اکبر حمیدی

اکبر حمیدی

اکبر حمیدی: اردو ادب کا کثیر الجہات قلمکار اور صاحبِ طرز ادیب

اردو ادب کے منظر نامے پر اکبر حمیدی ایک ایسی منفرد علمی شخصیت کے طور پر ابھرے جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے انسانی رویوں اور سماجی سچائیوں کو نہایت پختگی سے اجاگر کیا۔ وہ ایک انتھک تخلیق کار تھے جن کی ادبی خدمات کا دائرہ شاعری سے لے کر نثر کی مختلف اصناف تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کی شخصیت میں موجود سادگی اور فکری گہرائی ان کی ہر تحریر سے جھلکتی ہے۔

تخلیقی تنوع اور تصانیف

اکبر حمیدی کی ادبی زندگی نہایت بھرپور رہی اور ان کی پچیس سے زائد کتابیں منظرِ عام پر آئیں۔ ان کا تخلیقی سرمایہ درج ذیل اصناف پر مشتمل ہے:

  • شعری مجموعے: ان کے آٹھ شعری مجموعے شائع ہوئے، جن میں انہوں نے زندگی کے تجربات کو نظم اور غزل کے قالب میں ڈھالا۔
  • انشائیہ نگاری: اکبر حمیدی نے انشائیہ نگاری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کے انشائیوں کے پانچ مجموعے ان کی مشاہداتی قوت اور شگفتہ بیانی کا ثبوت ہیں۔
  • خاکہ نگاری اور تنقید: انہوں نے خاکوں کے دو مجموعے اور تنقیدی مضامین پر مشتمل دو کتب بھی تحریر کیں، جن سے ان کی وسعتِ مطالعہ اور ہم عصروں سے ان کے گہرے مراسم کا پتہ چلتا ہے۔
  • ابلاغی خدمات: ریڈیو کے لیے لکھے گئے ان کے کالموں کا مجموعہ ان کی ابلاغی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

بچوں کا ادب اور خود نوشت

اکبر حمیدی نے نئی نسل کی ذہنی تربیت کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ انہوں نے بچوں کے لیے پانچ کتب تصنیف کیں جو تعلیمی اور اخلاقی حوالے سے نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز کو ایک خود نوشت سوانح کی شکل میں محفوظ کیا، جو ان کے ذاتی سفر کے ساتھ ساتھ اس عہد کی ادبی فضا کو سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

ادبی مقام اور ورثہ

اکبر حمیدی نے شہرت کی طلب سے بے نیاز ہو کر خاموشی سے ادب کی خدمت کی۔ ان کی تحریروں میں موجود خلوص اور زبان و بیان کی صفائی انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتی ہے۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے انشائیہ، خاکہ نگاری اور شاعری کے میدانوں میں اپنی محنت سے اپنا ایک الگ نام پیدا کیا، جو ادبی تاریخ میں ہمیشہ محفوظ رہے گا۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد