شاذ تمکنت: حیدرآبادی تہذیب کا جدید شعری استعارہ
اردو ادب کے منظر نامے پر شاذ تمکنت (اصل نام: سید شاہ محمد معز الدین) ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے غزل کے قدیم لب و لہجے میں جدید دور کے انسان کی تنہائی، دکھ اور سماجی شعور کو نہایت فنکاری سے سمو دیا۔ وہ حیدرآباد دکن کی اس عظیم شعری روایت کے امین تھے جہاں زبان کی صفائی اور بیان کا وقار پہلی ترجیح سمجھا جاتا ہے۔
پیدائش اور تعلیمی سفر
شاذ تمکنت 31 جنوری 1933ء کو حیدرآباد (دکن) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک ایسے علمی گھرانے سے تھا جہاں علم و ادب کی محفلیں سجتی تھیں۔ انہوں نے جامعہ عثمانیہ سے اردو میں ایم اے اور بعد ازاں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ مخدوم محی الدین کی زندگی اور فن پر تھا، جسے علمی حلقوں میں بہت سراہا گیا۔
پیشہ ورانہ زندگی اور تدریس
شاذ تمکنت کی عملی زندگی کا بڑا حصہ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہا۔ وہ جامعہ عثمانیہ کے شعبہ اردو میں ریڈر کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کی تدریسی صلاحیتوں اور شفیق مزاج کی وجہ سے ان کے شاگردوں کا ایک وسیع حلقہ موجود تھا۔ اس کے علاوہ وہ ریڈیو پاکستان کی طرح ریڈیو انڈیا (آل انڈیا ریڈیو) سے بھی وابستہ رہے اور کئی برس تک ادبی پروگراموں کی جان بنے رہے۔
شعری اسلوب اور فنی خصوصیات
شاذ تمکنت کی شاعری میں ایک خاص قسم کا دھیما پن اور استدلال پایا جاتا ہے۔ ان کے فن کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- جدید غزل کا مزاج: انہوں نے غزل کو روایتی گل و بلبل کے افسانوں سے نکال کر زندگی کی تلخ حقیقتوں سے جوڑا۔
- نفاستِ بیاں: ان کے ہاں الفاظ کا انتخاب نہایت سوچ سمجھ کر کیا جاتا تھا۔ وہ کم گوئی اور پرکاری کے قائل تھے۔
- حیدرآبادی رنگ: ان کی شاعری میں حیدرآباد کی مخصوص تہذیبی خوشبو رچی بسی ہے، مگر ان کا وژن کائناتی اور انسانی تھا۔
تصانیف اور مجموعے
شاذ تمکنت کے کئی شعری مجموعے شائع ہوئے جنہوں نے جدید غزل کے ارتقاء میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی مشہور کتابیں درج ذیل ہیں:
- تراشیدہ: ان کا وہ مجموعہ کلام جس نے انہیں برِ صغیر کے اہم شعراء کی صف میں لاکھڑا کیا۔
- بیاضِ شام: ان کی فنی پختگی اور جذباتی گہرائی کا آئینہ دار مجموعہ۔
- نیم خواب: ان کے کلام کا ایک اور اہم حصہ جو ان کے مخصوص رومانوی اور فلسفیانہ لہجے کی ترجمانی کرتا ہے۔
- مخدوم محی الدین، حیات اور کارنامے: ان کا اہم تحقیقی کام۔
وفات اور ادبی مقام
اردو کا یہ مایہ ناز شاعر 18 اگست 1985ء کو حیدرآباد میں وفات پا گیا۔ شاذ تمکنت نے غزل کو جو نیا آہنگ اور وقار عطا کیا، وہ تاریخِ ادب کا ایک سنہرا باب ہے۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے جدیدیت کے ہنگاموں میں بھی غزل کی کلاسیکی حرمت کو برقرار رکھا۔