جمال احسانی: مابعد جدید اردو غزل کا ایک منفرد اور درویش لہجہ
اردو غزل کے معاصر منظر نامے پر جمال احسانی (اصل نام: محمد جمال عثمانی) ایک ایسی آواز بن کر ابھرے جس نے جدید حسیت اور کلاسیکی رچاؤ کے سنگم پر اپنے فن کی بنیاد رکھی۔ انہیں مابعد جدید پاکستانی شعراء میں ان کے انفرادی شعری تجربات اور دھیمے لہجے کی وجہ سے ایک خاص مقام حاصل ہے۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی
جمال احسانی 21 اپریل 1951ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی تعلق ہندوستان کے تاریخی شہر پانی پت سے تھا۔ علمی و ادبی خاندان سے وابستگی نے ان کے مزاج میں وہ نفاست پیدا کی جو بعد میں ان کے کلام کا خاصہ بنی۔ انہوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی، جس کے بعد وہ روزگار کی تلاش میں کراچی منتقل ہو گئے۔
عملی زندگی اور معاشی جدوجہد
کراچی میں ان کی زندگی صحافت اور سرکاری ملازمت کے گرد گھومتی رہی۔ وہ محکمۂ اطلاعات و نشریات (سندھ) سے منسلک رہے اور اس کے ساتھ ساتھ روزنامہ 'حریت'، 'سویرا' اور 'اظہار' جیسے معتبر جریدوں میں معاون مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اپنا ایک پرچہ "رازدار" بھی جاری کیا، مگر افسوس کہ وہ زندگی بھر معاشی پریشانیوں اور کٹھن حالات کا شکار رہے۔
شعری خصوصیات اور تصانیف
جمال احسانی کی شاعری ان کے داخلی کرب اور عصری شعور کا آئینہ دار ہے۔ ان کے ہاں ہجرت کا دکھ، بچھڑ جانے کا ملال اور جدید دور کی تنہائی بڑے سلیقے سے نظم ہوئی ہے۔ ان کے تین شعری مجموعے اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں:
- ستارۂ سفر: ان کا پہلا مجموعہ جس نے ادبی حلقوں میں ان کی شناخت قائم کی۔
- رات کے جاگے ہوئے: اس مجموعے میں ان کے فن کی پختگی اور فکر کی گہرائی نمایاں ہے۔
- تارے کو مہتاب کیا: ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت۔
ادبی مقام اور وفات
جمال احسانی نے غزل کو روایتی مضامین سے نکال کر ایک نئی زندگی عطا کی۔ ان کا یہ شعر ان کی پوری شعری کائنات کی ترجمانی کرتا ہے:
چراغِ شامِ غریباں کی روشنی ہے جمالؔ
میں اپنے نقشِ قدم سے دکھائی دیتا ہوں
اردو غزل کا یہ درویش صفت شاعر 10 فروری 1998ء کو کراچی میں وفات پا گیا۔ ان کی وفات سے اردو غزل ایک ایسے لہجے سے محروم ہو گئی جو خاموشی کے ساتھ بڑے دکھ بیان کرنے کا ہنر جانتا تھا۔