اقبال ساجد

اقبال ساجد

اقبال ساجد: ایک باغی لہجہ

اردو شاعری کے منظر نامے پر اقبال ساجد ایک ایسا نام ہے جس نے اپنی شعری صلاحیتوں سے زیادہ اپنی طرزِ زندگی اور سنسنی خیز الزامات کی وجہ سے شہرت پائی۔ وہ ایک منفرد لب و لہجے کے شاعر تو تھے، مگر ان کی زندگی کا سب سے متنازع پہلو "کلام کی فروخت" کا وہ بازار تھا جس نے اردو ادب کی اخلاقیات پر گہرے سوالات اٹھائے۔ انہوں نے اپنی معاشی بدحالی کو جواز بنا کر جو رویہ اختیار کیا، اسے ادبی حلقوں میں ایک منفی روایت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

اقبال ساجد 1932ء میں بھارت کے شہر اجمیر میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان منتقل ہو گئے اور لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔ ان کی طبیعت میں ابتدا ہی سے ایک ایسی بے زاری اور بغاوت تھی جو آگے چل کر ان کے کلام اور شخصیت دونوں میں نمایاں ہوئی۔ وہ ایک پڑھے لکھے انسان تھے، مگر انہوں نے کبھی کسی مستقل پیشے یا سماجی نظم و ضبط کو قبول نہیں کیا۔

کلام کی فروخت کا تنازع اور ادبی بددیانتی

اقبال ساجد کی شہرت کا ایک بڑا حصہ ان کے اس دعوے پر مبنی ہے کہ وہ اپنی غزلیں اور اشعار پیسوں کے عوض دوسرے شعراء کو فروخت کر دیا کرتے تھے۔ اس حوالے سے چند اہم پہلو قابلِ ذکر ہیں:

  • غربت بطور بہانہ: انہوں نے اپنی مالی مشکلات اور تنگ دستی کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور یہ تاثر دیا کہ ایک سچا فنکار حالات کے جبر کی وجہ سے اپنا فن بیچنے پر مجبور ہے۔
  • نامور شعراء پر الزامات: انہوں نے کئی معروف اور صاحبِ دیوان شعراء کے نام لیے کہ ان کا کلام دراصل اقبال ساجد کا لکھا ہوا ہے۔ اگرچہ وہ نامور شخصیات ان الزامات کی سختی سے تردید کرتی رہی ہیں، مگر اس عمل نے اردو ادب کے وقار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ کئی الزامات درست بھی تھے اور یہ حقیقت عیاں ہے کہ اقبال ساجد جیسے لوگوں ہی کی وجہ سے جعلی لوگ بھی ادیب کہلائے۔
  • اخلاقی انحطاط: ناقدین کا ایک طبقہ اسے محض غربت کا نتیجہ نہیں بلکہ "کمینگی" اور ادبی بددیانتی قرار دیتا ہے، کیونکہ اس عمل سے نہ صرف خریدنے والے بلکہ بیچنے والے نے بھی فن کی حرمت کو پامال کیا۔

شعری اسلوب اور خصوصیات

اگر ان کے فن کی بات کی جائے تو ان کے ہاں ایک خاص قسم کا کٹیلا پن اور کاٹ پاتی جاتی ہے۔ ان کی شاعری میں محرومیوں کا نوحہ اور معاشرے کے خلاف ایک غصہ نمایاں ہے۔ ان کا ایک شعری مجموعہ 'اثاثہ' کے نام سے شائع ہوا، جس میں ان کی تخلیقی جولانیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان کا لب و لہجہ اپنے ہم عصروں میں الگ محسوس ہوتا تھا، مگر ان کی شخصی ناہمواریوں نے ان کے فن پر ہمیشہ ایک سایہ ڈالے رکھا۔

وفات اور ادبی ورثہ

اقبال ساجد 1988ء میں لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کی موت کے بعد بھی ان سے وابستہ کہانیاں ختم نہیں ہوئیں بلکہ ایک دیومالائی شکل اختیار کر گئیں۔ آج بھی جب اردو ادب میں بدعنوانی اور فن کی تجارت کا ذکر آتا ہے تو اقبال ساجد کا نام ایک عبرت ناک مثال کے طور پر لیا جاتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ محض اچھا شعر کہنا کافی نہیں ہوتا بلکہ فنکار کا کردار بھی اس کے فن جتنا ہی بلند ہونا چاہیے۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد