شکیل بدایونی: نغمہ و غزل کا شہنشاہ اور جگرؔ کا ہم سفر
اردو ادب اور برِ صغیر کی فلمی تاریخ میں شکیل بدایونی (اصل نام: شکیل احمد) ایک ایسی جادو اثر شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے کروڑوں دلوں پر راج کیا۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے غزل کی آبرو بھی برقرار رکھی اور فلمی نغمہ نگاری کو وہ ادبی وقار عطا کیا کہ بڑے بڑے نقاد بھی ان کے فن کے معترف ہوئے۔
پیدائش اور علمی تربیت
شکیل بدایونی اگست 1916ء کو اتر پردیش کے ضلع بدایوں میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا اور ان کے والد جمیل احمد سوختہ قادری بدایونی ممبئی کی ایک مسجد میں خطیب و امام تھے۔ اسی لیے شکیل کی ابتدائی تعلیم اسلامی مکتب میں ہوئی جہاں انہوں نے اردو، فارسی اور عربی میں مہارت حاصل کی۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کیا، جہاں ان کی ملاقات جگر مراد آبادی سے ہوئی اور یہیں سے ان کے شعری سفر کو نئی سمت ملی۔
پیشہ ورانہ زندگی اور فلمی سفر
تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1942ء میں وہ دہلی میں سرکاری ملازم ہو گئے، مگر ان کے اندر کا شاعر انہیں ممبئی لے آیا۔ جگر مراد آبادی کی وساطت سے وہ فلمی دنیا میں داخل ہوئے اور بہت جلد فلمی صنعت کے سب سے معتبر نغمہ نگار بن گئے۔ انہوں نے نوشاد، روی، ہیمنت کمار اور ایس ڈی برمن جیسے ممتاز موسیقاروں کی دھنوں پر سوا دو سو سے زائد گیت لکھے جو مقبولیت کی حدوں کو پار کر گئے۔
یادگار فلمیں اور گلوکاروں کی آواز
شکیل بدایونی کے نغموں نے کئی شاہکار فلموں کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی چند اہم فلمیں درج ذیل ہیں:
- مغلِ اعظم: اس فلم کے نغمات آج بھی اردو و ہندی سنیما کا شاہکار مانے جاتے ہیں۔
- دیگر سپر ہٹ فلمیں: چودہویں کا چاند، مدر انڈیا، دیدار، گنگا جمنا، صاحب بی بی اور غلام، اور میرے محبوب۔
- آواز کا جادو: ان کے گیتوں کو محمد رفیع، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے اور طلعت محمود جیسے صفِ اول کے گلوکاروں نے اپنی لازوال آوازوں سے امر کر دیا۔
شعری اسلوب اور جمالیات
شکیل بدایونی کی شاعری کا بنیادی رنگ رومانوی اور جمالیاتی ہے۔ ان کے فن کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- سادگی و صفائی: وہ مشکل مضامین کو نہایت سادہ اور عام فہم الفاظ میں بیان کرنے کا ہنر جانتے تھے۔
- غنائیت: ان کے ہر لفظ میں ایک اندرونی موسیقی ہوتی تھی، یہی وجہ ہے کہ موسیقاروں کے لیے ان کے گیتوں کی دھنیں بنانا سہل ہوتا تھا۔
- روایت کی پاسداری: فلمی نغمہ نگار ہونے کے باوجود انہوں نے غزل کی روایتی پاکیزگی اور تغزل کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔
وفات اور ادبی مقام
اردو کا یہ نغمہ گر 20 اپریل 1970ء کو ممبئی میں وفات پا گیا۔ شکیل بدایونی نے غزل کے کئی مجموعے بھی چھوڑے جن میں 'رعنائیاں'، 'صنم و حرم' اور 'رنگینیاں' شامل ہیں۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے ثابت کیا کہ اگر سچائی اور فن موجود ہو تو فلمی نغمہ بھی ادبِ عالیہ کا حصہ بن سکتا ہے۔