اختر ہوشیارپوریؔ: غزل کی کلاسیکی روایت کا پاسدار اور صاحبِ طرز سخنور
اردو ادب کے معاصر منظر نامے پر اختر ہوشیارپوریؔ (اصل نام: عبدالحئی) ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے غزل کے روایتی حسن کو جدید دور کی حسیت کے ساتھ نہایت خوبصورتی سے ہم آہنگ کیا۔ ان کی شاعری میں جہاں زبان و بیان کی پختگی ملتی ہے، وہیں جذبات کی صداقت اور فکری گہرائی بھی ان کے فن کا طرۂ امتیاز ہے۔
پیدائش اور علمی پس منظر
اختر ہوشیارپوریؔ 1918ء میں ہوشیار پور (پنجاب، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور معزز گھرانے سے تھا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ہوشیار پور میں حاصل کی اور بعد ازاں لاہور کا رخ کیا، جہاں سے انہوں نے اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔ لاہور کی ادبی فضا نے ان کے شعری ذوق کو مہمیز دی اور وہ بہت جلد اس شہر کے معتبر ادبی حلقوں کی ضرورت بن گئے۔
پیشہ ورانہ زندگی اور خدمات
ان کی عملی زندگی سرکاری خدمات سے عبارت رہی۔ وہ وزارتِ اطلاعات و نشریات میں مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے اور طویل عرصہ ریڈیو پاکستان سے بھی وابستہ رہے۔ ریڈیو پاکستان میں قیام کے دوران انہوں نے علم و ادب کی ترویج کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں اور کئی یادگار پروگرام مرتب کیے۔ ان کی انتظامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ان کی علمی بصیرت کا بھی اعتراف کیا جاتا ہے۔
شعری اسلوب اور فنی خصوصیات
اختر ہوشیارپوریؔ کی اصل شناخت ان کی غزل گوئی ہے۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- نفاست اور شستگی: ان کے ہاں الفاظ کا انتخاب نہایت سوچ سمجھ کر کیا جاتا تھا۔ وہ غزل کی قدیم تہذیب کے رکھوالے تھے اور زبان کی صفائی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔
- داخلی گداز: ان کی شاعری میں ایک مخصوص قسم کا دھیما پن اور سوز پایا جاتا ہے جو قاری کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ وہ دکھ کو بھی نہایت وقار کے ساتھ بیان کرنے کے ماہر تھے۔
- روایت کی پاسداری: انہوں نے جدیدیت کے ہنگاموں میں بھی غزل کے اساسی مزاج کو برقرار رکھا اور کلاسیکی اسلوب کو نئے معنی دیے۔
تصانیف اور مجموعے
اختر ہوشیارپوریؔ کے شعری مجموعوں نے ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل کی۔ ان کی اہم کتابیں درج ذیل ہیں:
- شاخِ گل: ان کا معتبر شعری مجموعہ جو ان کی فنی پختگی کی گواہی دیتا ہے۔
- گردِ راہ: ان کی شاعری کا ایک اور اہم پڑاؤ جس میں زندگی کے تجربات کا نچوڑ ملتا ہے۔
- دیگر خدمات: شاعری کے علاوہ ان کے تنقیدی مضامین بھی اردو ادب میں خاصی اہمیت رکھتے ہیں، جن سے ان کی وسعتِ مطالعہ کا اندازہ ہوتا ہے۔
وفات اور ادبی مقام
اردو کا یہ مایہ ناز شاعر 2008ء میں لاہور میں وفات پا گیا۔ اختر ہوشیارپوریؔ نے اردو غزل کو جو شائستگی اور وقار عطا کیا، وہ تاریخِ ادب کا ایک اہم حصہ ہے۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے شہرت کی طلب سے بے نیاز ہو کر صرف فن کی آبیاری کی اور اپنے پیچھے ایک ایسا کلام چھوڑا جو ہمیشہ صاحبِ ذوق قارئین کے دلوں کو گرماتا رہے گا۔