قیوم نظر

قیوم نظر: جدید نظم کا معمار اور حلقہ اربابِ ذوق کا روحِ رواں

اردو شاعری کی جدید تاریخ قیوم نظر (اصل نام: عبد القیوم) کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ وہ ایک ایسے ہمہ جہت فنکار تھے جنہوں نے غزل کی روایتی جمالیات کو نظم کی فکری وسعت کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ کیا کہ اردو ادب میں ایک نیا اسلوب متعارف ہوا۔ قیوم نظر محض ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک تحریک تھے، جنہوں نے جدیدیت کے بیج اردو ادب کی زمین میں نہایت مہارت سے بوئے۔

پیدائش اور علمی تربیت

قیوم نظر 7 مارچ 1914ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش لاہور کی اس علمی و ادبی فضا میں ہوئی جہاں بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ نئے خیالات جنم لے رہے تھے۔ انہوں نے اپنی تعلیم لاہور ہی سے مکمل کی اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور میں شعبہ اردو سے وابستہ ہو گئے۔ ان کی علمی تربیت میں لاہور کے مشاہیر اور اس عہد کی ادبی تحریکوں کا گہرا اثر رہا۔

حلقہ اربابِ ذوق اور جدیدیت

قیوم نظر کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ حلقہ اربابِ ذوق کی تشکیل اور اس کی آبیاری ہے۔ وہ اس حلقے کے بانی اراکین میں سے تھے اور انہوں نے اردو نظم کو ترقی پسند تحریک کے سیاسی غلبے سے نکال کر خالص انسانی جذبات، نفسیات اور فن کی جمالیات سے روشناس کرایا۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • منفرد اسلوب: قیوم نظر نے نظم میں نئے تجربات کیے اور غنائیت کو برقرار رکھتے ہوئے فکری گہرائی پیدا کی۔
  • فطرت نگاری: ان کی شاعری میں پرندے، درخت، بادل اور قدرتی مناظر محض پسِ منظر نہیں بلکہ انسانی احساسات کے ترجمان بن کر ابھرتے ہیں۔
  • بچوں کا ادب: انہوں نے بچوں کے لیے بھی نہایت خوبصورت نظمیں لکھیں، جو ان کی فنی تنوع کا ثبوت ہیں۔

تخلیقی سرمایہ اور تصانیف

قیوم نظر کے شعری مجموعوں نے اردو دنیا میں ایک خاص پہچان بنائی۔ ان کی اہم تصانیف میں درج ذیل شامل ہیں:

  • قندیل: ان کا وہ مجموعہ کلام جس نے جدید نظم کے حلقوں میں ان کے قد و قامت کو مستحکم کیا۔
  • پونون کی پائل اور واسوخت: ان کی فنی پختگی اور لسانی مہارت کے شاہکار۔
  • زندہ سڑکیں: ان کی شاعری کا ایک اور اہم پڑاؤ جس میں سماجی شعور کا رنگ نمایاں ہے۔
  • تراجم: انہوں نے عالمی ادب، خاص طور پر ڈراموں کے بہترین تراجم کر کے اردو نثر کو بھی مالا مال کیا۔

ادبی مقام اور وفات

قیوم نظر اپنی آخری سانس تک علم و ادب کی خدمت سے وابستہ رہے۔ وہ ایک شفیق استاد اور بہترین منتظم بھی تھے۔ اردو کا یہ عظیم نغمہ گر 23 جون 1989ء کو لاہور میں وفات پا گیا۔ قیوم نظر نے اردو نظم کو جو ندرت اور غنائیت عطا کی، وہ انہیں تاریخِ ادب میں ایک منفرد اور بلند مقام پر فائز رکھتی ہے۔ ان کے فن کا جادو آج بھی جدید شاعری کے طالب علموں کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد