محبوب خزاں

محبوب خزاں: جدید غزل کا صاحبِ اسلوب اور درویش صفت شاعر

اردو ادب کے منظر نامے پر محبوب خزاں (اصل نام: محبوب الہٰی) ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے شہرت کی طلب سے بے نیاز ہو کر صرف فن کی آبیاری کی۔ وہ ایک گوشہ نشین فنکار تھے، مگر ان کی شعری خوشبو نے ادبی حلقوں کو ہمیشہ مسحور رکھا۔ ان کی شاعری روایتی غزل اور جدید حسیت کا ایک ایسا سنگم ہے جس میں زندگی کے حقائق کو نہایت نفاست اور دھیمے لہجے میں بیان کیا گیا ہے۔

پیدائش اور علمی پس منظر

محبوب خزاں 1929ء میں پنجاب (بھارت) کے شہر لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان منتقل ہو گئے اور اپنی علمی و ادبی زندگی کا بڑا حصہ لاہور اور کراچی میں گزارا۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اپنی عملی زندگی کا آغاز سرکاری ملازمت سے کیا، جہاں وہ آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ ان کی علمی وجاہت اور سنجیدگی ان کے کلام میں بھی صاف جھلکتی ہے۔

شعری اسلوب اور فنی خصوصیات

محبوب خزاں کی غزل اپنے منفرد لب و لہجے کی بنا پر پہچانی جاتی ہے۔ ان کے فن کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • اختصار اور جامعیت: وہ طویل گفتگو کے بجائے مختصر اور پرمغز اشعار کہنے کے قائل تھے۔ ان کے ہاں الفاظ کا ضیاع نہیں ملتا۔
  • منفرد لب و لہجہ: محبوب خزاں نے غزل کے مروجہ اسلوب سے ہٹ کر اپنا ایک الگ راستہ بنایا۔ ان کے ہاں ایک خاص قسم کی شگفتگی اور فکری تازگی پائی جاتی ہے۔
  • تہذیبی رچاؤ: ان کی شاعری میں قدیم تہذیبی اقدار اور جدید شہری زندگی کے تضادات کا ذکر نہایت خوبصورتی سے ملتا ہے۔

تصانیف اور شعری مجموعے

محبوب خزاں نے بہت کم لکھا، مگر جو لکھا وہ معیار کے اعتبار سے لاجواب ہے۔ ان کی تصانیف میں درج ذیل مجموعہ کلام نہایت اہمیت کا حامل ہے:

  • اکیلی بستیاں: یہ ان کا وہ شعری مجموعہ ہے جس نے ادبی دنیا میں ان کے قد و قامت کو مستحکم کیا۔ اس مجموعے کی غزلیں جدید اردو غزل کے ارتقاء میں ایک اہم سنگِ میل تصور کی جاتی ہیں۔

ادبی مقام اور وفات

محبوب خزاں ایک ایسی شخصیت تھے جن کے بارے میں احمد مشتاق اور انتظار حسین جیسے بڑے ادیبوں نے نہایت توصیفی کلمات ادا کیے۔ وہ مشاعروں کی بھیڑ بھاڑ سے دور رہنا پسند کرتے تھے، مگر جب بھی ان کا کوئی نیا شعر منظرِ عام پر آتا، تو وہ ادبی حلقوں میں بحث کا موضوع بن جاتا۔ اردو غزل کا یہ درویش صفت شاعر 7 دسمبر 2013ء کو کراچی میں وفات پا گیا۔

مجموعی تاثر

محبوب خزاں نے اردو غزل کو جو ندرت اور اسلوب کی صفائی عطا کی، وہ انہیں تاریخِ ادب میں ایک منفرد مقام پر فائز رکھتی ہے۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے ثابت کیا کہ سچی شاعری کے لیے شور مچانے کی ضرورت نہیں، بلکہ خاموشی سے کیا گیا کام ہی ابدی شہرت کا حامل ہوتا ہے۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد