قابل اجمیری

قابل اجمیری: اردو غزل کا نو عمر عبقری اور احساس کا شاعر

اردو شاعری کی تاریخ میں قابل اجمیری (اصل نام: نائیک علی خان) ایک ایسا روشن ستارہ ہیں جو بہت جلد طلوع ہوا اور نہایت تیزی سے افقِ ادب پر اپنی چمک چھوڑ کر روپوش ہو گیا۔ انہیں اردو غزل کا ایک ایسا 'ٹراجک ہیرو' کہا جا سکتا ہے جس نے بیماری اور معاشی تنگی کے باوجود فن کی وہ بلندیاں چھوئیں جو معاصرین کے لیے رشک کا باعث بنیں۔ ان کا کلام محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک تڑپتے ہوئے دل کی پکار ہے۔

پیدائش اور ہجرت

قابل اجمیری 27 اگست 1933ء کو چرلی (ضلع اجمیر، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ اجمیر کی علمی اور صوفیانہ فضا نے ان کے شعری ذوق کی آبیاری کی۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور حیدرآباد (سندھ) کو اپنا مسکن بنایا۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ اسی شہر کی ادبی رونقوں میں گزرا، مگر افسوس کہ جوانی ہی میں وہ تپِ دق (ٹی بی) جیسے مہلک مرض کا شکار ہو گئے، جس نے ان کی زندگی کے چراغ کو جلد گل کر دیا۔

شعری اسلوب اور فنی خصوصیات

قابل اجمیری کی شاعری ان کے گہرے داخلی مشاہدے اور زمانے کی بے حسی کے خلاف ایک خاموش احتجاج کا نام ہے۔ ان کے فن کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • فکری پختگی: قابل کی سب سے بڑی حیرت ان کے شعور کی وہ بالیدگی تھی جو ان کی عمر سے کہیں زیادہ تھی۔ وہ زندگی کے فلسفوں کو نہایت سادہ اور پُر اثر طریقے سے بیان کرنے کا ہنر جانتے تھے۔
  • درد و کرب کی لہر: ان کے کلام میں ایک خاص طرح کی کسک اور سوز پایا جاتا ہے، جو ان کی بیماری اور زندگی کی محرومیوں کا عکس معلوم ہوتا ہے۔
  • تغزل: قابل نے غزل کے روایتی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے اسے نئی معنویت عطا کی۔ ان کے ہاں جذبے کی سچائی اور لب و لہجے کی شگفتگی ایک منفرد تاثر پیدا کرتی ہے۔

ادبی مقام اور مجموعہ کلام

اگرچہ ان کی زندگی نے انہیں مہلت نہ دی کہ وہ کثیر التصانیف ہوتے، مگر ان کا جتنا بھی کلام محفوظ ہے، وہ معیار کے اعتبار سے لاجواب ہے۔ ان کا شعری مجموعہ 'تشنہ لب' ان کی وفات کے بعد شائع ہوا، جو ان کی فنی عظمت کا گواہ ہے۔ اس کے علاوہ ان کی شاعری کے دیگر انتخاب بھی منظرِ عام پر آ چکے ہیں، جنہیں ادبی حلقوں میں نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

وفات اور دائمی یاد

اردو کا یہ مایہ ناز سپوت محض 29 برس کی عمر میں 3 اکتوبر 1962ء کو حیدرآباد (سندھ) میں وفات پا گیا۔ اتنی کم عمری میں رخصت ہونے کے باوجود قابل اجمیری نے اردو غزل کو جو معیار دیا، وہ انہیں تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ ان کی شاعری آج بھی نوجوان نسل کے لیے اتنی ہی پُرکشش ہے جتنی کہ ان کے اپنے دور میں تھی۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد