اختر الایمان: جدید اردو نظم کا ایک منفرد اور توانا لہجہ
بیسویں صدی کے اردو ادب میں اختر الایمان کا نام ایک ایسے نظم نگار کے طور پر ابھرا جنہوں نے رائج الوقت روایات سے ہٹ کر اپنی ایک الگ راہ نکالی۔ وہ جدید نظم کے ان چند مایہ ناز شعراء میں شامل ہیں جنہوں نے انسانی نفسیات، وجودی کرب اور بدلتے ہوئے سماجی رویوں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی
اختر الایمان 12 نومبر 1915ء کو اتر پردیش کے ضلع بجنور کے ایک گاؤں 'قصبہ نجیب آباد' میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی زندگی کافی کٹھن تھی، جس کا عکس ان کی خودنوشت "اس آباد خرابے میں" میں صاف نظر آتا ہے۔ انہوں نے دہلی کے مشہور اینگلو عربک کالج سے تعلیم حاصل کی اور اسی دوران ان کے شعری ذوق کی آبیاری ہوئی۔
فنی خصوصیات اور اسلوب
اختر الایمان کی نظم نگاری کی سب سے بڑی خوبی ان کا ڈرامائی اسلوب ہے۔ وہ اپنی نظموں میں مکالماتی رنگ پیدا کرتے ہیں جس سے قاری خود کو اس منظر کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔
- داخلی مکالمہ: ان کی نظمیں انسان کے اپنے آپ سے مکالمے کی بہترین مثال ہیں۔
- ماضی کی بازیافت: وہ اکثر ماضی کی یادوں اور حال کے تضادات کو ملا کر ایک نئی حقیقت تخلیق کرتے ہیں۔
- غیر روایتی زبان: انہوں نے شاعری کے لیے روایتی 'گل و بلبل' کی زبان کے بجائے روزمرہ کی کھردری اور سچی زبان کو ترجیح دی۔
فلمی خدمات اور اعزازات
اختر الایمان نے بمبئی (ممبئی) کی فلمی صنعت میں بطور مکالمہ نگار ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کی فلمی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد بار نوازا گیا:
- فلم فیئر اعزاز: انہیں 1963ء میں فلم "دھرم پوتر" اور 1966ء میں فلم "وقت" کے بہترین مکالموں کے لیے فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔
- ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ: 1962ء میں ان کے شعری مجموعے "یادیں" پر انہیں بھارت کا معتبر ادبی اعزاز 'ساہتیہ اکیڈمی' عطا کیا گیا۔
وفات اور ادبی مقام
جدید اردو نظم کا یہ معمار 9 مارچ 1996ء کو ممبئی میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہوا۔ ان کے مشہور شعری مجموعوں میں 'گرداب'، 'تاریک سیارہ'، 'یادیں' اور 'بنتِ لمحات' شامل ہیں۔