افضل منہاس: پوٹھوہار کا توانا لہجہ اور غزل کا سچا فنکار
اردو شاعری کے افق پر افضل منہاس (اصل نام: وزیر احمد) ایک ایسی ادبی شخصیت ہیں جن کی شاعری میں مٹی کی خوشبو اور انسانی جذبوں کی سچائی ملتی ہے۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے غزل کے روایتی کینوس میں اپنے علاقے کی تہذیبی اقدار اور عہدِ حاضر کے کرب کو نہایت مہارت سے سمو دیا۔ ان کی زندگی اور فن دونوں ہی خلوص اور درویشی کا آئینہ دار رہے ہیں۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی
افضل منہاس 23 جون 1923ء کو ضلع چکوال کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام وزیر احمد تھا، مگر ادبی دنیا میں وہ اپنے تخلص افضل منہاس کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کی ابتدائی زندگی چکوال کی زرخیز زمین پر گزری، جہاں کے مناظر اور دیہی زندگی نے ان کے شعری تخیل کو جلا بخشی۔
راولپنڈی سے وابستگی
اگرچہ ان کی پیدائش چکوال میں ہوئی، مگر انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ راولپنڈی میں گزارا۔ راولپنڈی ان کی علمی و ادبی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ یہاں کے ادبی حلقوں میں انہیں نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ انہوں نے اس شہر کی ادبی محفلوں میں اپنے کلام کے ذریعے ایک خاص مقام بنایا اور یہاں کی شعری روایت کو جدید رخ دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔
شعری اسلوب اور فنی خصوصیات
افضل منہاس کی شاعری کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں چند نمایاں پہلو سامنے آتے ہیں:
- سادگی اور روانی: ان کے کلام میں وہ پیچیدگی نہیں ملتی جو قاری کے لیے بوجھ بن جائے، بلکہ وہ سہلِ ممتنع میں اپنی بات کہنے کے ماہر تھے۔
- جذباتی گہرائی: ان کی غزلوں میں انسانی تعلقات اور ان میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر نہایت گداز لہجے میں ملتا ہے۔
- سماجی شعور: وہ اپنے گرد و پیش کے حالات سے بے خبر نہیں تھے، اسی لیے ان کے اشعار میں کہیں کہیں معاشرتی ناہمواریوں پر احتجاج کا رنگ بھی نظر آتا ہے۔
ادبی مقام اور خدمات
افضل منہاس نے اردو غزل کو پوٹھوہار کے مخصوص مزاج سے ہم آہنگ کیا۔ ان کی شاعری میں جو ٹھہراؤ ہے، وہ دراصل ان کی شخصیت کا پرتو تھا۔ ان کے کلام نے نہ صرف ان کے ہم عصروں کو متاثر کیا بلکہ نئی نسل کے شعراء کے لیے بھی مشعلِ راہ ثابت ہوا۔ وہ مشاعروں کی جان ہوا کرتے تھے اور ان کے پڑھنے کا مخصوص انداز سامعین کو مسحور کر دیتا تھا۔
وفات اور ابدی سفر
اردو کا یہ مایہ ناز شاعر 15 جنوری 1997ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گیا۔ افضل منہاس کی وفات سے راولپنڈی کا ادبی حلقہ ایک ایسے شفیق اور صاحبِ طرز فنکار سے محروم ہو گیا جس نے اپنی پوری زندگی سخن کی آبیاری میں صرف کر دی۔ ان کا کلام آج بھی ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کی فنی عظمت کی گواہی دے رہا ہے۔