میرا جی

میرا جی: جدید اردو نظم کا پراسرار عبقری اور علامت نگاری کا بانی

اردو ادب کی تاریخ میں میرا جی (اصل نام: محمد ثناء اللہ ثانی ڈار) ایک ایسی منفرد اور متنازع شخصیت کے طور پر ابھرے جنہوں نے اردو نظم کو روایتی مصلحتوں سے نکال کر انسانی نفسیات کی اتھاہ گہرائیوں سے روشناس کرایا۔ وہ ایک گوشہ نشین مگر نہایت توانا فنکار تھے، جن کی زندگی خود ایک ایسی نظم تھی جسے سمجھنے کے لیے عام ڈگر سے ہٹ کر سوچنا پڑتا ہے۔

پیدائش اور نام کی تبدیلی کا پس منظر

میرا جی 25 مئی 1912ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کی شخصیت میں موجود اضطراب کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک بنگالی لڑکی 'میرا سین' کی یکطرفہ محبت میں اپنا نام محمد ثناء اللہ سے بدل کر 'میرا جی' رکھ لیا اور اسی نام سے امر ہو گئے۔ یہ نام محض ایک تخلص نہیں تھا بلکہ ان کی اس داخلی ٹوٹ پھوٹ کا اظہار تھا جس نے انہیں دنیا سے بیگانہ کر کے فن کی دنیا میں مقید کر دیا تھا۔

ادبی خدمات اور حلقہ اربابِ ذوق

میرا جی کا سب سے بڑا کارنامہ حلقہ اربابِ ذوق کی فکری آبیاری ہے۔ انہوں نے اردو نظم کو ترقی پسند تحریک کے سیاسی اور سماجی بوجھ سے آزاد کر کے فرد کی داخلی دنیا، جنسی گھتیاں اور لاشعور کے پوشیدہ گوشوں کی طرف موڑ دیا۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • علامت نگاری: میرا جی نے اردو میں جدید علامت نگاری کی بنیاد رکھی۔ ان کی نظمیں تہہ در تہہ معنی رکھتی ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے نفسیاتی بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔
  • مشرقی و مغربی علوم کا امتزاج: وہ نہ صرف سنسکرت اور قدیم ہندوستانی مالا سے واقف تھے بلکہ مغربی ادب، خاص طور پر فرانسیسی علامت نگاروں کے گہرے مطالعہ نے ان کے اسلوب کو ایک بین الاقوامی رنگ عطا کیا۔
  • نئی ہئیتیں: انہوں نے اردو نظم میں ہئیت کے نئے تجربات کیے اور آزاد نظم کو ایک باقاعدہ فنی وقار عطا کیا۔

تصانیف اور ترجمے

میرا جی کی تخلیقی جولانیاں نہایت وسیع تھیں۔ ان کی اہم کتب میں درج ذیل شامل ہیں:

  • میرا جی کی نظمیں: ان کا وہ مجموعہ جس نے جدید نظم کے ضابطے طے کیے۔
  • گیت ہی گیت: ان کے گیتوں میں ہندی مٹھاس اور لوک روایت کا ایک انوکھا سنگم ملتا ہے۔
  • مشرق و مغرب کے نغمے: عالمی شاعری کے تراجم جن کے ذریعے انہوں نے اردو قارئین کو عالمی ادب سے روشناس کرایا۔
  • اس بستی میں: ان کی تنقیدی بصیرت کا شاہکار جس میں انہوں نے مختلف شعراء کے کلام کا نفسیاتی تجزیہ کیا۔

آخری ایام اور وفات

میرا جی کی زندگی فقر، فاقہ کشی اور ذہنی کرب کا مجموعہ رہی۔ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں بمبئی منتقل ہو گئے تھے، جہاں 3 نومبر 1949ء کو محض 37 برس کی عمر میں کسمپرسی کی حالت میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی موت کے بعد ان کے فن کی قدر و قیمت کا احساس ہوا اور آج انہیں جدید اردو نظم کا سب سے بڑا معمار تسلیم کیا جاتا ہے۔

مجموعی ادبی مقام

میرا جی نے اردو کو وہ زبان دی جو انسان کے لاشعور سے گفتگو کرتی ہے۔ ان کی شاعری میں جو ابہام اور گہرائی ہے، وہ دراصل انسانی روح کی پیچیدگیوں کی عکاس ہے۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے ثابت کیا کہ شاعری صرف سماج کا آئینہ نہیں ہوتی بلکہ وہ فرد کے اندر چھپے ہوئے تاریک اور روشن گوشوں کی کھوج بھی ہے۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد