محسن احسان

محسن احسان: سرحد کے ادبی افق کا درخشندہ ستارہ

اردو ادب کی تاریخ میں محسن احسان (اصل نام: احسان علی شاہ) ایک ایسی منفرد شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے اپنی شاعری اور تراجم کے ذریعے پشاور کی ادبی شناخت کو مستحکم کیا۔ وہ ایک بلند پایہ شاعر، نقاد اور ماہرِ تعلیم تھے، جن کے کلام میں رومانوی لطافت کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کے سیاسی و سماجی حالات کا گہرا شعور پایا جاتا ہے۔ ان کا اسلوب سادگی، سلاست اور فنی رچاؤ کا بہترین نمونہ ہے۔

پیدائش اور علمی زندگی

محسن احسان 15 اکتوبر 1932ء کو پشاور (خیبر پختونخوا) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک ایسے علمی گھرانے سے تھا جس نے ان کی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی تعلیم پشاور ہی سے حاصل کی اور بعد ازاں اسلامیہ کالج پشاور اور ایڈورڈز کالج پشاور میں بطور پروفیسر اور صدرِ شعبہ اردو خدمات انجام دیں۔ ان کی تدریسی زندگی نے ہزاروں طلباء کو علم و ادب کی روشنی سے منور کیا۔

شعری اسلوب اور فنی خصوصیات

محسن احسان کی شاعری کا دائرہ غزل اور نظم دونوں تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کے فن کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • توازن اور اعتدال: ان کے کلام میں روایت کی پاسداری اور جدیدیت کا ایک متوازن امتزاج ملتا ہے۔
  • علاقائی خوشبو: پشاور کی مخصوص تہذیب اور وہاں کے مناظر ان کی شاعری میں جا بجا نظر آتے ہیں، جس سے ان کے کلام میں ایک فطری رنگ پیدا ہوتا ہے۔
  • تراجم کی مہارت: محسن احسان نے پشتو اور انگریزی ادب کے شاہکاروں کو اردو میں نہایت مہارت سے منتقل کیا۔ خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا کے کلام کے ان کے تراجم اردو ادب کا قیمتی اثاثہ ہیں۔

تصانیف اور مجموعے

محسن احسان نے اردو ادب کو کئی یادگار مجموعے اور تحقیقی کتب عطا کیں۔ ان کی اہم کتب میں درج ذیل شامل ہیں:

  • ناتمام: ان کا پہلا شعری مجموعہ جس نے ان کی پہچان بطور مستند شاعر کرائی۔
  • اجنبی دستک اور ناگزیر: ان کی فنی پختگی اور فکری ارتقاء کے عکاس مجموعے کلام۔
  • مٹی کی مہک: ان کے کلام کا وہ حصہ جو وطن کی مٹی سے ان کی محبت کا گواہ ہے۔
  • پشتو ادب کی تاریخ: ان کا اہم تحقیقی کام جس نے دو زبانوں کے درمیان ادبی پل کا کام کیا۔

اعزازات اور وفات

حکومتِ پاکستان نے ان کی ادبی و تعلیمی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغۂ حسنِ کارکردگی (پرائڈ آف پرفارمنس) سے نوازا۔ وہ پشاور کے ادبی حلقوں کا روحِ رواں تھے اور اباسین آرٹس کونسل جیسی تنظیموں کے ذریعے فن کی آبیاری کرتے رہے۔ اردو کا یہ شفیق استاد اور قادر الکلام شاعر 20 ستمبر 2010ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گیا۔

مجموعی تاثر

محسن احسان نے اردو شاعری کو جو وقار اور تہذیبی حسن عطا کیا، وہ انہیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے ثابت کیا کہ پشاور کی زمین جتنی بہادر ہے، اتنی ہی زرخیز اور تخلیقی بھی ہے۔ ان کا کلام آج بھی نئے لکھنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد