نوح ناروی

نوحؔ ناروی: داغؔ دہلوی کے رنگِ سخن کا پاسبان اور مستند غزل گو

اردو غزل کی تاریخ میں نوحؔ ناروی (اصل نام: سید محمد نوح) ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے زبان و بیان کی اس روایتی چاشنی کو برقرار رکھا جو داغؔ دہلوی کی پہچان تھی۔ وہ ایک قادر الکلام شاعر تھے جن کے ہاں محاورے کی پختگی اور بیان کی صفائی اپنی انتہا پر نظر آتی ہے۔ انہوں نے اس دور میں غزل کی آبیاری کی جب اردو شاعری مختلف تجربات سے گزر رہی تھی، مگر نوحؔ نے کلاسیکی غزل کے وقار پر کبھی حرف نہیں آنے دیا۔

پیدائش اور داغؔ کی شاگردی

نوحؔ ناروی 1879ء میں قصبہ نارہ، ضلع الہ آباد (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تربیت ایک علمی ماحول میں ہوئی، مگر ان کی شعری زندگی کا سب سے اہم موڑ وہ تھا جب انہوں نے فصیح الملک نواب مرزا داغؔ دہلوی کی شاگردی اختیار کی۔ داغؔ نے ان کی صلاحیتوں کو پہچانا اور ان کی تربیت کچھ اس انداز میں کی کہ نوحؔ ان کے رنگِ سخن کے سب سے بڑے نمائندے بن کر ابھرے۔ داغؔ کی وفات کے بعد ان کے ہزاروں شاگردوں نے اصلاحِ سخن کے لیے نوحؔ ناروی کی طرف رجوع کیا، جو ان کے علمی مرتبے کا ثبوت ہے۔

ریاست نانپارہ سے وابستگی

نوحؔ ناروی کی زندگی کا ایک بڑا حصہ ریاست نانپارہ (اتر پردیش) سے وابستہ رہا، جہاں وہ راجہ نانپارہ کے اتالیق اور درباری شاعر رہے۔ اس وابستگی نے انہیں معاشی فکر سے آزاد رکھا، جس کے نتیجے میں انہوں نے پوری دلجمعی کے ساتھ فن کی خدمت کی۔ نانپارہ کا دربار ان کی موجودگی کی وجہ سے ایک علمی مرکز بن گیا تھا جہاں دور دور سے شعراء کھچے چلے آتے تھے۔

شعری اسلوب اور فنی خصوصیات

نوحؔ ناروی کی شاعری داغؔ کے مکتبِ فکر کا تسلسل ہے، مگر اس میں ان کی اپنی انفرادیت بھی شامل ہے:

  • زبان و محاورہ: وہ دہلی کی مستند زبان اور روزمرہ کے استعمال میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ ان کے اشعار میں زبان کا ایسا رچاؤ ملتا ہے جو اب ناپید ہوتا جا رہا ہے۔
  • تغزل کی شوخی: داغؔ کی طرح ان کے ہاں بھی غزل میں ایک خاص قسم کی نشاطیہ کیفیت اور شوخی پائی جاتی ہے، جو سامعین کو فوراً اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔
  • سادگی اور روانی: ان کے کلام میں کہیں بھی آورد محسوس نہیں ہوتی، بلکہ ایسا لگتا ہے جیسے خیالات خود بخود موزوں ہو رہے ہوں۔

تصانیف اور شعری مجموعے

نوحؔ ناروی نے اردو ادب کو تین اہم شعری مجموعے عطا کیے جو کلاسیکی غزل کے طالب علموں کے لیے درسی اہمیت رکھتے ہیں:

  • سفینۂ نوح: ان کا پہلا اور مشہور مجموعہ کلام جس نے انہیں علمی دنیا میں مستحکم کیا۔
  • طوفانِ نوح: ان کی فنی پختگی اور شعری جولانیوں کا آئینہ دار مجموعہ۔
  • اعجازِ نوح: ان کا آخری دور کا کلام جس میں تجربے اور مشاہدے کی گہرائی نمایاں ہے۔

وفات اور ادبی مقام

اردو غزل کا یہ درخشندہ ستارہ 10 اکتوبر 1962ء کو نانپارہ میں وفات پا گیا۔ نوحؔ ناروی نے اپنے پیچھے شاگردوں کی ایک طویل فہرست چھوڑی جنہوں نے ان کے اسلوب کو آگے بڑھایا۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے ثابت کیا کہ اگر بنیاد مضبوط ہو تو روایت میں رہتے ہوئے بھی اپنی الگ پہچان بنائی جا سکتی ہے۔ ان کا نام داغؔ دہلوی کے اسکول آف تھاٹ کو سمجھنے کے لیے ہمیشہ ناگزیر رہے گا۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد