ناصر کاظمی

ناصر کاظمی: اداسی کا شاعر اور جدید غزل کا میرِ ثانی

اردو ادب کی تاریخ میں ناصر کاظمی (اصل نام: ناصر رضا کاظمی) ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے غزل کو ایک نئی حسیت عطا کی۔ انہوں نے تقسیمِ ہند کے کرب، اجڑتی ہوئی بستیوں کے دکھ اور ماضی کی سنہری یادوں کو اپنی شاعری کا محور بنایا۔ ناصر کی غزل میں وہ جادو ہے جو قاری کو ایک پرسکون اداسی کی کیفیت میں لے جاتا ہے، جہاں دکھ بھی ایک حسن بن جاتا ہے۔

پیدائش اور ہجرت کا دکھ

ناصر کاظمی 8 دسمبر 1925ء کو انبالہ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی زندگی انبالہ کی پرسکون فضاؤں میں گزری، مگر 1947ء کی تقسیم نے ان سے ان کا گھر، ان کی گلیاں اور وہ تمام یادیں چھین لیں جن سے ان کا وجود عبارت تھا۔ وہ ہجرت کر کے لاہور آ گئے، مگر ان کا دل ہمیشہ انبالہ کی گلیوں میں بھٹکتا رہا۔ یہی ہجرت کا دکھ اور بچھڑ جانے کا ملال ان کی پوری شاعری کی بنیاد بنا۔

شعری اسلوب اور فنی خصوصیات

ناصر کاظمی کی شاعری کے چند ایسے پہلو ہیں جو انہیں جدید اردو غزل کا امام بناتے ہیں:

  • استعارہ کاری: ناصر نے چاند، رات، پرندے، درخت اور ویران گلیوں کو جس طرح استعارے کے طور پر استعمال کیا، وہ ان ہی کا خاصہ ہے۔ ان کے ہاں مناظرِ فطرت انسانی جذبوں کے ترجمان بن کر ابھرتے ہیں۔
  • سادگی اور ترنم: ناصر کے اشعار میں ایک عجیب سی نغمگی اور موسیقیت ہے۔ وہ بہت سادہ الفاظ میں دل کی گہرائیوں تک اتر جانے والی بات کہنے کے ماہر تھے۔
  • ماضی پرستی: ان کی شاعری میں 'یاد' ایک مستقل کردار کی طرح موجود ہے۔ وہ بیتے ہوئے لمحوں کو آواز دیتے ہیں اور ماضی کے مزاروں پر چراغاں کرتے نظر آتے ہیں۔

ادبی وابستگی اور خدمات

ناصر کاظمی کا تعلق بھی "حلقہ اربابِ ذوق" سے تھا اور انہوں نے جدید غزل کے ارتقاء میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ ریڈیو پاکستان سے بھی وابستہ رہے اور متعدد ادبی رسائل کی ادارت بھی کی۔ ان کی موجودگی نے لاہور کے ادبی ماحول کو ایک نئی توانائی بخشی اور وہ نوجوان شعراء کے لیے ایک آئیڈیل کی حیثیت اختیار کر گئے۔

تصانیف اور مجموعے

ناصر کاظمی کا کلام مقدار میں کم مگر معیار میں نہایت بلند ہے۔ ان کی اہم تصانیف درج ذیل ہیں:

  • برگِ نَے: ان کا پہلا مجموعہ کلام جس نے اردو غزل کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا اور انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔
  • دیوان: ان کی فنی پختگی کا شاہکار مجموعہ جو ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔
  • پہلی بارش: غزلوں کا ایک ایسا تسلسل (Sequel) جس میں انہوں نے برسات کے موسم کو ایک انوکھے علامتی انداز میں پیش کیا۔
  • نشاطِ خواب اور سرِ کی کوہسار: ان کے شعری مجموعے اور منظوم ڈرامے۔

وفات اور ادبی ورثہ

اردو کا یہ عظیم غزل گو محض 46 برس کی عمر میں 2 مارچ 1972ء کو لاہور میں کینسر کے باعث وفات پا گیا۔ ناصر کاظمی نے اتنی کم عمر پا کر بھی اردو غزل کو وہ وقار اور لہجہ دیا جو صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ ان کا یہ مصرع "گئے دنوں کا سراغ لے کر کہاں سے آیا، کدھر کو جائے" ان کی پوری زندگی اور شاعری کا نچوڑ معلوم ہوتا ہے۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد