جاں نثار اختر

جاں نثار اختر

جاں نثار اختر: رومان و انقلاب کا سنگم اور نغمہ گو شاعر

اردو ادب اور برصغیر کی فلمی دنیا میں جاں نثار اختر کا نام ایک ایسے تخلیق کار کے طور پر ابھرا جس نے لفظوں کو موسیقی اور جذبات کو زبان عطا کی۔ وہ ترقی پسند تحریک کے روحِ رواں اور اردو غزل کے ایک معتبر لہجے کے مالک تھے۔

پیدائش اور علمی پس منظر

جاں نثار اختر 18 فروری 1914ء کو گوالیار (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک ممتاز ادبی گھرانے سے تھا؛ ان کے والد مضطر خیر آبادی اپنے وقت کے نامور شاعر اور محقق تھے۔ جاں نثار اختر نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، جہاں انہیں مجازؔ، سبطِ حسن اور علی سردار جعفری جیسے جلیل القدر ادیبوں کی رفاقت میسر آئی۔

ادبی سفر اور بمبئی کا رخ

تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے وکٹوریہ کالج گوالیار اور حمیدیہ کالج بھوپال میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔ تاہم، ان کی تخلیقی تڑپ انہیں 1947ء میں بمبئی (ممبئی) لے آئی، جہاں انہوں نے فلمی دنیا میں نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ ان کی نغمہ نگاری محض تجارتی نہیں تھی بلکہ اس میں بھی اعلیٰ ادبی معیار اور غنائیت برقرار رہی۔

فنی خصوصیات اور شعری مجموعے

جاں نثار اختر کی شاعری کے کئی پہلو ہیں:

  • ترقی پسند فکر: وہ انسانی دکھوں اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے شاعر تھے۔
  • خاکِ دل: ان کا یہ مجموعہ کلام اردو ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے، جس پر انہیں 1976ء میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
  • گھر آنگن: جاں نثار اختر نے اس مجموعے کے ذریعے اردو میں 'ثلاثی' (تین مصرعوں کی صنف) کو متعارف کرایا اور گھریلو زندگی و عورت کے تقدس کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا۔
  • دیگر مجموعے: 'نذرِ بتاں'، 'سلاسل'، 'تارِ گریباں' اور 'پچھلے پہر' ان کی شعری ثروت مندی کے گواہ ہیں۔

خاندانی وراثت

ان کی پہلی اہلیہ صفیہ اختر (جو مجازؔ کی بہن تھیں) ایک صاحبِ طرز ادیبہ تھیں۔ ان کے خطوط کا مجموعہ 'زیرِ لب' اردو میں خطوط نگاری کا اہم باب ہے۔ ان کے صاحبزادے جاوید اختر نے اپنے والد کی ادبی اور فلمی وراثت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔

وفات

اردو کا یہ نغمہ نگار اور انقلابی شاعر 19 اگست 1976ء کو ممبئی میں انتقال کر گیا۔ ان کی شاعری آج بھی محبت، سماجی شعور اور انسانیت کے گیت گاتی سنائی دیتی ہے۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد