قتیل شفائی: سادگی کا جادوگر اور نغمہ و غزل کا توانا سنگم
اردو ادب کے افق پر قتیل شفائی (اصل نام: محمد اورنگزیب) ایک ایسی قد آور شخصیت تھے جنہوں نے اپنی شاعری سے محبت، احتجاج اور انسانی جذبوں کو زبان عطا کی۔ وہ ایک ایسے عوامی شاعر تھے جن کی مقبولیت کا راز ان کے سادہ مگر پُر اثر اسلوب میں چھپا تھا۔ قتیل نے غزل کی آبرو کو بھی نبھایا اور فلمی نغمہ نگاری کو وہ معیار دیا جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔
پیدائش اور علمی آغاز
قتیل شفائی 24 دسمبر 1919ء کو ہری پور (خیبر پختونخوا) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کے انتقال کے بعد ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت رہی، مگر ان کے اندر کے فنکار نے انہیں کبھی ٹوٹنے نہیں دیا۔ انہوں نے اپنا تخلص اپنے استاد حکیم محمد یحییٰ شفا کی نسبت سے 'قتیل شفائی' رکھا۔ ان کی ادبی زندگی کا آغاز لاہور سے ہوا، جو اس وقت علم و ادب کا گہوارہ تھا، اور وہ بہت جلد انجمنِ ترقی پسند مصنفین کے فعال رکن بن گئے۔
فلمی نغمہ نگاری اور عالمی شہرت
قتیل شفائی کا سب سے بڑا حوالہ ان کی فلمی نغمہ نگاری ہے۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کی سینکڑوں فلموں کے لیے گیت لکھے جو آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔ ان کے فن کی چند نمایاں جہتیں درج ذیل ہیں:
- نغمگی اور موسیقیت: قتیل کے کلام میں ایک فطری موسیقی موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے گیتوں کی دھنیں بنانا موسیقاروں کے لیے ہمیشہ سہل رہا۔
- عوامی مقبولیت: انہوں نے مشکل اور ثقیل الفاظ کے بجائے عام فہم زبان استعمال کی، جس نے انہیں ہر طبقہ فکر میں مقبول بنا دیا۔
- سرحد پار پذیرائی: وہ پاکستان کے ان چند شعراء میں شامل تھے جن کی خدمات کا اعتراف بھارتی فلمی صنعت نے بھی کیا اور انہیں وہاں کے بڑے اعزازات سے نوازا گیا۔
شعری اسلوب اور تصانیف
قتیل شفائی کے شعری مجموعوں نے غزل کے ارتقاء میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی شاعری میں جہاں رومانوی رنگ غالب ہے، وہیں سماجی ناانصافیوں کے خلاف ایک توانا آواز بھی سنائی دیتی ہے۔ ان کی مشہور تصانیف میں درج ذیل شامل ہیں:
- ہریالی، گجر، جلترنگ اور روزن: ان کے وہ مجموعے جنہوں نے انہیں ادبی حلقوں میں مستحکم کیا۔
- جھومر، مطربہ اور پیراہن: ان کی فنی بلندی اور ارتقاء کے عکاس مجموعے کلام۔
- گھونگھٹ: ان کی آپ بیتی جو ان کی زندگی کے نشیب و فراز کی دلچسپ داستان ہے۔
اعزازات اور وفات
حکومتِ پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغۂ حسنِ کارکردگی (پرائڈ آف پرفارمنس) اور ستارۂ امتیاز سے نوازا۔ اس کے علاوہ انہیں آدم جی ادبی ایوارڈ اور بین الاقوامی سطح پر بھی کئی اعزازات ملے۔ اردو کا یہ بے مثل نغمہ گر 11 جولائی 2001ء کو لاہور میں وفات پا گیا، مگر ان کے لکھے ہوئے گیت اور غزلیں آج بھی فضاؤں میں رس گھول رہی ہیں۔