احسان دانش

احسان دانش

احسان دانش: اردو ادب کا 'مزدور شاعر' اور پیکرِ استقامت

اردو شاعری کی تاریخ میں احسان دانش ایک ایسی منفرد شخصیت ہیں جن کی زندگی خود ایک مسلسل جدوجہد اور معجزے کی مانند تھی۔ انہیں "مزدور شاعر" کہا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے زندگی کے تلخ ترین حالات کو نہ صرف جھیلا بلکہ انہیں اپنے فن کے ذریعے امر کر دیا۔

پیدائش اور پس منظر

احسان دانش کا اصل نام احسان الحق تھا۔ وہ 1914ء میں اتر پردیش کے قصبے کاندھلہ (ضلع مظفر نگر) کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد قاضی دانش علی ایک درویش صفت انسان تھے۔ غربت کے باعث وہ باقاعدہ اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکے، مگر ان کے اندر علم و ادب کی جو تڑپ تھی، اس نے انہیں وقت کا بڑا عالم بنا دیا۔

محنت مزدوری اور تعلیمی پیاس

احسان دانش نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سخت جسمانی مشقت میں گزارا۔ انہوں نے اینٹیں ڈھوئیں، چوکیداری کی، باغبانی کی اور ریلوے میں مزدوری بھی کی۔ ایک مشہور واقعہ ہے کہ جس پنجاب یونیورسٹی کی دیواریں انہوں نے بطور مزدور تعمیر کیں، اسی یونیورسٹی میں وہ بعد ازاں بطور ممتحن (Examiner) مدعو کیے گئے۔ ان کی خودنوشت "جہانِ دانش" اردو ادب کی چند بہترین سوانح عمریوں میں شمار ہوتی ہے، جو ان کی زندگی کے نشیب و فراز کی عکاس ہے۔

ادبی خصوصیات اور فکر

احسان دانش کی شاعری کا سرمایہ نظم اور غزل دونوں پر مشتمل ہے، مگر ان کی نظموں نے مظلوم طبقے میں بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

  • طبقاتی بیداری: وہ پہلے شاعر تھے جنہوں نے مزدور کے پسینے کی خوشبو کو غزل کا موضوع بنایا۔
  • سادگی و تاثیر: ان کا لہجہ سادہ مگر دل میں اتر جانے والا تھا۔
  • فطرت نگاری: ان کی شاعری میں دیہات، کھیتوں اور قدرت کے مناظر کے جیتے جاگتے نقشے ملتے ہیں۔

اعزازات اور وفات

حکومتِ پاکستان نے ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں "ستارہ امتیاز" سے نوازا۔ اردو ادب کا یہ 'رشکِ قمر' اور مزدوروں کا ترجمان شاعر 22 مارچ 1982ء کو لاہور میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گیا۔

مزدور کے ماتھے کا پسینہ ہے کہ موتی
دیکھو تو عرق، سمجھو تو تابندہ ستارہ

نظر میں بجلیاں، دل میں تلاطم، لب پہ فریادیں
اسی کو انقلابِ دہر کی تمہید کہتے ہیں


تحریر و ترتیب: یاور ماجد