کلیم عاجز

کلیم عاجز: دبستانِ میرؔ کا جدید وارث اور سوز و ساز کا شاعر

اردو غزل کی روایت میں کلیم عاجز (اصل نام: کلیم احمد) ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ سچی شاعری صرف وہی ہے جو دل سے نکلے اور دل میں اتر جائے۔ انہیں بیسویں صدی کا 'میر تقی میر' کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، کیونکہ انہوں نے قدیم غزل کی کلاسیکی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے اپنے دور کے کرب اور ذاتی المیے سے اس طرح جوڑا کہ وہ ایک نئی شعری آواز بن گئی۔

پیدائش اور علمی سفر

کلیم عاجز 11 اکتوبر 1926ء کو نالندہ (بہار، بھارت) کے ایک گاؤں تلہاڑا میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی زندگی نہایت پُر سکون تھی، مگر 1946ء کے فسادات نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ ان کے خاندان کے بیشتر افراد ان کی آنکھوں کے سامنے شہید کر دیے گئے، اور اس عظیم سانحے نے ان کے اندر کے انسان اور شاعر کو وہ مستقل سوز عطا کیا جو ان کے کلام کا بنیادی وصف بن گیا۔ انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی اور وہاں طویل عرصہ شعبہ اردو میں پروفیسر رہے۔

شعری اسلوب اور فنی خصوصیات

کلیم عاجز کی شاعری کا جادو ان کے مخصوص لہجے اور سادگی میں پوشیدہ ہے۔ ان کے فن کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • روایتی سادگی: انہوں نے ثقیل الفاظ کے بجائے نہایت سادہ اور روزمرہ کی زبان میں بڑے بڑے حقائق بیان کیے۔
  • داخلی سوز: ان کی شاعری میں ان کے ذاتی دکھوں اور انسانی المیے کی گہری بازگشت سنائی دیتی ہے، مگر اس میں مایوسی کے بجائے ایک وقار پایا جاتا ہے۔
  • نشتر زنی: میرؔ کی طرح ان کے اشعار بھی دل پر نشتر کا کام کرتے ہیں۔ وہ عشق کے ساتھ ساتھ سماجی بے حسی پر بھی نہایت دھیمے مگر کاٹ دار لہجے میں بات کرتے ہیں۔

تصانیف اور مجموعے

کلیم عاجز کے شعری مجموعوں نے ادبی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا تھا۔ ان کی اہم کتب میں درج ذیل شامل ہیں:

  • وہ جو شاعری کا سبب ہوا: ان کا پہلا مجموعہ جس نے انہیں راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
  • جب فصلِ بہار آئی تھی: ان کی فنی پختگی کا شاہکار مجموعہ۔
  • کوچۂ جاناں اور جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی: ان کی غزلوں اور یادوں کے مجموعے جو ان کے مخصوص اسلوب کی ترجمانی کرتے ہیں۔
  • ابھی سن لو مجھ سے: ان کی خود نوشت سوانح جو ان کی زندگی کے تلخ حقائق کا آئینہ دار ہے۔

اعزازات اور وفات

حکومتِ ہند نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں پدما شری ایوارڈ سے نوازا۔ وہ مشاعروں کی جان تھے اور ان کے پڑھنے کا مخصوص ترنم آمیز انداز سامعین پر سحر طاری کر دیتا تھا۔ اردو غزل کا یہ درویش شاعر 15 فروری 2015ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گیا۔ کلیم عاجز نے اردو غزل کو جو درد اور فنی بانکپن عطا کیا، وہ تاریخِ ادب میں ایک قیمتی اثاثہ بن کر ہمیشہ محفوظ رہے گا۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد