اختر حسین جعفری

اختر حسین جعفری

اختر حسین جعفری: جدید اردو نظم کا ایک منفرد جمالیاتی لہجہ

اردو نظم کی تاریخ میں اختر حسین جعفری کا نام ایک ایسے شاعر کے طور پر ابھرا جس نے اپنی تخلیقی قوت سے نظم کے کینوس کو نئی وسعتیں عطا کیں۔ وہ جدیدیت کے اس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے روایت سے انحراف کیے بغیر نئے اسالیب اور علامات کو متعارف کروایا۔

پیدائش اور پس منظر

اختر حسین جعفری 1932ء میں بھارت کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور لاہور میں مستقل سکونت اختیار کی۔ انہوں نے تعلیم کی تکمیل کے بعد سرکاری ملازمت اختیار کی، لیکن ان کا اصل اوڑھنا بچھونا ادب اور شاعری ہی رہا۔

ادبی سفر اور اسلوب

اختر حسین جعفری کا شمار حلقہ اربابِ ذوق کے ان اہم ستونوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نظم کو ایک نیا آہنگ دیا۔ ان کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک گہرا بصری اور حسی تجربہ ہے۔

  • منفرد علامات: ان کی نظموں میں رنگوں، روشنیوں اور کائناتی عناصر کا استعمال ایک خاص علامتی نظام کے تحت ملتا ہے۔
  • لفظی مصوری: انہیں لفظوں سے تصویر بنانے کا فن بخوبی آتا تھا، جس کی وجہ سے ان کی نظمیں قاری پر ایک سحر طاری کر دیتی ہیں۔
  • فکری گہرائی: ان کے ہاں انسانی وجود، تنہائی اور وقت کے بدلتے ہوئے دھارے کا گہرا شعور پایا جاتا ہے۔

تصانیف اور اعزازات

ان کی زندگی میں ان کا پہلا شعری مجموعہ "آئینہ خانہ" شائع ہوا جس نے ادبی حلقوں میں بھرپور پذیرائی حاصل کی اور اسے 'آدم جی ادبی انعام' سے بھی نوازا گیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کا دوسرا مجموعہ "جہاں دریا اترتا ہے" سامنے آیا۔ ان کی کلیات "آفاق در آفاق" کے نام سے شائع ہو چکی ہے، جو ان کے فکری ارتقاء کی مکمل عکاس ہے۔

وفات

اردو نظم کا یہ درخشندہ ستارہ 3 جون 1992ء کو لاہور میں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا، لیکن ان کی شاعری آج بھی اپنے اچھوتے پن اور ندرتِ خیال کی وجہ سے زندہ و جاوید ہے۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد