کیفی اعظمی: انقلاب کا نقیب اور ترقی پسند تحریک کا درخشندہ ستارہ
اردو شاعری کے افق پر کیفی اعظمی (اصل نام: سید اطہر حسین رضوی) ایک ایسی قد آور شخصیت تھے جنہوں نے اپنے فن کو سماجی استحصال کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ وہ ایک نظریاتی شاعر تھے جنہوں نے مارکسی افکار کو اپنی نظموں میں اس طرح سمویا کہ فن اور موضوع یک جان ہو گئے۔ ان کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک بہتر اور برابری پر مبنی معاشرے کی تشکیل کا خواب ہے۔
پیدائش اور باغیانہ آغاز
کیفی اعظمی 15 اگست 1918ء کو اعظم گڑھ کے گاؤں مجواں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید فتح حسین رضوی ایک زمیندار تھے۔ کیفی کی باغیانہ فطرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب انہیں لکھنؤ کے شیعہ مدرسہ 'سلطان المدارس' میں داخل کرایا گیا، تو انہوں نے وہاں کی انتظامی خرابیوں کے خلاف طلبا کی انجمن بنا کر ہڑتال کر دی، جس کی پاداش میں انہیں مدرسے سے خارج کر دیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے لکھنؤ اور الہ آباد سے عربی و فارسی کی اعلیٰ اسناد حاصل کیں۔
اشتراکیت اور مزدور تحریک سے وابستگی
کیفی کی زندگی کا رخ اس وقت بدلا جب وہ کانپور میں مزدوروں کی تحریک سے وابستہ ہوئے اور مارکسزم کا مطالعہ کیا۔ سجاد ظہیر انہیں بمبئی لے گئے جہاں وہ کمیونسٹ پارٹی کے ہمہ وقتی کارکن بن گئے۔ انہوں نے بمبئی کی سڑکوں پر پارٹی کا ترجمان 'قومی جنگ' فروخت کیا اور مزدوروں کے ساتھ رہ کر ان کے دکھ درد کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ ان کی مثنوی 'خانہ جنگی' کو اردو کی پہلی سیاسی مثنوی کا اعزاز حاصل ہے۔
ازدواجی زندگی اور مالی مشکلات
1945ء میں ان کی ملاقات شوکت خانم سے ہوئی اور 1947ء میں دونوں رشتۂ ازدواج میں بندھ گئے۔ آزادی کے بعد کا دور کیفی کے لیے نہایت کٹھن تھا؛ پارٹی پر پابندیوں اور معاشی تنگی کی وجہ سے انہیں روپوش رہنا پڑا اور اسی غربت کے عالم میں ان کا پہلا بچہ صحیح علاج نہ ہونے کے باعث فوت ہو گیا۔ ان حالات نے انہیں فلمی دنیا کی طرف مائل کیا تاکہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں۔
فلمی دنیا میں غیر معمولی کامیابی
کیفی اعظمی فلمی دنیا کے ان گنے چنے ادیبوں میں شامل ہیں جنہوں نے نغمہ نگاری کے ساتھ ساتھ کہانی، مکالمے اور منظر نامے لکھ کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے چند اہم کارنامے درج ذیل ہیں:
- منظوم مکالمے: فلم 'ہیر رانجھا' کے تمام مکالمے منظوم لکھنا ان کا ایک ایسا تاریخی کارنامہ ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔
- شاہکار فلمیں: کاغذ کے پھول، حقیقت اور گرم ہوا جیسی فلموں نے انہیں غیر معمولی شہرت عطا کی۔
- اعزازات: انہیں تین فلم فیئر ایوارڈز سے نوازا گیا۔
سماجی خدمات اور اعزازات
زندگی کے آخری دور میں انہوں نے اپنے آبائی گاؤں مجواں کی ترقی کے لیے بے مثال کام کیے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ، سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ اور لوٹس ایوارڈ جیسے عالمی اعزازات دیے گئے۔ پدم شری کا اعزاز انہوں نے اردو کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر احتجاجاً قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
وفات اور ادبی مقام
اردو کا یہ عظیم انقلابی شاعر 10 مئی 2002ء کو دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گیا۔ کیفی اعظمی کے کلام میں خطابت، بلند آہنگی اور غنائیت کا ایک خاص امتزاج ملتا ہے۔ وہ انیس، حالی، اقبال اور جوش سے متاثر تھے اور ان کے اسالیب سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ان کی نظمیں فکر و فن کے اعلیٰ معیار پر پوری اترتی ہیں اور اردو شاعری میں ہمیشہ ایک اہم مقام کی حامل رہیں گی۔