ندا فاضلی

ندا فاضلی: انسانی رشتوں کا شاعر اور سادہ بیانی کا فنکار

اردو اور ہندی کے ادبی افق پر ندا فاضلی (اصل نام: مقتدیٰ حسن) ایک ایسی منفرد آواز تھے جنہوں نے شاعری کو خانقاہوں اور درباروں سے نکال کر عام آدمی کے گھر کے آنگن تک پہنچا دیا۔ وہ ایک ایسے دانشور شاعر تھے جن کے ہاں زندگی اپنے تمام تر تضادات، دکھوں اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ ندا فاضلی نے ثابت کیا کہ سچائی کو بیان کرنے کے لیے ثقیل الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ سادگی میں ہی اصل تاثیر چھپی ہوتی ہے۔

پیدائش اور خاندانی پس منظر

ندا فاضلی 12 اکتوبر 1938ء کو گوالیار (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بھی ایک شاعر تھے، جن کا تخلص 'فاضل' تھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا پورا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا، مگر ندا فاضلی نے اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کا فیصلہ کیا اور بھارت ہی میں مقیم رہے۔ خاندان سے بچھڑنے کا یہ دکھ اور تنہائی ان کی ابتدائی شاعری میں ایک لہر کی طرح محسوس کی جا سکتی ہے، مگر انہوں نے اس دکھ کو عالمی انسانی کرب میں تبدیل کر دیا۔

شعری اسلوب اور فنی خصوصیات

ندا فاضلی کی شاعری اپنی مخصوص لسانی ساخت اور فکری گہرائی کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے:

  • لسانی ہم آہنگی: انہوں نے اردو اور ہندی کے الفاظ کو اس طرح یکجا کیا کہ ان کا کلام 'ہندوستانی' زبان کا بہترین نمونہ بن گیا۔
  • انسانیت اور امن: ان کی شاعری فرقہ وارانہ دیواروں کو گرا کر انسان کو انسان سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے دوہے اس سلسلے میں خاص طور پر مشہور ہیں۔
  • منفرد مشاہدہ: وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں، جیسے بچے کی مسکراہٹ، ماں کی دعا یا بارش کی بوندوں میں زندگی کا فلسفہ تلاش کر لیتے تھے۔

فلمی دنیا اور نغمہ نگاری

ندا فاضلی نے فلمی دنیا کو بھی کئی لازوال نغمات اور غزلیں عطا کیں۔ فلم 'رضیہ سلطان'، 'سرفروش' اور 'آہستہ آہستہ' جیسے شاہکاروں میں ان کے لکھے ہوئے گیت آج بھی لوگوں کے حافظے کا حصہ ہیں۔ انہوں نے فلمی نغمہ نگاری میں بھی اپنے ادبی معیار کو برقرار رکھا اور بازاری پن سے ہمیشہ گریز کیا۔

تصانیف اور مجموعے

ان کا تخلیقی سرمایہ نثر اور نظم دونوں میں نہایت وقیع ہے۔ ان کی اہم کتب میں درج ذیل شامل ہیں:

  • لفظوں کا پل: ان کا پہلا شعری مجموعہ جس نے انہیں جدیدیت کے صفِ اول کے شعراء میں شامل کیا۔
  • مور ناچ، آنکھ اور خواب کے درمیان اور کھویا ہوا سا کچھ: ان کی فنی پختگی اور مشاہدے کے شاہکار مجموعے۔
  • دنیا میرے آگے: ان کی نثر کا بہترین نمونہ جس میں انہوں نے اپنے معاصرین کے خاکے نہایت بے باکی سے لکھے۔
  • دیواروں کے بیچ: ان کی سوانحی کتاب جو ان کی زندگی کے نشیب و فراز کو اجاگر کرتی ہے۔

اعزازات اور وفات

حکومتِ ہند نے ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں پدما شری اور ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ جیسے بڑے اعزازات سے نوازا۔ وہ مشاعروں کی جان تھے اور ان کے کلام پڑھنے کا انداز نہایت سنجیدہ اور متاثر کن تھا۔ اردو اور ہندی کا یہ عظیم پل 8 فروری 2016ء کو ممبئی میں وفات پا گیا۔

مجموعی تاثر

ندا فاضلی نے شاعری کو جو وسعت اور سچائی عطا کی، وہ انہیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے ہر عہد کے انسان کے لیے لکھا۔ ان کا یہ مشہور قول کہ "ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی" ان کی انسانی نفسیات پر گہری نظر کا ثبوت ہے۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد