دیتے ہیں۔
  • لفظ اور معنی: شبلی لفظ کو 'جسم' اور معنی کو 'روح' تسلیم کرتے ہیں، مگر ان کا جھکاؤ لفظوں کی نفاست اور شستگی کی طرف زیادہ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ عمدہ مضمون کے لیے عمدہ الفاظ کا ہونا ناگزیر ہے۔
  • محاکات: وہ محاکات (تصویر کشی) کو شاعری کا اہم جزو مانتے ہیں۔ ان کے نزدیک محاکات وہ فن ہے جس کے ذریعے کسی شے کی تصویر آنکھوں میں پھر جائے۔

ادبی و تحقیقی کارنامے

شبلی نے مختلف اصناف میں جو شاہکار تخلیق کیے، وہ اردو ادب کا گراں قدر سرمایہ ہیں:

  • سیرت نگاری: 'سیرت النبی ﷺ' ان کا سب سے بڑا مذہبی و علمی کارنامہ ہے۔ اس کے علاوہ 'سیرت النعمان' بھی ان کی تحقیق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
  • سوانح نگاری: 'الفاروق'، 'الغزالی'، 'المامون' اور 'سوانح مولانا روم' کے ذریعے انہوں نے تاریخ کے عظیم کرداروں کو زندہ جاوید کر دیا۔
  • دار المصنفین: 1913ء میں انہوں نے اعظم گڑھ میں 'دار المصنفین' کی بنیاد ڈالی، جو آج بھی علمی و تحقیقی خدمات انجام دے رہا ہے۔

عملی تنقید اور جمالیات

شبلی کی تنقید جمالیاتی پہلوؤں پر زور دیتی ہے۔ 'موازنۂ انیس و دبیر' میں انہوں نے نہ صرف مرثیہ نگاری کے فن پر بحث کی بلکہ فصاحت، بلاغت، تشبیہ و استعارہ اور دیگر صنعتوں کی ایسی تشریح کی کہ وہ آج بھی ایک مستند حوالہ تسلیم کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ کے بقول، شبلی کے تصور کے مطابق تمام عالم ایک شعر ہے اور جہاں شعریت ہے وہیں زندگی ہے۔

وفات اور ادبی مقام

اردو کا یہ عظیم سپوت 18 نومبر 1914ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گیا۔ علامہ شبلی نعمانیؔ اور مولانا الطاف حسین حالیؔ نے مل کر اردو کی نظریاتی تنقید کو وہ سمت دی جس نے اردو ادب کے چراغ کو روشن تر کر دیا۔ ان کی تصانیف آج بھی علم و ادب کے طالب علموں کے لیے نوادر کی حیثیت رکھتی ہیں۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد