عزیز حامد مدنی

عزیز حامد مدنی: جدید اردو غزل کا مفکر اور صاحبِ اسلوب شاعر

اردو شاعری کے جدید عہد میں عزیز حامد مدنی ایک ایسی قد آور شخصیت ہیں جنہوں نے غزل کو ایک نیا فکری نظام اور تہذیبی آہنگ عطا کیا۔ وہ ایک گوشہ نشین فنکار تھے، مگر ان کی شعری خوشبو نے اردو دنیا کے ہر صاحبِ ذوق کو متاثر کیا۔ ان کی شاعری محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ ایک گہری فلسفیانہ بصیرت کی ترجمان ہے، جس میں ماضی کی تاریخ اور حال کے کرب کا ایک گہرا رشتہ نظر آتا ہے۔

پیدائش اور علمی پس منظر

عزیز حامد مدنی 1922ء میں رائے پور (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا، جس کی وجہ سے ان کی ابتدائی تربیت میں علم و ادب کا عنصر غالب رہا۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، جو اس وقت اردو ادب اور تہذیب کا سب سے بڑا مرکز تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ کراچی منتقل ہو گئے اور اپنی علمی و ادبی زندگی کا بقیہ حصہ اسی شہر میں گزارا۔

پیشہ ورانہ زندگی اور خدمات

ان کی عملی زندگی ریڈیو پاکستان سے وابستگی میں گزری۔ ریڈیو کے لیے انہوں نے بے شمار یادگار پروگرام مرتب کیے اور ادب کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ ایک ماہرِ لسانیات بھی تھے اور لفظوں کے درست استعمال اور ان کی تہذیبی تاریخ پر گہری نظر رکھتے تھے۔ ان کی شخصیت میں موجود سنجیدگی اور علمی وقار ان کی ہر تحریر سے جھلکتا ہے۔

شعری اسلوب اور فنی خصوصیات

عزیز حامد مدنی کی غزل اپنے دور کی دیگر غزلوں سے مختلف اور منفرد ہے۔ ان کے فن کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • تاریخی و تہذیبی شعور: ان کی شاعری میں تاریخ کے حوالے اور تہذیبی علامتیں ایک نئے انداز میں ملتی ہیں۔ وہ ماضی کے قصوں کو حال کے مسائل سے جوڑنے کا ہنر جانتے تھے۔
  • جدت پسندی: انہوں نے غزل کے روایتی استعاروں کو نیا مفہوم عطا کیا۔ ان کے ہاں لفظوں کی تراش خراش میں ایک خاص قسم کی ندرت اور انفرادیت پائی جاتی ہے۔
  • گداز اور تفکر: ان کی شاعری میں جذبے کی تپش کے ساتھ ساتھ فکر کی ٹھنڈک بھی موجود ہے۔ وہ دل اور دماغ کے توازن کو برقرار رکھنے والے شاعر تھے۔

تصانیف اور شعری مجموعے

عزیز حامد مدنی کے شعری مجموعوں نے اردو دنیا میں ایک ہلچل پیدا کی اور انہیں جدید غزل کے صفِ اول کے شعراء میں لاکھڑا کیا۔ ان کی اہم کتابیں درج ذیل ہیں:

  • چشمِ تر: ان کا پہلا شعری مجموعہ جس نے ان کے مخصوص لب و لہجے کی دھاک بٹھائی۔
  • دشتِ امکاں: ان کی فکری پختگی اور فن کی بلندی کا شاہکار مجموعہ۔
  • نکالِ شب: ان کی شاعری کا ایک اور اہم پڑاؤ جس میں سماجی اور انفرادی دکھوں کا خوبصورت بیان ملتا ہے۔
  • جدید اردو شاعری: یہ ان کی تنقیدی بصیرت کا نچوڑ ہے، جس میں انہوں نے جدید شاعری کے رجحانات کا عالمانہ جائزہ لیا ہے۔

وفات اور ادبی مقام

اردو غزل کا یہ درویش صفت شاعر 23 اپریل 1991ء کو کراچی میں وفات پا گیا۔ عزیز حامد مدنی نے غزل کو جو علمی وقار اور تہذیبی وسعت عطا کی، وہ انہیں تاریخِ ادب میں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے کم لکھا مگر جو لکھا وہ معیار کے اعتبار سے لازوال ہے۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد