مجروح سلطان پوری: غزل کا معتبر لہجہ اور فلمی نغمہ نگاری کا درویش
اردو ادب اور برِ صغیر کی فلمی تاریخ میں مجروح سلطان پوری (اصل نام: اسرار الحسن خان) ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے اپنی شاعری کو محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ ایک مقصد بنا دیا۔ وہ ایک ایسے نغمہ نگار تھے جنہوں نے فلمی گیتوں کو ادبی وقار عطا کیا اور ایک ایسے غزل گو تھے جنہوں نے کلاسیکی اسلوب میں جدید دور کے سیاسی و سماجی مسائل کو نہایت خوبصورتی سے پرو دیا۔
پیدائش اور ابتدائی تعلیم
مجروح سلطان پوری یکم اکتوبر 1919ء کو اتر پردیش کے ضلع سلطان پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پولیس میں ملازم تھے مگر مجروح کی طبیعت ابتدا ہی سے علمی و ادبی تھی۔ انہوں نے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی اور درسِ نظامی مکمل کرنے کے بعد حکمت کا پیشہ اختیار کیا۔ تاہم، ان کے اندر کا شاعر انہیں مشاعروں کی طرف لے آیا، جہاں ان کی ملاقات جگر مراد آبادی سے ہوئی اور یہیں سے ان کی زندگی کا نیا باب شروع ہوا۔
ترقی پسند تحریک اور قید و بند کی صعوبتیں
مجروح سلطان پوری انجمنِ ترقی پسند مصنفین کے نہایت فعال اور نظریاتی رکن تھے۔ ان کی شاعری میں مزدوروں کے حقوق اور استحصالی نظام کے خلاف ایک توانا آواز ملتی ہے۔ اپنی انقلابی نظموں اور سیاسی نظریات کی پاداش میں انہیں دو برس تک ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں قید بھی رہنا پڑا۔ انہوں نے جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنے کو اپنا شعار بنایا، مگر جیل کی دیواریں بھی ان کے شعری سفر کو نہ روک سکیں۔
فلمی نغمہ نگاری کا شاہکار سفر
مجروح سلطان پوری کا فلمی سفر 1946ء میں فلم 'شاہجہاں' سے شروع ہوا۔ انہوں نے پانچ دہائیوں تک فلمی دنیا پر راج کیا اور سینکڑوں ایسے گیت لکھے جو آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- ادبی معیار: انہوں نے فلمی ضرورتوں کے باوجود نغمات کے ادبی معیار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
- موسیقیت: ان کے کلام میں ایک فطری غنائیت تھی، یہی وجہ ہے کہ ان کے گیت ہر عہد میں مقبول رہے۔
- داخلی رچاؤ: فلمی گیتوں میں بھی انہوں نے غزل کے مخصوص تغزل اور حیا کو برقرار رکھا۔
شعری اسلوب اور تصانیف
اگرچہ ان کی فلمی مصروفیات بہت زیادہ تھیں، مگر انہوں نے خالص ادبی غزل کی آبیاری بھی جاری رکھی۔ ان کا مجموعہ کلام 'غزل' کے نام سے شائع ہوا، جو ان کی فنی عظمت کا مستند ثبوت ہے۔ ان کے ہاں میرؔ اور غالبؔ کی روایت کا تسلسل ملتا ہے، مگر اس میں عصرِ حاضر کی تلخیوں کا عکس بھی نمایاں ہے۔
اعزازات اور وفات
مجروح سلطان پوری کو ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں 1993ء میں فلمی دنیا کے سب سے بڑے اعزاز 'دادا صاحب پھالکے ایوارڈ' سے نوازا گیا۔ وہ یہ اعزاز پانے والے پہلے نغمہ نگار تھے۔ اس کے علاوہ انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور اقبال ایوارڈ بھی دیے گئے۔ اردو کا یہ عظیم نغمہ گر 24 مئی 2000ء کو ممبئی میں وفات پا گیا۔